عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا، بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے کہ جانور بھی اپنی رسی چھڑا کر اتنی تیزی سے نہیں بھاگتا، اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے: ”یہ بہت بری بات ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ یوں کہے کہ وہ اسے بھلا دی گئی۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4020]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قوله: بئسما لأحدهم أن ..... أخرجه البخاري: 5039.
الحكم: إسناده صحيح، قوله: بئسما لأحدهم أن ..... أخرجه البخاري: 5039.