بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3977
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3977
حدیث نمبر: 3977 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرِ التَّيْمِيِّ ، أَبِي الْمَاجِدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمَاجِدِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، وَأَنْشَأَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ رَجُلٍ قُطِعَ فِي الإِسْلَامِ أَوْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا سَرَقَ، فَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَادًا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْ يَقُولُ: مَالَكَ؟، فَقَالَ:" وَمَا يَمْنَعُنِي؟ وَأَنْتُمْ أَعْوَانُ الشَّيْطَانِ عَلَى صَاحِبِكُمْ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ، وَلَا يَنْبَغِي لِوَالِي أَمْرٍ أَنْ يُؤْتَى بِحَدٍّ إِلَّا أَقَامَهُ، ثُمَّ قَرَأَ: وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22"، قَالَ يَحْيَى: أَمْلَاهُ عَلَيْنَا سُفْيَانُ إِمْلَاءً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوماجد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص اپنا ایک بھتیجا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا، اور کہنے لگا کہ یہ میرا بھتیجا ہے اور اس نے شراب پی رکھی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسلام میں سب سے پہلے ایک آدمی ہاتھ کاٹا گیا تھا، جس نے چوری کی تھی، لوگ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے چوری کی ہے، جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ اڑ گیا، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہوا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کے متعلق شیطان کے مددگار ثابت ہوئے، جبکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند فرماتا ہے، اور کسی حاکم کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس کے پاس حد کا کوئی مقدمہ آئے اور وہ اسے نافذ نہ کرے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ » [النور: 22] انہیں معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے تھا، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3977]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيي بن عبدالله الجابر ولجهالة أبى الماجد.
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيي بن عبدالله الجابر ولجهالة أبى الماجد.
← پچھلی حدیث (3976) باب پر واپس اگلی حدیث (3978) →