بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 2 از 45
حدیث نمبر: 3568 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، زِيَادُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" النَّدَمُ تَوْبَةٌ"؟ قَالَ: نَعَمْ، وَقَالَ مَرَّةً، سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" النَّدَمُ تَوْبَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا، میرے والد نے پوچھا: کیا آپ نے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت بھی توبہ ہے؟ فرمایا: ہاں! [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3568]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 3569 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، ذَرٍّ ، وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ"، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ، فَقَالَتْ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو خواہ اپنے زیور ہی میں سے کیوں نہ دو، کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو، ایک عورت - جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی - کھڑی ہو کر کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری و نافرمانی بہت کرتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3569]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا سند محتمل للتحسين
الحكم: صحيح لغيره، وهذا سند محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 3570 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَجَدَ السَّجْدَتَيْنِ فِي السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سہو کے دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد کئے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3570]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1226،م: 572
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1226،م: 572
حدیث نمبر: 3571 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلِيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي"، قَالَ عبد الله: قال أَبِي: حَدَّثَنَا بِهِ فِي بَيْتِهِ، فِي غُرْفَتِهِ، أُرَاهُ سَأَلَهُ بَعْضُ وَلَدِ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى، أَوْ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ يَحْيَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آ جائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔ عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہم سے ہمارے والد نے اپنے گھر میں اپنے کمرے میں بیان فرمائی تھی، شاید جعفر بن یحییٰ، یا یحییٰ بن خالد کی اولاد میں سے کسی نے ان سے اس کے متعلق سوال کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3571]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3572 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَنْقَضِي الْأَيَّامُ، وَلَا يَذْهَبُ الدَّهْرُ، حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، اسْمُهُ يُوَاطِئُ اسْمِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دن اور رات کا چکر اور زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک عرب میں میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آ جائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3572]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3573 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا أَوْ قَالَ: لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، وَيُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دن اور رات کا چکر اور زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک عرب میں میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آ جائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3573]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3574 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ: وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، فَلَا أَدْرِي بِأَيِّهَا خَتَمَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ سورة الأعراف آية 185 أَوْ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لا يَرْكَعُونَ سورة المرسلات آية 48؟ سَبَقَتْنَا حَيَّةٌ، فَدَخَلَتْ فِي جُحْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ وُقِيتُمْ شَرَّهَا، وَوُقِيَتْ شَرَّكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی غار میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہوئی جسے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ سے نکلتے ہی یاد کر لیا، ابھی وہ سورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک پر تازہ ہی تھی، مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کون سی آیت ختم کی «‏‏‏‏ ﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾ » ‏‏‏‏ یا «‏‏‏‏ ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ﴾ » ‏‏‏‏ کہ اچانک ایک سانپ نکل آیا اور جلدی سے ایک سوراخ میں گھس گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے شر سے تمہاری اور تمہارے شر سے اس کی بچت ہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3574]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1830، م: 2234
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1830، م: 2234
حدیث نمبر: 3575 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، أَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، حَتَّى قَضَوْا الصَّلَاةَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّهُ قَدْ أُحْدِثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لَا نَتَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سر زمین حبشہ جانے سے پہلے ابتدا میں ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوران نماز سلام کرتے (تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جواب دے دیتے تھے)، لیکن جب ہم نجاشی کے یہاں سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب نہ دیا، اس پر مجھے دور اور نزدیک کے اندیشے ہونے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ جو فیصلہ چاہتا ہے کر لیتا ہے، اس معاملے میں اللہ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم دوران نماز باتیں نہ کیا کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3575]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1199، م: 538
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1199، م: 538
حدیث نمبر: 3576 مسند احمد
سُفْيَانُ ، جَامِعٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَامِعٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ"، وَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لا خَلاقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ سورة آل عمران آية 77.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی معاملے میں قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا مال حاصل کر لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہو گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی تائید کے لئے قرآن کریم کی یہ آیت ہمارے سامنے تلاوت فرمائی: «‏‏‏‏ ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ﴾ [آل عمران: 77] » جو لوگ اللہ کے وعدے اور اپنی قسموں کے بدلے معمولی سی قیمت لے لیتے ہیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا اور اللہ ان سے کلام تک نہیں کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3576]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7445، م: 138
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7445، م: 138
حدیث نمبر: 3577 مسند احمد
