بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 5 از 45
حدیث نمبر: 3628 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ... مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3628]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6308، م: 2744
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6308، م: 2744
حدیث نمبر: 3629 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، والأعمش ، عُمَارَةَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ والأعمش ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَا: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ فِي أَصْلِ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ وَقَعَ عَلَى أَنْفِهِ"، فَقَالَ بِهِ هَكَذَا، فَطَارَ. قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ، مِنْ رَجُلٍ خَرَجَ بِأَرْضٍ دَوِّيَّةٍ ثُمَّ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدِيثَيْنِ: أَحَدَهُمَا عَنْ نَفْسِهِ، وَالْآخَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْلَكَةٍ، مَعَهُ رَاحِلَتُهُ، عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ، فَأَضَلَّهَا، فَخَرَجَ فِي طَلَبِهَا، حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، قَالَ: أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي أَضْلَلْتُهَا فِيهِ، فَأَمُوتُ فِيهِ، قَالَ: فَرَجَعَ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، فَاسْتَيْقَظَ، فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مومن اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے کہ گویا وہ کسی پہاڑ کی کھوہ میں ہو اور اسے اندیشہ ہو کہ کہیں پہاڑ اس پر گر نہ پڑے، اور فاجر آدمی اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی بیٹھ گئی ہو، اس نے اسے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو سفر کے دوران کسی سنسان اور مہلک علاقے سے گزرے، اس کے ساتھ سواری بھی ہو جس پر اس کا کھانا پینا ہو، زاد راہ ہو اور ضرورت کی چیزیں ہوں اور وہ اچانک گم ہو جائیں، وہ ان کی تلاش میں نکلے اور جب اسے محسوس ہو کہ اب اس کی موت کا وقت قریب ہے لیکن سوای نہ ملے تو وہ اپنے دل میں کہے کہ میں اسی جگہ واپس چلتا ہوں جہاں سے اونٹنی گم ہوئی تھی، وہیں جا کر مروں گا، چنانچہ وہ اپنی جگہ آ جائے، وہاں پہنچ کر اسے نیند آ جائے، جب وہ بیدار ہو تو اس کی سواری اس کے سرہانے کھڑی ہوئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا، زاد راہ اور ضرورت کی تمام چیزیں بھی موجود ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3629]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، وهما مكرر ما قبلهما
الحكم: إسناداه صحيحان، وهما مكرر ما قبلهما
حدیث نمبر: 3630 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا، إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، لِأَنَّهُ كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا میں جو بھی ناحق قتل ہوتا ہے، اس کا گناہ حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) کو بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل کا رواج اسی نے ڈالا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3630]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3335، م: 1677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3335، م: 1677
حدیث نمبر: 3631 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، وَيَحْيَى ، الْأَعْمَشِ ، عُمَارَةُ ، الْأَسْوَدُ ، عُمَارَةَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وَيَحْيَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ الْمَعْنَى، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : لَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا، لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ" أَكْثَرَ انْصِرَافِهِ لَعَلَى يَسَارِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص شیطان کو اپنی ذات پر ایک حصہ کے برابر بھی قدرت نہ دے اور یہ نہ سمجھے کہ اس کے ذمے دائیں طرف سے ہی واپس جانا ضروری ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3631]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 852، م: 707
الحكم: إسناده صحيح، خ: 852، م: 707
حدیث نمبر: 3632 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلَاءِ الْأَسْرَى؟" قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْمُكَ وَأَهْلُكَ، اسْتَبْقِهِمْ، وَاسْتَأْنِ بِهِمْ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْرَجُوكَ وَكَذَّبُوكَ، قَرِّبْهُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ، قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْظُرْ وَادِيًا كَثِيرَ الْحَطَبِ، فَأَدْخِلْهُمْ فِيهِ، ثُمَّ أَضْرِمْ عَلَيْهِمْ نَارًا، قَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ: قَطَعْتَ رَحِمَكَ، قَالَ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا، قَالَ: فَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ، وَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ، وَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، قَالَ: فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَيُلِينُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ، حَتَّى تَكُونَ أَلْيَنَ مِنَ اللَّبَنِ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيَشُدُّ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ، حَتَّى تَكُونَ أَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَةِ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي، وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة إبراهيم آية 36، وَمَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى، قَالَ: إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ نُوحٍ، قَالَ: رَبِّ لا تَذَرْ عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا سورة نوح آية 26، وَإِنَّ مِثْلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ مُوسَى، قَالَ: رَبِّ اشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوْا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ، أَنْتُمْ عَالَةٌ، فَلَا يَنْفَلِتَنَّ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا بِفِدَاءٍ، أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ، فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الْإِسْلَامَ، قَالَ: فَسَكَتَ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ، أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى قَالَ:" إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ"، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة الأنفال آية 67 - 68.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ بدر ہو چکا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ ان قیدیوں کے بارے تمہاری کیا رائے ہے؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ آپ ہی کی قوم اور گھرانے کے لوگ ہیں، انہیں زندہ رہنے دیجئے اور ان سے مانوس ہونے کی کوشش کیجئے، شاید اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو جائے، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان لوگوں نے آپ کو نکالا اور آپ کی تکذیب کی، انہیں قریب بلا کر ان کی گردنیں اتار دیجئے، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! کوئی ایسی وادی تلاش کیجئے جہاں لکڑیاں زیادہ ہوں، انہیں اس وادی میں داخل کر کے ان لکڑیوں کو آگ لگا دیں، اس پر عباس کہنے لگے کہ تم نے رشتہ داری کو ختم کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی جواب دیئے بغیر اندر چلے گئے۔ کچھ لوگ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل کریں گے، کچھ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور کچھ نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی رائے کو ترجیح دیئے جانے کی رائے ظاہر کی، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے معاملے میں بعض لوگوں کے دلوں کو نرم کر دیتا ہے حتی کہ وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں، اور بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا سخت کر دیتے ہیں کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں، اور ابوبکر! آپ کی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا: جو میری پیروی کرے گا وہ مجھ سے ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا تو آپ بڑے بخشنے والے مہربان ہیں، اور ابوبکر! آپ کی مثال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا: اگر آپ انہیں سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور اگر آپ انہیں معاف کر دیں تو آپ بڑے غالب، حکمت والے ہیں، اور عمر! تمہاری مثال حضرت نوح علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا: پروردگار! زمین پر کافروں کا کوئی گھر بھی باقی نہ چھوڑ، اور عمر! تمہاری مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے دعا کی تھی: پروردگار! ان کے دلوں کو سخت کر دے تاکہ یہ ایمان ہی نہ لا سکیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں۔ تم لوگ ضرورت مند ہو اور ان میں سے کوئی شخص فدیہ یا قتل کے بغیر واپس نہیں جائے گا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے منہ سے نکل گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! سوائے سہیل بن بیضاء کے، کیونکہ میں نے انہیں اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہو گئے، مجھے اس دن سے زیادہ کبھی اس بات کا خوف محسوس نہیں ہوا کہ کہیں آسمان سے مجھ پر کوئی پتھر نہ گر پڑے، یہاں تک کہ خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی فرما دیا: سوائے سہیل بن بیضاء کے، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللّٰهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ o لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [الأنفال: 67-68] » نبی کے لئے یہ بات مناسب نہ تھی کہ اپنے پاس قیدی رکھیں، یہاں تک کہ زمین میں خون ریزی نہ کر لیں، تم دنیا کا ساز و سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ بڑا غالب، حکمت والا ہے، اگر اللہ کے یہاں پہلے سے فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو تمہارے فدیہ لینے کے معاملے میں تم پر بڑا سخت عذاب آ جاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3632]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله
حدیث نمبر: 3633 مسند احمد
مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ"، وَقَالَ فِي قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ: قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِتْرَتُكَ وَأَصْلُكَ وَقَوْمُكَ، تَجَاوَزْ عَنْهُمْ، يَسْتَنْقِذْهُمْ اللَّهُ بِكَ مِنَ النَّارِ، قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْتَ بِوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ، فَأَضْرِمْهُ نَارًا، ثُمَّ أَلْقِهِمْ فِيهِ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: قَطَعَ اللَّهُ رَحِمَكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3633]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، وهو مكرر ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 3634 مسند احمد
حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، الْأَعْمَشِ
حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْدَاءُ اللَّهِ، كَذَّبُوكَ، وَآذَوْكَ، وَأَخْرَجُوكَ، وَقَاتَلُوكَ، وَأَنْتَ بِوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ، فَاجْمَعْ لَهُمْ حَطَبًا كَثِيرًا، ثُمَّ أَضْرِمْهُ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: سَهْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3634]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو مكرر ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 3635 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْحَجَّاجُ ، زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَعَلَ الدِّيَةَ فِي الْخَطَإِ أَخْمَاسًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قتل خطا کی دیت پانچ حصوں پر تقسیم کر کے مقرر فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3635]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، و خشف مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، و خشف مجهول
حدیث نمبر: 3636 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ، وَلَا بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَلَا التَّمْرَتَانِ، وَلَا اللُّقْمَةُ وَلَا اللُّقْمَتَانِ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گلی گلی پھرنے والا، ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لے کر لوٹنے والا مسکین نہیں ہوتا، اصل مسکین وہ عفیف آدمی ہوتا ہے جو لوگوں سے نہ کچھ مانگتا ہے اور نہ ہی لوگوں کو اپنے ضرورت مند ہونے کا احساس ہونے دیتا ہے کہ کوئی اسے خیرات دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3636]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف للين إبراهيم الهجري
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف للين إبراهيم الهجري
حدیث نمبر: 3637 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا، إِلَّا صَلَاتَيْنِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، وَصَلَاةَ الْفَجْرِ يَوْمَئِذٍ، قَبْلَ مِيقَاتِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی بےوقت نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ مزدلفہ میں مغرب اور عشا کو اور اسی دن کی فجر کو اپنے وقت سے آگے پیچھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3637]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1682، م: 1289
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1682، م: 1289
حدیث نمبر: 3638 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ، وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَذَّابًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سچائی کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی راہ دکھاتی ہے اور انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کی راہ دکھاتا ہے اور انسان مسلسل جھوٹ بولتا اور اسی میں غور و فکر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3638]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6094، م: 2607
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6094، م: 2607
حدیث نمبر: 3639 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَلَأُنَازَعَنَّ أَقْوَامًا، ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا جائے گا اور میں مغلوب ہو جاؤں گا، میں عرض کروں گا: پروردگار! میرے ساتھی؟ ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3639]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6576 ، م: 2297
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6576 ، م: 2297
حدیث نمبر: 3640 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ، وَتَرَوْنَ أَثَرَةً"، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا يَصْنَعُ مَنْ أَدْرَكَ ذَاكَ مِنَّا؟ قَالَ:" أَدُّوا الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب تم میرے بعد ترجیحات اور ناپسندیدہ امور دیکھو گے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے تو کیا کرے؟ فرمایا: اپنے اوپر واجب ہونے والے حقوق ادا کرتے رہو اور اپنے حقوق کا اللہ سے سوال کرتے رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3640]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7052 ، م : 1843
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7052 ، م : 1843
حدیث نمبر: 3641 مسند احمد
يَحْيَى ، سُلَيْمَانَ ، زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ
(حديث مرفوع) سَمِعْت يَحْيَى ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا"، قَالَ: قُلْنَا: مَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ:" أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب تم میرے بعد ترجیحات اور ناپسندیدہ امور دیکھو گے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے تو کیا کرے؟ فرمایا: اپنے اوپر واجب ہونے والے حقوق ادا کرتے رہو اور اپنے حقوق کا اللہ سے سوال کرتے رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3641]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7052، م: 1843
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7052، م: 1843
حدیث نمبر: 3642 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِابْنِ النَّوَّاحَةِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ"، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَسْتَ بِرَسُولٍ، يَا خَرَشَةُ، قُمْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن نواحہ سے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تیرے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا، آج تو قاصد نہیں ہے، خرشہ! اٹھ اور اس کی گردن اڑا دے، چنانچہ خرشہ نے اٹھ کر اس کی گردن اڑا دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3642]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3643 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، أَبِي قَتَادَةَ ، يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرَى إِلَّا: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، جَاءَتْ السَّاعَةُ! قَالَ: وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ، حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ، وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ، قَالَ: عَدُوًّا يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: جَاءَهُمْ الصَّرِيخُ: أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَ فِي ذَرَارِيِّهِمْ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ، فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ، وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ، وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ، هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهَرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ"، أَوْ قَالَ" هُمْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهَرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یسیر بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی، ایک آدمی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جس کی پکار صرف یہی تھی کہ اے عبداللہ بن مسعود! قیامت قریب آ گئی؟ اس وقت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، یہ سن کر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میراث کی تقسیم رک نہ جائے اور مال غنیمت پر کوئی خوشی نہ ہو، ایک دشمن ہو گا جو اہل اسلام کے لئے اپنی جمعیت اکٹھی کرے گا اور اہل اسلام ان کے لئے اپنی جمعیت اکٹھی کریں گے . . . . .، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا کہ ایک چیخنے والا آئے گا اور کہے گا کہ ان کے پیچھے دجال ان کی اولاد میں گھس گیا، چنانچہ وہ لوگ یہ سنتے ہی اپنے پاس موجود تمام چیزوں کو پھینک دیں گے اور دجال کی طرف متوجہ ہوں گے اور دس سواروں کو ہر اول دستہ کے طور پر بھیج دیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں ان کے اور ان کے باپوں کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی جانتا ہوں، وہ اس وقت زمین کے بہترین شہسوار ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3643]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2899
الحكم: إسناده صحيح، م: 2899
حدیث نمبر: 3644 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنِ عَوْنٍ ، عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : كُنْتُ لَا أُحْجَبُ عَنِ النَّجْوَى، وَلَا عَنْ كَذَا، وَلَا عَنْ كَذَا، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَنَسِيَ وَاحِدَةً، وَنَسِيتُ أَنَا وَاحِدَةً، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَعِنْدَهُ مَالِكُ بْنُ مُرَارَةَ الرَّهَاوِيُّ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ آخِرِ حَدِيثِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ قُسِمَ لِي مِنَ الْجِمَالِ مَا تَرَى، فَمَا أُحِبُّ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ فَضَلَنِي بِشِرَاكَيْنِ فَمَا فَوْقَهَما، أَفَلَيْسَ ذَلِكَ هُوَ الْبَغْيُ؟ قَالَ:" لَا، لَيْسَ ذَلِكَ بِالْبَغْيِ، وَلَكِنَّ الْبَغْيَ مَنْ بَطِرَ قَالَ: أَوْ قَالَ: سَفِهَ الْحَقَّ، وَغَمَطَ النَّاسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سرگوشی سے کوئی حجاب محسوس نہیں کرتا تھا اور نہ فلاں فلاں چیز سے، راوی کہتے ہیں کہ ایک چیز میرے استاذ بھول گئے اور ایک میں بھول گیا، میں ایک مرتبہ استاذ صاحب کے پاس آیا تو وہاں مالک بن مرارہ رہاوی بھی موجود تھے، میں نے انہیں حدیث کے آخر میں یہ بیان کرتے ہوئے پایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ ملاحظہ فرما ہی رہے ہیں کہ میرے حصے میں کتنے اونٹ آئے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص اس تعداد میں مجھ سے دو چار تسمے بھی آگے بڑھے، کیا یہ تکبر نہیں ہے؟ فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات قبول کرنے سے انکار کر دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3644]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح إن ثبت سماع حميد بن عبدالله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح إن ثبت سماع حميد بن عبدالله
حدیث نمبر: 3645 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عَوْنٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْنٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْيَاهُ، وَأَهْدَاهُ، وَأَتْقَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق وہ گمان کرو جو درستگی، ہدایت اور تقوی پر مبنی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3645]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عون لم يسمع من عم أبيه عبدالله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عون لم يسمع من عم أبيه عبدالله
حدیث نمبر: 3646 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، سُلَيْمَانُ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا، حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرٍ سُوءٍ، قُلْنَا: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟ قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنا طویل قیام کیا کہ میں اپنے دل میں برا ارادہ کرنے لگا، ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: آپ نے کیا ارادہ کیا تھا؟ فرمایا کہ میں بیٹھ جاؤں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑا چھوڑ دوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3646]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1135، م : 773
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1135، م : 773
حدیث نمبر: 3647 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، زُبَيْدٌ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ"، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا آپ نے یہ بات سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3647]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 48، م: 64
الحكم: إسناده صحيح، خ: 48، م: 64