بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 22 از 45
حدیث نمبر: 3968 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ، فَقَالَ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: بَلْ هَذَذْتَ كَهَذِّ الشِّعْرِ، أَوْ كَنَثْرِ الدَّقَلِ، لَكِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفْعَلْ كَمَا فَعَلْتَ، كَانَ" يَقْرَأُ النُّظُرَ الرَّحْمَنَ، وَالنَّجْمَ، فِي رَكْعَةٍ"، قَالَ: فَذَكَرَ أَبُو إِسْحَاقَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ، بِعِشْرِينَ سُورَةً عَلَى تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ، آخِرُهُنَّ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، وَالدُّخَانُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) - جس کا نام نہیک بن سنان تھا - سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گھٹیا اشعار کی طرح؟ یا ردی قسم کی نثر کی طرح؟ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسا نہیں کرتے تھے بلکہ ایک جیسی سورتوں مثلا سورہ رحمان اور سورہ نجم کو ایک رکعت میں پڑھ لیتے تھے، پھر ابواسحاق نے دس رکعتوں کا بیس سورتوں کے ساتھ تذکرہ کیا، اور اس سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مصحف کے مطابق مفصلات کی ابتدائی بیس سورتیں مراد ہیں، جن کا اختتام سورہ تکویر اور سورہ دخان پر ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3968]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، زهير بن معاوية - وإن سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد الاختلاط - متابع، وأبو إسحاق لم يسمع من علقمة النخعي، لكنه متابع بالأسود بن يزيد، وقد سمع منه.
الحكم: حديث صحيح، زهير بن معاوية - وإن سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد الاختلاط - متابع، وأبو إسحاق لم يسمع من علقمة النخعي، لكنه متابع بالأسود بن يزيد، وقد سمع منه.
حدیث نمبر: 3969 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِجَمْعٍ، فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ، كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ، وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا، وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ، أَوْ قَالَ: حِينَ قَالَ قَائِلٌ: طَلَعَ الْفَجْرُ، وَقَالَ قَائِلٌ: لَمْ يَطْلُعْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ، لاَ يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا، وَصَلاَةُ الْفَجْرِ هَذِهِ السَّاعَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ کے میدان میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے دو نمازیں پڑھیں، ہر نماز تنہا ایک اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کھانا بھی کھایا، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھی جب طلوع فجر ہو گئی (یا راوی نے یہ کہا کہ بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ صبح صادق ہو گئی ہے اور بعض کہہ رہے تھے کہ ابھی نہیں ہوئی) پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ صرف اس جگہ پر ان دو نمازوں کا وقت بدل دیا گیا ہے، لوگ مزدلفہ میں رات کے وقت آتے ہیں اور فجر کی نماز اس وقت پڑھی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3969]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1683.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1683.
حدیث نمبر: 3970 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 0 إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ 0".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس طرح پڑھائی تھی: « ﴿إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ﴾ » [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3970]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3971 مسند احمد
يَحْيَى ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11، قَالَ:" رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ، قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس ارشاد باری تعالیٰ: «‏‏‏‏ ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى﴾ » ‏‏‏‏ [النجم: 11] دل نے جھوٹ نہیں بولا جو دیکھا کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو باریک ریشمی حلے میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان و زمین کے درمیان تمام حصے کو پر کر رکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3971]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3972 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، وَعَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ" يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رُكُوعٍ وَسُجُودٍ، وَرَفْعٍ وَوَضْعٍ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، وَيُسَلِّمُونَ عَلَى أَيْمَانِهِمْ وَشَمَائِلِهِمْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہر مرتبہ جھکتے اٹھتے، کھڑے اور بیٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے، اور دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3972]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3973 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، وأَبي عُبَيْدَة ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، وأَبي عُبَيْدَة ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ:" الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، وَلَوْ اسْتَزَدْتُ لَزَادَنِي، قَالَ حُسَيْنٌ: اسْتَزَدْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک، اللہ کے راستے میں جہاد، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3973]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 527، م: 85، أبو عبيدة - وإن لم يسمع من أبيه ابن مسعود - متابع.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 527، م: 85، أبو عبيدة - وإن لم يسمع من أبيه ابن مسعود - متابع.