سُفْيَانُ ، جَامِعٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَامِعٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمْنَعُ عَبْدٌ زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ لَهُ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتْبَعُهُ، يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ، فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ"، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ مِصْدَاقَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180، قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: يُطَوَّقُهُ فِي عُنُقِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ روک کر رکھتا ہے اس کے مال کو گنجا سانپ بنا دیا جائے گا، وہ اس سے بچ کر بھاگے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے پیچھے ہو گا اور کہے گا کہ میں ہی تیرا خزانہ ہوں، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی تائید میں قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کی: « ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [آل عمران: 180] » عنقریب ان کی گردن میں قیامت کے دن وہ مال و دولت طوق بنا کر ڈالاجائے گا جس میں وہ بخل کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3577]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3578 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَطَاءٍ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً، إِلَّا قَدْ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ نے جو بیماری بھی اتاری ہے، اس کی شفا بھی اتاری ہے، جو جان لیتا ہے سو جان لیتا ہے، اور جو ناواقف رہتا ہے سو ناواقف رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3578]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 3579 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، شِمْرٍ ، مُغِيرَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ، فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جائیداد نہ بنایا کرو، ورنہ تم دنیا ہی میں منہمک ہو جاؤ گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3579]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، المغيرة لم يوثقه غير ابن حبان والعجلي
الحكم: إسناده ضعيف، المغيرة لم يوثقه غير ابن حبان والعجلي
حدیث نمبر: 3580 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ہر دوست کی دوستی سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3580]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2383
الحكم: إسناده صحيح، م: 2383
حدیث نمبر: 3581 مسند احمد
سُفْيَانُ ، سُلَيْمَانُ ، شَقِيقًا ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : سَمِعْتُ شَقِيقًا ، يَقُولُ: كُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ يَخْرُجُ عَلَيْنَا، فَجَاءَنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي النَّخَعِيَّ، قَالَ: فَقَالَ: أَلَا أَذْهَبُ فَأَنْظُرَ؟ فَإِنْ كَانَ فِي الدَّارِ، لَعَلِّي أَنْ أُخْرِجَهُ إِلَيْكُمْ، فَجَاءَنَا، فَقَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيُذْكَرُ لِي مَكَانُكُمْ، فَمَا آتِيكُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ أُمِلَّكُمْ، لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ، كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شقیق کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ مسجد میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری کا انتظار کر رہے تھے، اتنی دیر میں یزید بن معاویہ نخعی آ گئے، وہ کہنے لگے: میں جا کر دیکھوں؟ اگر وہ گھر میں ہوئے شاید میں انہیں آپ کے پاس لا سکوں؟ چنانچہ تھوڑی دیر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں، میں آپ کے پاس صرف اس وجہ سے نہیں آیا کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3581]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6411، م: 2821
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6411، م: 2821
حدیث نمبر: 3582 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَزِيدَ ، أَبِي الْكَنُودِ ، ابنُ مسعود
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْكَنُودِ : أَصَبْتُ خَاتَمًا يَوْمًا، فذكره، فرآه ابنُ مسعود في يده، فقال:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَلَقَةِ الذَّهَبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالکنود کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے اپنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس پر نگاہ پڑ گئی، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونے کے چھلے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3582]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف منقطع، يزيد ضعيف ، ولم يسمع من أبى الكنود
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف منقطع، يزيد ضعيف ، ولم يسمع من أبى الكنود
حدیث نمبر: 3583 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ : انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَّتَيْنِ، حَتَّى نَظَرُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْهَدُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور سب لوگوں نے اسے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: گواہ رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3583]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3636، م: 2800
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3636، م: 2800
حدیث نمبر: 3584 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ،" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ سِتُّونَ وَثَلَاثُ مِائَةِ نُصُبٍ، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ سورة سبأ آية 49، جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا سورة الإسراء آية 81.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے، اس وقت خانہ کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی انہیں چبھوتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے: « ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ﴾ [سبأ: 49] » حق آ گیا اور باطل کسی چیز کو نہ پیدا کر سکتا ہے اور نہ لوٹا کر لا سکتا ہے، نیز یہ کہ « ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [الإسراء: 81] » حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا، بےشک باطل تو بھاگنے والا ہے ہی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3584]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2478، م : 1781
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2478، م : 1781
حدیث نمبر: 3585 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَحْيَى الْجَابِرَ ، أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: وَلَيْسَ مِنْهَا مَنْ يَقْدُمُهَا، وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانُ: سَمِعْتُ يَحْيَى الْجَابِرَ ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ، فَقَالَ:" مَتْبُوعَةٌ، وَلَيْسَتْ بِتَابِعَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی نے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کو متبوع ہونا چاہئے نہ کہ تابع (جنازے کو آگے اور چلنے والوں کو اس کے پیچھے ہونا چاہئے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3585]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد الحنفي وضع يحيى الجابر
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد الحنفي وضع يحيى الجابر
حدیث نمبر: 3586 مسند احمد
حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، قَالَ: فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوهَا"، فَابْتَدَرْنَاهَا، فَسَبَقَتْنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے میدان میں تھے کہ اچانک ایک سانپ نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو، ہم جلدی سے اس کی طرف بڑھے لیکن وہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3586]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1830، م : 2234
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1830، م : 2234
حدیث نمبر: 3587 مسند احمد
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ ، الْأَعْمَشَ ، شَقِيقٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِي عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَخْرُجُ إِلَيْنَا، فَيَقُولُ: إِنَِّي لَأُخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ، وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ، كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شقیق کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں، میں آپ کے پاس صرف اس وجہ سے نہیں آیا کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3587]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6411، م: 2821
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6411، م: 2821