بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 30 از 45
حدیث نمبر: 4129 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، أُمِّ يَعْقُوبَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَوَشِّمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ"، قَالَ: فَبَلَغَ امْرَأَةً فِي الْبَيْتِ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ يَعْقُوبَ، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ؟ فَقَالَ: مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟! فَقَالَتْ: إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْهِ، فَمَا وَجَدْتُهُ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ، فَقَدْ وَجَدْتِيهِ، أَمَا قَرَأْتِ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7؟ قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ"، قَالَتْ: إِنِّي لَأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ. قَالَ: اذْهَبِي فَانْظُرِي، فَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا، فَجَاءَتْ، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، قَالَ: لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ، لَمْ تُجَامِعْنَا. قَالَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ أُمِّ يَعْقُوبَ سَمِعَهُ مِنْهَا، فَاخْتَرْتُ حَدِيثَ مَنْصُورٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ موچنے سے بالوں کو نوچنے والی اور نچوانے والی، جسم گودنے والی اور حسن کے لئے دانتوں کو باریک کرنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو، ام یعقوب نامی ایک عورت کو یہ بات پتہ چلی تو وہ ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اس طرح کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ جن پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتاب اللہ کی روشنی میں لعنت فرمائی ہے، میں ان پر لعنت کیوں نہ کروں؟ وہ عورت کہنے لگی: واللہ! میں تو دو گتوں کے درمیان جو مصحف ہے اسے خوب اچھی طرح کھنگال چکی ہوں، مجھے تو اس میں یہ حکم کہیں نہیں ملا؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس میں تمہیں یہ آیت ملی: « ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ » [الحشر: 7] اللہ کے پیغمبر تمہیں جو حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ وہ عورت کہنے لگے کہ اگر آپ کے گھر کی عورتیں یہ کام کرتی ہوں تو؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جا کر دیکھ لو، وہ عورت ان کے گھر چلی گئی، پھر آکر کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی، انہوں نے فرمایا: اگر ایسا ہوتا تو میری بیوی میرے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4129]
حکم دارالسلام
إسناده الأول صحيح، خ: 5948، م: 2125.
الحكم: إسناده الأول صحيح، خ: 5948، م: 2125.
حدیث نمبر: 4130 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ"، قَالَ: وَكَانَ أَصْحَابُنَا يَضْرِبُونَا وَنَحْنُ صِبْيَانٌ عَلَى الشَّهَادَةِ وَالْعَهْدِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جس کی گواہی قسم سے آگے بڑھ جائے گی اور قسم گواہی سے آگے بڑھ جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4130]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2652، م: 2533.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2652، م: 2533.
حدیث نمبر: 4131 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، وَوَاصِلٌ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، وَوَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ طَعَامِكَ" وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَرَّةً:" أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ"، قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بالخصوص جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے، سائل نے کہا: اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کر دینا کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھانے لگے گا، سائل نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4131]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
حدیث نمبر: 4132 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، شُعْبَةُ ، وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، أَبَا وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟... فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4132]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
حدیث نمبر: 4133 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَاصِلٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4133]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
حدیث نمبر: 4134 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟.... فَذَكَرَهُ، ثُمَّ قَرَأَ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَى مُهَانًا سورة الفرقان آية 68 - 69.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں آیت کا حوالہ بھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4134]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
حدیث نمبر: 4135 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى، وَالتُّقَى، وَالْعِفَّةَ، وَالْغِنَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعِفَّةَ وَالْغِنَى» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غنا (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4135]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1721.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1721.
حدیث نمبر: 4136 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4136]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2383.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 4137 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، عُمَارَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا، إِلَّا أَنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، وَصَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَئِذٍ لِغَيْرِ مِيقَاتِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی بےوقت نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ مزدلفہ میں مغرب اور عشا کو اور اسی دن کی فجر کو اپنے وقت سے آگے پیچھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4137]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1682، م: 1289.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1682، م: 1289.
حدیث نمبر: 4138 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ... مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4138]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1682، م: 1289.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1682، م: 1289.