حدیث نمبر: 3974 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَلْقَمَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ ، سَعْدًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَمْلَاهُ عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ،" فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ رَكَعَ وَطَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ، فَبَلَغَ سَعْدًا ، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ، ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا، وَأَخَذَ بِرُكْبَتَيْهِ". حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ... هَكَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز سکھاتے ہوئے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا، پھر رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں کو جوڑ کر گھٹنوں کے درمیان کر لیا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ میرے بھائی نے سچ کہا ہے، ہم پہلے اسی طرح کرتے تھے لیکن بعد میں ہمیں گھٹنے پکڑنے کا حکم دے دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3974]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 534.
الحكم: إسناده صحيح، م: 534.
حدیث نمبر: 3975 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لَا أَدْرِي زَادَ، أَوْ نَقَصَ، ثُمَّ سَلَّمَ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس میں کچھ کمی ہو گئی یا بیشی؟ بہرحال! جب سلام پھیرا تو سہو کے دو سجدے کر لئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3975]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 572.
الحكم: إسناده صحيح، م: 572.
حدیث نمبر: 3976 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، حُصَيْنٍ ، كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ" لَبَّى لَيْلَةَ جَمْعٍ، ثُمَّ قَالَ: هَاهُنَا رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ" يُلَبِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ مزدلفہ سے واپسی پر تلبیہ پڑھتے رہے اور فرمایا: جس ذات پر سورہ بقرہ کا نزول ہوا میں نے اسی ذات کو اس مقام پر تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3976]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1283.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1283.
حدیث نمبر: 3977 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرِ التَّيْمِيِّ ، أَبِي الْمَاجِدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمَاجِدِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، وَأَنْشَأَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ رَجُلٍ قُطِعَ فِي الإِسْلَامِ أَوْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا سَرَقَ، فَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَادًا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْ يَقُولُ: مَالَكَ؟، فَقَالَ:" وَمَا يَمْنَعُنِي؟ وَأَنْتُمْ أَعْوَانُ الشَّيْطَانِ عَلَى صَاحِبِكُمْ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ، وَلَا يَنْبَغِي لِوَالِي أَمْرٍ أَنْ يُؤْتَى بِحَدٍّ إِلَّا أَقَامَهُ، ثُمَّ قَرَأَ: وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22"، قَالَ يَحْيَى: أَمْلَاهُ عَلَيْنَا سُفْيَانُ إِمْلَاءً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوماجد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص اپنا ایک بھتیجا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا، اور کہنے لگا کہ یہ میرا بھتیجا ہے اور اس نے شراب پی رکھی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسلام میں سب سے پہلے ایک آدمی ہاتھ کاٹا گیا تھا، جس نے چوری کی تھی، لوگ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے چوری کی ہے، جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ اڑ گیا، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہوا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کے متعلق شیطان کے مددگار ثابت ہوئے، جبکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند فرماتا ہے، اور کسی حاکم کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس کے پاس حد کا کوئی مقدمہ آئے اور وہ اسے نافذ نہ کرے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ » [النور: 22] انہیں معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے تھا، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3977]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيي بن عبدالله الجابر ولجهالة أبى الماجد.
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيي بن عبدالله الجابر ولجهالة أبى الماجد.
