بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 24 از 45
حدیث نمبر: 4008 مسند احمد
أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَتَلَ أَبَا جَهْلٍ، فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَصَرَ عَبْدَهُ، وَأَعَزَّ دِينَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابوجہل مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کا شکر جس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اپنے دین کو عزت بخشی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4008]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4009 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ، كُلُّ ثَلَاثَةٍ مِنَّا عَلَى بَعِيرٍ، كَانَ عَلِيٌّ، وَأَبُو لُبَابَةَ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا كَانَ عُقْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: ارْكَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَتَّى نَمْشِيَ عَنْكَ، فَيَقُولُ:" مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى عَلَى الْمَشْيِ مِنِّي، وَمَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن ہم تین تین آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے، اس طرح سیدنا ابولبابہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھی تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی باری پیدل چلنے کی آئی تو یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ ہم آپ کی جگہ پیدل چلتے ہیں (آپ سوار رہیں)، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں تم سے ثواب کے معاملے میں مستغنی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4009]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4010 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ
حَدَّثَنَاه عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ... فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَإِسْنَادِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4010]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4011 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، طَلْحَةَ ، مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُصْعَدُ بِهِ مِنَ الْأَرْضِ، وَقَالَ مَرَّةً وَمَا يُعْرَجُ بِهِ مِنَ الْأَرْضِ، فَيُقْبَضُ مِنْهَا، وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا، فَيُقْبَضُ مِنْهَا، إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى سورة النجم آية 16، قَالَ: فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ خِلَالٍ: الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَخَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَغُفِرَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أُمَّتِهِ الْمُقْحِمَاتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سدرۃ المنتہی بھی لے جایا گیا جو کہ چھٹے آسمان میں ہے اور زمین سے اوپر چڑھنے والی چیزوں کی آخری حد یہی ہے، یہاں سے ان چیزوں کو اٹھا لیا جاتا ہے اور آسمان سے اترنے والی چیزیں بھی یہیں آ کر رکتی ہیں اور یہاں سے انہیں اٹھا لیا جاتا ہے، اور فرمایا کہ جب سدرہ المنتہی کو ڈھانپ رہی تھی وہ چیز جو ڈھانپ رہی تھی، اس سے مراد سونے کے پروانے ہیں، بہرحال! اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین چیزیں عطا ہوئیں: پانچ نمازیں، سورہ بقرہ کی اختتامی آیات اور یہ خوشخبری کہ ان کی امت کے ہر اس شخص کی بخشش کر دی جائے گی جو اللہ کے ساتھ کسی اور چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4011]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 173.
الحكم: إسناده صحيح، م: 173.
حدیث نمبر: 4012 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، فُرَاتٍ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، زِيَادِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا فُرَاتٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: كَانَ أَبِي عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَسَمِعَهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" النَّدَمُ تَوْبَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں میرے والد حاضر تھے، انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت بھی توبہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4012]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 4013 مسند احمد
كَثِيرٌ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحُبِسْنَا عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيَّ، ثُمَّ قُلْتُ: نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا" فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ، ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" مَا عَلَى الْأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چار نمازوں کے ان کے وقت پر ادا کرنے سے مشغول کر دیا، میری طبیعت پر اس کا بہت بوجھ تھا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہیں، اللہ کے راستے میں ہیں (پھر ہماری نمازیں قضا ہو گئیں)، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں اذان دی، اقامت کہی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہہ کر عصر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کے بعد مغرب کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہلوا کر عشا کی نماز پڑھائی، اور ہمارے پاس تشریف لا کر فرمایا: تمہارے علاوہ اس وقت روئے زمین پر کوئی جماعت ایسی نہیں ہے جو اللہ کا ذکر کر رہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4013]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، ولعنعنة أبى الزبير المكي.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، ولعنعنة أبى الزبير المكي.
حدیث نمبر: 4014 مسند احمد
مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، خُصَيْفٌ ، زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، قال: حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: كَانَ أَبِي عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" النَّدَمُ تَوْبَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں میرے والد حاضر تھے، انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت بھی توبہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4014]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد جيد.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد جيد.
حدیث نمبر: 4015 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي حَصِينٍ ، يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَوْمًا، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَرُعِدَ حَتَّى رُعِدَتْ ثِيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ نَحْوَ ذَا أَوْ شَبِيهًا بِذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اتنا کہتے ہی وہ کانپنے لگے اور ان کے کپڑے ہلنے لگے اور کہنے لگے اسی طرح فرمایا یا اس کے قریب قریب فرمایا۔ (احتیاط کی دلیل) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4015]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4016 مسند احمد
مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، خُصَيْفٌ ، زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، قال: حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: كَانَ أَبِي عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" النَّدَمُ تَوْبَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں میرے والد حاضر تھے، انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت بھی توبہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4016]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد جيد.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد جيد.