حدیث نمبر: 4139 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَهُ نَبِيًّا، وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا"، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ، وَيَقُولُونَ إِنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ، وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے نو مرتبہ اس بات پر قسم کھانا زیادہ پسند ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شہید ہوئے، بہ نسبت اس کے کہ میں ایک مرتبہ قسم کھاؤں کہ وہ شہید نہیں ہوئے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا نبی بھی بنایا ہے اور انہیں شہید بھی قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4139]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4140 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا سورة النصر آية 3 قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ لَمَّا نَزَلَتْ: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ نصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرنے لگے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ» اے اللہ! تو پاک ہے، اور سب تعریف تیرے لیے ہے، اے اللہ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4140]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه أبن مسعود.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه أبن مسعود.
حدیث نمبر: 4141 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، إِسْرَائِيلَ ، السُّدِّيِّ ، مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ كُلُّهُمْ، ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص جہنم میں وارد ہو گا کی تفسیر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان جہنم میں داخل ہو گا، بعد میں اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکل آئے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4141]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، إسماعيل السدي، مختلف فيه، وحديثه لا يرقي إلى الصحة.
الحكم: إسناده حسن، إسماعيل السدي، مختلف فيه، وحديثه لا يرقي إلى الصحة.
حدیث نمبر: 4142 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ"، ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذِهِ سُبُلٌ قَالَ يَزِيدُ: مُتَفَرِّقَةٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ"، ثُمَّ قَرَأَ: وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ سورة الأنعام آية 153".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے، پھر اس کے دائیں بائیں کچھ اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا کہ یہ مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر راستے پر شیطان بیٹھا ہے اور ان راستوں پر چلنے کی دعوت دے رہا ہے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾ » [الأنعام: 153] یہ میرا سیدھا راستہ ہے سو اس کی پیروی کرو، دوسرے راستوں کے پیچھے نہ پڑو، ورنہ تم اللہ کے راستے سے بھٹک جاؤ گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4142]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4143 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةُ ، عَاصِمٍ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ، وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: سب سے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو اپنی زندگی میں قیامت کا زمانہ پائیں گے، یا وہ جو قبرستان کو سجدہ گاہ بنا لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4143]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4144 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَقُومُ السَّاعَةُ، أَوْ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ، إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے: قیامت کا قیام بدترین لوگوں پر ہی ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4144]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2949.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2949.
حدیث نمبر: 4145 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةُ ، عَاصِمٍ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ، وَيُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ، وَيُوصِي أَحَدُنَا بِالْحَاجَةِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ، وَمَا حَدُثَ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ، وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدا میں ہم لوگ نماز کے دوران بات چیت اور سلام کر لیتے تھے، اور ایک دوسرے کو ضرورت کے مطابق بتا دیتے تھے، ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، مجھے نئے پرانے خیالات نے گھیر لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو نیا حکم دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ دوران نماز بات چیت نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4145]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4146 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، أَبِي قَتَادَةَ ، أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرٌ إِلَّا: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، جَاءَتْ السَّاعَةُ!! قَالَ: وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَجَلَسَ، فَقَالَ: إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ، وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ، قَالَ: عَدُوًّا يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ، وَنَحَّى بِيَدِهِ نَحْوَ الشَّامِ، قُلْتُ: الرُّومَ تَعْنِي؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَيَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمْ الْقِتَالِ رِدَّةٌ شَدِيدَةٌ، قَالَ: فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجِزَ بَيْنَهُمْ اللَّيْلُ، فَيَفِيءَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجِزَ بَيْنَهُمْ اللَّيْلُ، فَيَفِيءَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا، فَيَفِيءَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، فَإِذَا كَانَ الْيَوْمُ الرَّابِعُ، نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الدَّبْرَةَ عَلَيْهِمْ، فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً إِمَّا قَالَ: لَا يُرَى مِثْلُهَا، وَإِمَّا قَالَ: لَمْ نَرَ مِثْلَهَا، حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ، فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيِّتًا، قَالَ: فَيَتَعَادُّ بَنُو الْأَبِ كَانُوا مِائَةً، فَلَا يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ، فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ؟ أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ؟! قَالَ: بَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ سَمِعُوا بِنَاسٍ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: جَاءَهُمْ الصَّرِيخُ أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَ فِي ذَرَارِيِّهِمْ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ، وَيُقْبِلُونَ، فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَسْمَاءَهُمْ، وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ، وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ، هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یسیر بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی، ایک آدمی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جس کی پکار صرف یہی تھی کہ اے عبداللہ بن مسعود! قیامت قریب آ گئی؟ اس وقت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، یہ سن کر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میراث کی تقسیم رک نہ جائے اور مال غنیمت پر کوئی خوشی نہ ہو، ایک دشمن ہو گا جو اہل اسلام کے لئے اپنی جمعیت اکٹھی کرے گا اور اہل اسلام ان کے لئے اپنی جمعیت اکٹھی کریں گے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا، میں نے پوچھا کہ آپ کی مراد رومی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! اور اس وقت نہایت سخت جنگ ہو گی اور مسلمانوں کی ایک جماعت یہ عہد کر کے نکلے گی کہ ہم لوگ مر جائیں گے لیکن غالب آئے بغیر واپس نہ آئیں گے، چنانچہ وہ جنگ کریں گے یہاں تک کہ ان کے درمیان رات حائل ہو جائے گی اور دونوں لشکر واپس آ جائیں گے، جبکہ مسلمانوں کی وہ جماعت کام آ چکی ہو گی، تاہم کسی ایک لشکر کو غلبہ حاصل نہیں ہو گا۔ تین دن تک اسی طرح ہوتا رہے گا، چوتھے دن باقی ماندہ تمام مسلمان دشمن پر حملہ کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ دشمن پر شکست مسلط کر دیں گے اور اتنے آدمی قتل ہوں گے کہ اس کی نظیر نہیں ملے گی، حتی کہ اگر کوئی پرندہ ان کی نعشوں پر گزرے گا تو انہیں عبور نہیں کر سکے گا اور گر کر مر جائے گا، اس وقت اگر ایک آدمی کے سو بیٹے ہوئے تو واپسی پر ان میں سے صرف ایک باقی بچا ہو گا، تو کون سی غنیمت پر خوشی ہو گی اور کون سی میراث تقسیم ہو گی؟ اسی دوران وہ اس سے بھی ایک ہولناک خبر سنیں گے اور ایک چیخنے والا آئے گا اور کہے گا کہ ان کے پیچھے دجال ان کی اولاد میں گھس گیا، چنانچہ وہ لوگ یہ سنتے ہی اپنے پاس موجود تمام چیزوں کو پھینک دیں گے اور دجال کی طرف متوجہ ہوں گے اور دس سواروں کو ہر اول دستہ کے طور پر بھیج دیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں ان کے اور ان کے باپوں کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی جانتا ہوں، وہ اس وقت زمین پر بہترین شہسوار ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4146]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2899.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2899.
حدیث نمبر: 4147 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي عُثْمَانَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ أَوْ قَالَ: نِدَاءُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ قَالَ: يُنَادِي لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ، وَلِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ، ثُمَّ لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا أَوْ قَالَ: هَكَذَا حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے روک نہ دے کیونکہ وہ اس لئے جلدی اذان دے دیتے ہیں کہ قیام اللیل کرنے والے واپس آجائیں اور سونے والے بیدار ہو جائیں (اور سحری کھا لیں)، صبح صادق اس طرح نہیں ہوتی - راوی نے اپنا ہاتھ ملا کر بلند کیا - بلکہ اس طرح ہوتی ہے۔ راوی نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو جدا کر کے دکھایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4147]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1093.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1093.
حدیث نمبر: 4148 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، أَمَا لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قُلْتَ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ، وَقَالَ:" رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى، قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم فرمائیں، ایک انصاری کہنے لگا کہ یہ تقسیم ایسی ہے جس سے اللہ کی رضا حاصل کرنا مقصود نہیں ہے، میں نے اس سے کہا: اے اللہ کے دشمن! تو نے جو بات کہی ہے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اطلاع ضرور دوں گا، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات ذکر کر دی، جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو گیا، پھر فرمایا: موسیٰ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4148]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6335، م: 1062.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6335، م: 1062.