بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 4021
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 4021
حدیث نمبر: 4021 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ صَاحِبًا لَنَا اشْتَكَى، أَفَنَكْوِيهِ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" إِنْ شِئْتُمْ فَاكْوُوهُ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَارْضِفُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی کو کچھ بیماری ہے، کیا ہم داغ کر اس کا علاج کر سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی جواب دینے سے تھوڑی دیر سکوت فرمایا، اور کچھ دیر بعد فرمایا: چاہو تو اسے داغ دو اور چاہو تو پتھر گرم کر کے لگاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4021]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
← پچھلی حدیث (4020) باب پر واپس اگلی حدیث (4022) →