حدیث نمبر: 4017 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو هَاشِمٍ ، وحماد ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو هَاشِمٍ ، وحماد ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ، نَقُولُ: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ، السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ، قَالَ: فَعَلَّمَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا جَلَسْتُمْ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ"، قَالَ أَبُو وَائِلٍ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قُلْتَهَا، أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَفِي الْأَرْضِ"، وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قُلْتَهَا، أَصَابَتْ كُلَّ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ، أَوْ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ، أَوْ عَبْدٍ صَالِحٍ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، جبرئیل کو سلام ہو، میکائیل کو سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص تشہد میں بیٹھے تو یوں کہنا چاہئے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ - إِذَا قُلْتَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَفِي الْأَرْضِ - أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، - جب وہ یہ جملہ کہہ لے گا تو یہ آسمان و زمین میں ہر نیک بندے کو شامل ہو جائے گا - میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4017]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1202.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1202.
حدیث نمبر: 4018 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَرْنَا بِقَرْيَةِ نَمْلٍ فَأُحْرِقَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہمارا گزر ایک ایسی جگہ پر ہوا جہاں چیونٹیاں بہت زیادہ تھیں، ایک شخص نے چیونٹیوں کے ایک بل کو آگ لگا دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی انسان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ کے عذاب جیسا عذاب دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4018]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد صحيح على شرط مسلم إن ثبت سماع عبدالرحمن بن عبدالله بن مسعود لهذا الحديث من أبيه، فقد سمع من أبيه شيئا يسيرا.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد صحيح على شرط مسلم إن ثبت سماع عبدالرحمن بن عبدالله بن مسعود لهذا الحديث من أبيه، فقد سمع من أبيه شيئا يسيرا.
حدیث نمبر: 4019 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، والأعمش ، ذَرٍّ ، وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، والأعمش ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَامَتْ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ نَحْنُ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ؟ قَالَ:" لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو۔ ایک عورت - جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی - کھڑی ہو کر کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری و نافرمانی کرتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4019]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين لحال وائل بن مهانة.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين لحال وائل بن مهانة.
حدیث نمبر: 4020 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا، بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے کہ جانور بھی اپنی رسی چھڑا کر اتنی تیزی سے نہیں بھاگتا، اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے: یہ بہت بری بات ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ یوں کہے کہ وہ اسے بھلا دی گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4020]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قوله: بئسما لأحدهم أن ..... أخرجه البخاري: 5039.
الحكم: إسناده صحيح، قوله: بئسما لأحدهم أن ..... أخرجه البخاري: 5039.
حدیث نمبر: 4021 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ صَاحِبًا لَنَا اشْتَكَى، أَفَنَكْوِيهِ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" إِنْ شِئْتُمْ فَاكْوُوهُ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَارْضِفُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی کو کچھ بیماری ہے، کیا ہم داغ کر اس کا علاج کر سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی جواب دینے سے تھوڑی دیر سکوت فرمایا، اور کچھ دیر بعد فرمایا: چاہو تو اسے داغ دو اور چاہو تو پتھر گرم کر کے لگاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4021]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 4022 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْعَبْدَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عند الله كَذَّابًا، أَوْ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عند الله صِدِّيقًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے، اور اسی طرح انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4022]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2606.
الحكم: حديث صحيح، م: 2606.
حدیث نمبر: 4023 مسند احمد
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا لَيْسَ لَنَا شَيْءٌ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نوجوان ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا، ہم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اے گروہ نوجواناں! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی صلاحیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے، اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کر لینا چاہیے کیونکہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4023]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5066، م: 1400.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5066، م: 1400.
حدیث نمبر: 4024 مسند احمد
يَعْلَى ، وابن أبي زائدة ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وابن أبي زائدة ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، ادْنُ لِلْغَدَاءِ، قَالَ: أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: وَتَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ؟ إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا أُنْزِلَ رَمَضَانُ تُرِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دس محرم کے دن اشعث بن قیس سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے، کہنے لگے اے ابومحمد! کھانے کے لئے آگے بڑھو، اشعث کہنے لگے کہ آج یوم عاشورہ نہیں ہے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں معلوم بھی ہے کہ یوم عاشورہ کیا چیز ہے؟ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن کا روزہ رکھتے تھے، جب رمضان میں روزوں کا حکم نازل ہوا تو یہ روزہ متروک ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4024]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4503، م: 1127.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4503، م: 1127.
حدیث نمبر: 4025 مسند احمد
يَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمَعَنَا زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا خَبَّابٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَكُلُّ هَؤُلَاءِ يَقْرَأُ كَمَا تَقْرَأُ؟ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَمَرْتَ بَعْضَهُمْ فَقَرَأَ عَلَيْكَ، قَالَ: أَجَلْ، فَقَالَ لِي: اقْرَأْ، فَقَالَ ابْنُ حُدَيْرٍ: تَأْمُرُهُ يَقْرَأُ، وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا! فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنْ شِئْتَ" لَأُخْبِرَنَّكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْمِكَ وَقَوْمِهِ، قَالَ: فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ مَرْيَمَ، فَقَالَ خَبَّابٌ: أَحْسَنْتَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلَّا هُوَ قَرَأَهُ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِخَبَّابٍ: أَمَا آنَ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى، قَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَا تَرَاهُ عَلَيَّ بَعْدَ الْيَوْمِ، وَالْخَاتَمُ ذَهَبٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ زید بن حدیر بھی تھے، تھوڑی دیر بعد سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے اور کہنے لگے: اے ابوعبدالرحمن! کیا یہ سب لوگ اسی طرح قرآن پڑھتے ہیں جیسے آپ پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اگر آپ چاہیں تو ان میں سے کسی کو پڑھنے کا حکم دیں، وہ آپ کو پڑھ کر سنا دے گا، انہوں نے کہا: اچھا، پھر مجھ سے فرمایا کہ تم پڑھ کر سناؤ، زید بن حدیر کہنے لگے کہ آپ ان سے پڑھنے کو کہہ رہے ہیں حالانکہ یہ ہم میں کوئی بڑے قاری نہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا: خبردار! اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہاری قوم اور اس کی قوم کے متعلق کیا فرمایا ہے؟ بہرحال! میں نے سورہ مریم کی پچاس آیات انہیں پڑھ کر سنائیں، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے میری تحسین فرمائی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں جو کچھ پڑھ سکتا ہوں، وہی یہ بھی پڑھ سکتا ہے، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا اب بھی اس انگوٹھی کو اتار پھینکنے کا وقت نہیں آیا؟ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آج کے بعد آپ اسے میرے ہاتھ میں نہیں دیکھیں گے، وہ انگوٹھی سونے کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4025]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4391.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4391.
حدیث نمبر: 4026 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، شَرِيكٌ ، الرُّكَيْنِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الرُّكَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ لَنَا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، ثُمَّ أَمْسَكَ عَنْهُ، يَعْنِي شَرِيكٌ، قَالَ:" الرِّبَا، وَإِنْ كَثُرَ، فَإِنَّ عَاقِبَتَهُ إِلَى قُلٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سود جتنا مرضی بڑھتا جائے اس کا انجام ہمیشہ قلت کی طرف ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4026]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شريك النخعي- وإن كان سيئ الحفظ - متابع.
الحكم: حديث صحيح، شريك النخعي- وإن كان سيئ الحفظ - متابع.
حدیث نمبر: 4027 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَيَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَيَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً، إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ، أَلَا وَإِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَتَهَافُتِ الْفَرَاشِ وَالذُّبَابِ"، قَالَ يَزِيدُ:" الْفَرَاشِ أَوْ الذُّبَابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ نے جس چیز کو بھی حرام قرار دیا ہے، وہ جانتا ہے کہ اسے تم میں سے جھانک کر دیکھنے والے دیکھیں گے، آگاہ رہو کہ میں تمہیں جہنم کی آگ میں گرنے سے بچانے کے لئے تمہاری کمر سے پکڑ کر کھینچ رہا ہوں اور تم اس میں ایسے گر رہے ہو جیسے پروانے گرتے ہیں یا مکھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4027]
حکم دارالسلام
حديث حسن، أبو كامل ويزيد- و إن سمعا من المسعودي بعد الاختلاط - متابعان، و رجال الإسناد ثقات غير أن المسعودي صدوق اختلط بآخرة، ومن سمع منه ببغداد فبعد الاختلاط.
الحكم: حديث حسن، أبو كامل ويزيد- و إن سمعا من المسعودي بعد الاختلاط - متابعان، و رجال الإسناد ثقات غير أن المسعودي صدوق اختلط بآخرة، ومن سمع منه ببغداد فبعد الاختلاط.