حدیث نمبر: 3978 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، يَحْيَى الْجَابِرِ ، أَبِي الْمَاجِدِ الْحَنَفِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى الْجَابِرِ ، عَنْ أَبِي الْمَاجِدِ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ، فَقَالَ:" السَّيْرُ دُونَ الْخَبَبِ، فَإِنْ يَكُ خَيْرًا تُعْجَلْ إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ، فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ، الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ تَقَدَّمَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ رفتار جو دوڑنے کے زمرے میں نہ آتی ہو، اگر وہ نیکوکار رہا ہو گا تو اس کے اچھے انجام کی طرف اسے جلد لے جایا جا رہا ہو گا، اور اگر وہ ایسا نہ ہوا تو اہل جہنم کو دور ہی ہو جانا چاہئے، اور جنازہ کو متبوع ہونا چاہئے نہ کہ تابع (جنازے کو آگے اور چلنے والوں کو اس کے پیچھے ہونا چاہئے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3978]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد الحنفي، وضعف يحيى الجابر.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد الحنفي، وضعف يحيى الجابر.
حدیث نمبر: 3979 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا، وَمَا تُقَامُ الصَّلَاةُ حَتَّى تَكَامَلَ بِنَا الصُّفُوفُ،" فَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلاَءِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے وہ وقت دیکھا ہے کہ جب تک ہماری صفیں مکمل نہیں ہوتی تھیں، نماز کھڑی نہیں ہوتی تھی اس لئے جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ کل قیامت کے دن اللہ سے اس کی ملاقات اسلام کی حالت میں ہو تو اسے ان فرض نمازوں کی پابندی کرنی چاہئے جب بھی ان کی طرف پکارا جائے، کیونکہ یہ سنن ہدی میں سے ہیں اور اللہ نے تمہاے پیغمبر کے لئے سنن ہدی کو مشروع قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3979]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله النخعي، وهو متابع.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله النخعي، وهو متابع.
حدیث نمبر: 3980 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَكِيعٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مَعْدِي كَرِبَ ، عَبْدَ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ: أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَقْرَأَ عَلَيْنَا طسم الْمِائَتَيْنِ، فَقَالَ: مَا هِيَ مَعِي، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ مَنْ أَخَذَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ، قَالَ: فَأَتَيْنَا خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ، فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معدی کرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے سورہ طسم - جو دو سو آیات پر مشتمل ہے - سنانے کی فرمائش کی، وہ کہنے لگے کہ یہ سورت مجھے یاد نہیں ہے، البتہ تم ان صاحب کے پاس چلے جاؤ جنہوں نے اسے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یاد اور حاصل کیا ہے، یعنی سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ، چنانچہ ہم سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے ہمیں وہ سورت پڑھ کر سنائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3980]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، معديكرب الهمداني العبدي لم يرو عنه إلا أبو إسحاق ، وذكره ابن حبان في الثقات : 458/5 ، ولم يوثر توثيقه عن غيره.
الحكم: إسناده ضعيف ، معديكرب الهمداني العبدي لم يرو عنه إلا أبو إسحاق ، وذكره ابن حبان في الثقات : 458/5 ، ولم يوثر توثيقه عن غيره.
حدیث نمبر: 3981 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةً مِنَ الثَّلَاثِينَ، مِنْ آلِ حم، قال: يَعْنِي الأَحْقَافَ، قَالَ: وَكَانَتْ السُّورَةُ إِذَا كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ آيَةً سُمِّيَتْ الثَّلَاثِينَ، قَالَ: فَرُحْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَؤُهَا عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأَنِي، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ؟ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْتُ لآخَرَ: اقْرَأْهَا، فَقَرَأَهَا عَلَى غَيْرِ قِرَاءَتِي وَقِرَاءَةِ صَاحِبِي، فَانْطَلَقْتُ بِهِمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَيْنِ يُخَالِفَانِي فِي الْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: فَغَضِبَ، وَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ، وَقَالَ:" إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الِاخْتِلاَفُ"، قَالَ: قَالَ زِرٌّ: وَعِنْدَهُ رَجُلٌ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا أُقْرِئَ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الِاخْتِلاَفُ، قال: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلاَ أَدْرِي أَشَيْئًا أَسَرَّهُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَلِمَ مَا فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: وَالرَّجُلُ هُوَ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سورہ احقاف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ ایک مختلف طریقے سے قرأت کر رہا تھا، دوسرا آدمی دوسرے طریقے سے اسے پڑھ رہا تھا جو اس کے ساتھی سے مختلف تھا، اور میں اسے تیسرے طریقے سے پڑھ رہا تھا جس پر وہ دونوں پڑھ رہے تھے، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے اور انہیں اس کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غصہ آیا، چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، اور فرمایا: اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔ زر کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، وہ کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص قرآن کی تلاوت اسی طرح کیا کرے جیسے اسے پڑھایا گیا ہے، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو اختلاف ہی نے ہلاک کیا تھا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ یہ چیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی سے بیان فرمائی تھی یا انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دل کی بات معلوم ہو گئی؟ اور راوی نے بتایا کہ وہ آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3981]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3982 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، بَشِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيلَ ، سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ ، طَارِقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَخْبَرَنَا بَشِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، تَسْلِيمُ الرَّجُلِ عَلَيْكَ، فَقُلْتَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ تَسْلِيمُ الْخَاصَّةِ، وَتَفْشُو التِّجَارَةُ، حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ، وَتُقْطَعُ الْأَرْحَامُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب نے ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن! ایک آدمی نے آپ کو سلام کیا اور آپ نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے قریب سلام مخصوص ہو جائے گا، تجارت اتنی پھیل جائے گی کہ بیوی شوہر کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹائے گی، اور رشتہ داریاں ختم ہوجائیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3982]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وقوله: سيار أبو الحكم. خطأ، صوابه: سيار أبو حمزة، والإمام أحمد نفسه نبه على هذا الخطأ في: العدل برقم: 588 .
الحكم: إسناده حسن، وقوله: سيار أبو الحكم. خطأ، صوابه: سيار أبو حمزة، والإمام أحمد نفسه نبه على هذا الخطأ في: العدل برقم: 588 .
حدیث نمبر: 3983 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّهْشَلِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّهْشَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: لاَ، قَالُوا: فَإِنَّكَ صَلَّيْتَ خَمْسًا؟ قَالَ:" فَسَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ، وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر یا عصر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا نماز کی رکعتوں میں اضافہ ہو گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لوگوں نے کہا کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کر لئے اور فرمایا کہ میں بھی انسان ہوں، جیسے تم بات یاد رکھتے ہو میں بھی یاد رکھتا ہوں، اور جیسے تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3983]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 572.
الحكم: إسناده صحيح، م: 572.
حدیث نمبر: 3984 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، الشَّيْبَانِيُّ ، الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ حَيَّةً، فَلَهُ سَبْعُ حَسَنَاتٍ، وَمَنْ قَتَلَ وَزَغًا، فَلَهُ حَسَنَةٌ، وَمَنْ تَرَكَ حَيَّةً مَخَافَةَ عَاقِبَتِهَا فَلَيْسَ مِنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی سانپ کو مارے اسے سات نیکیاں ملیں گی، جو کسی مینڈک کو مارے اسے ایک نیکی ملے گی، اور جو سانپ کو ڈر کی وجہ سے نہ مارے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3984]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، المسيب بن رافع لم يلق ابن مسعود قوله: من قتل وزغا.... له شاهد من حديث أبى هريرة عند مسلم: 2240، وقوله: من ترك حية ...... له شاهد من حديث ابن عباس تقدم برقم: 3254 بإسناد صحيح.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، المسيب بن رافع لم يلق ابن مسعود قوله: من قتل وزغا.... له شاهد من حديث أبى هريرة عند مسلم: 2240، وقوله: من ترك حية ...... له شاهد من حديث ابن عباس تقدم برقم: 3254 بإسناد صحيح.
