وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا، وَهُوَ خَلَقَكَ"، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ"، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ"، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا سورة الفرقان آية 68".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بالخصوص جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے“، سائل نے کہا: اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کر دینا کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھانے لگے گا“، سائل نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید میں یہ آیت نازل فرما دی: « ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللّٰهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا﴾ » [الفرقان: 68] ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے، اور کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے جسے قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہو، سوائے حق کے، اور بدکاری نہیں کرتے، جو شخص یہ کام کرے گا وہ سزا سے دو چار ہو گا۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4102]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.