حدیث نمبر: 3985 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، أَشْعَثُ ، كُرْدُوسٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ كُرْدُوسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: مَرَّ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ خَبَّابٌ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلاَلٌ، وَعَمَّارٌ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، أَرَضِيتَ بِهَؤُلَاءِ؟" فَنَزَلَ فِيهِمْ الْقُرْآنُ: وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَى قَوْلِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ سورة الأنعام آية 51 - 58".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرداران قریش کا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گزر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سیدنا خباب، سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوئے تھے، سرداران قریش انہیں دیکھ کر کہنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا آپ ان لوگوں پر ہی خوش ہو؟ اس پر قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَى رَبِّهِمْ . . . . . وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ﴾ » ‏‏‏‏ [الأنعام: 51-58] اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈراؤ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف (لے جا کر) اکٹھے کیے جائیں گے، . . . . . اور اللہ ظالموں کو زیادہ جاننے والا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3985]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضف أشعث الكندي.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضف أشعث الكندي.
حدیث نمبر: 3986 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَسْتَخْصِي؟" فَنَهَانَا عَنْهُ، ثُمَّ رُخِّصَ لَنَا بَعْدُ فِي أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ"، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ سورة المائدة آية 87".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک مخصوص وقت کے لئے کپڑوں کے عوض بھی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دے دی تھی، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ » [المائدة: 87] اے اہل ایمان! اللہ نے تمہارے لئے جو پاکیزہ چیزیں حلال کر رکھی ہیں تم انہیں حرام نہ کرو، اور حد سے تجاوز نہ کرو، کیونکہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3986]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5075، م: 1404.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5075، م: 1404.
حدیث نمبر: 3987 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ: تَحَدَّثْنَا لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، غَدَوْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ بِأُمَمِهَا، وَأَتْبَاعُهَا مِنْ أُمَمِهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الْعِصَابَةُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ النَّفَرُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَالنَّبِيُّ مَا مَعَهُ أَحَدٌ، حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبُونِي، قُلْتُ: يَا رَبِّ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: هَذَا أَخُوكَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قُلْتُ: يَا رَبِّ، فَأَيْنَ أُمَّتِي؟ قَالَ: انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ، فَإِذَا الظِّرَابُ ظِرَابُ مَكَّةَ، قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَبِّ؟ قَالَ: أُمَّتُكَ، قُلْتُ: رَضِيتُ رَبِّ، قَالَ: أَرَضِيتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ، قَالَ: فَنَظَرْتُ، فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ، فَقَالَ: رَضِيتَ؟ قُلْتُ: رَضِيتُ، قِيلَ: فَإِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، لَا حِسَابَ عَلَيهُمْ"، فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، أَحَدُ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ"، ثُمَّ أَنْشَأُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں دیر تک باتیں کرتے رہے، جب صبح کو حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آج رات میرے سامنے مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کو ان کی امتوں کے ساتھ پیش کیا گیا، چنانچہ ایک نبی گزرے تو ان کے ساتھ صرف تین آدمی تھے، ایک نبی گزرے تو ان کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت تھی، ایک نبی گزرے تو ان کے ساتھ ایک گروہ تھا، اور کسی نبی کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا، حتی کہ میرے پاس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا گزر ہوا جن کے ساتھ بنی اسرائیل کی بہت بڑی تعداد تھی، جسے دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور میں نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کے لوگ ہیں، میں نے پوچھا کہ پھر میری امت کہاں ہے؟ مجھ سے کہا گیا کہ اپنی دائیں جانب دیکھئے، میں نے دائیں جانب دیکھا تو ایک ٹیلہ لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا نظر آیا، پھر مجھ سے کہا گیا کہ اپنی بائیں جانب دیکھئے، میں نے بائیں جانب دیکھا تو افق لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا نظر آیا، پھر مجھ سے کہا گیا: کیا آپ راضی ہیں؟ میں نے کہا: پروردگار! میں راضی ہوں، میں خوش ہوں، پھر مجھ سے کہا گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار ایسے بھی ہوں گے جو بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسے بھی ان میں شامل فرما، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شال کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3987]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، علته عنعنة الحسن البصري، فإنه لم يسمع من عمران بن حصين.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، علته عنعنة الحسن البصري، فإنه لم يسمع من عمران بن حصين.