بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 21 از 45
حدیث نمبر: 3948 مسند احمد
أَسْوَدُ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيْسَ بِاللَّعَّانِ وَلَا الطَّعَّانِ، وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مؤمن لعن طعن کرنے والا یا فحش گو اور بیہودہ گو نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3948]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3949 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَفَّانُ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ، مِنْ بَيْنِ أَهْلِهِ وَحَيِّهِ إِلَى صَلَاتِهِ، فَيَقُولُ رَبُّنَا: أَيَا مَلَائِكَتِي، انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، ثَارَ مِنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ، وَمِنْ بَيْنِ حَيِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ، رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَانْهَزَمُوا، فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْفِرَارِ، وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهُ، رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَرَهْبَةً مِمَّا عِنْدِي، حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارے رب کو دو قسم کے آدمی بڑے اچھے لگتے ہیں، ایک تو وہ آدمی جو اپنے بستر اور لحاف، اپنے اہل خانہ اور محلہ کو چھوڑ کر نماز کے لئے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے میرے فرشتو! میرے اس بندے کو دیکھو جو اپنے بستر اور لحاف، اپنے محلے اور اہل خانہ کو چھوڑ کر نماز کے لئے آیا ہے میرے پاس موجود نعمتوں کے شوق میں، اور میرے یہاں موجود سزا کے خوف سے۔ اور دوسرا وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلا، لوگ شکست کھا کر بھاگنے لگے، اسے معلوم تھا کہ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے کی کیا سزا ہے اور واپس لوٹ جانے میں کیا ثواب ہے، چنانچہ وہ واپس آ کر لڑتا رہا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا، اور اس کا یہ عمل بھی صرف میری نعمتوں کے شوق اور میری سزا کے خوف سے تھا، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں: میرے اس بندے کو دیکھو جو میری نعمتوں کے شوق اور میری سزا کے خوف سے واپس آگیا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3949]
حکم دارالسلام
إسناده حسن إلا أن الدارقطني ص ح وقفه.
الحكم: إسناده حسن إلا أن الدارقطني ص ح وقفه.
حدیث نمبر: 3950 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاق ، أَبَا الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى، وَالتُّقَى، وَالْعَفَافَ، وَالْغِنَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غناء (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3950]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3951 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَفَّانُ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ عَفَّانُ : عَنْ أَبِيهِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَعَثَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِدْخَالِ رَجُلٍ إِلَى الْجَنَّةِ، فَدَخَلَ الْكَنِيسَةَ، فَإِذَا هُوَ بِيَهُودَ، وَإِذَا يَهُودِيٌّ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ التَّوْرَاةَ، فَلَمَّا أَتَوْا عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْسَكُوا، وَفِي نَاحِيَتِهَا رَجُلٌ مَرِيضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكُمْ أَمْسَكْتُمْ؟" قَالَ الْمَرِيضُ: إِنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى صِفَةِ نَبِيٍّ، فَأَمْسَكُوا، ثُمَّ جَاءَ الْمَرِيضُ يَحْبُو، حَتَّى أَخَذَ التَّوْرَاةَ، فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتِهِ، فَقَالَ: هَذِهِ صِفَتُكَ وَصِفَةُ أُمَّتِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ:" لُوا أَخَاكُم".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک شخص کے جنت میں داخل کروانے کے لئے بھیجا اور وہ اس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گرجے میں داخل ہوئے، وہاں کچھ یہودی بیٹھے ہوئے تھے اور ایک یہودی ان کے سامنے تورات کی تلاوت کر رہا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صفات کا بیان آیا تو وہ لوگ رک گئے، اس گرجے کے ایک کونے میں ایک بیمار آدمی بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم رک کیوں گئے؟ وہ بیمار آدمی کہنے لگا کہ یہاں سے ایک نبی کی صفات کا بیان شروع ہو رہا ہے، اس لئے یہ رک گئے ہیں، پھر وہ مریض گھسٹتا ہوا آگے بڑھا اور اس نے تورات پکڑ لی اور اسے پڑھنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صفات اور آپ کی امت کی صفات کے بیان پر پہنچ گیا اور کہنے لگا کہ یہ آپ کی اور آپ کی امت کی علامات ہیں، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں، یہ کہتے ہی اس کی روح پرواز کر گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اپنے بھائی سے محبت کرو (اور اسے لے چلو)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3951]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه أبن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه أبن مسعود.
حدیث نمبر: 3952 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" إِيَّاكُمْ أَنْ تَقُولُوا مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا، أَوْ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، فَإِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ، وَيُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، فَإِنْ كُنْتُمْ شَاهِدِينَ لَا مَحَالَةَ، فَاشْهَدُوا لِلرَّهْطِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَقُتِلُوا، فَقَالُوا: اللَّهُمَّ بَلِّغْ نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَّا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ، فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم کسی شخص کے متعلق یہ کہنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ فلاں شخص شہادت کی موت سے مرا یا مارا گیا، کیونکہ بعض لوگ مال غنیمت کے حصول کے لئے قتال کرتے ہیں، بعض اپنا تذکرہ کروانے کے لئے، اور بعض اس لئے جنگ میں شریک ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنا مقام دکھا سکیں، اگر تم ضرور ہی کسی کے متعلق یہ گواہی دینا چاہتے ہو تو ان لوگوں کے لئے یہ گواہی دے دو جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سریہ میں بھیجا تھا اور وہ شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے دعا کی تھی کہ اے اللہ! ہماری طرف سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ پیغام پہنچا دیجئے کہ ہم آپ سے مل چکے، آپ ہم سے راضی ہو گئے اور ہمیں اپنے آپ سے راضی کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3952]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3953 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: أَوْ إِبْرَاهِيمَ ، شُعْبَةُ شَكَّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ"، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ، فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بھی اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں، اے کاش! مجھے چار رکعتوں کی بجائے دو مقبول رکعتوں کا ہی حصہ مل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3953]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1084، م: 695.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1084، م: 695.
حدیث نمبر: 3954 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بِتُّ اللَّيْلَةَ أَقْرَأُ عَلَى الْجِنِّ، رُفَقَاءَ بِالْحَجُونِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آج رات میں حجون نامی جگہ میں اپنے جنات ساتھیوں کو قرآن پڑھاتا رہا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3954]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، عبيد الله بن عبدالله بن عتبة بن مسعود لم يسمع من عم أبيه عبدالله بن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، عبيد الله بن عبدالله بن عتبة بن مسعود لم يسمع من عم أبيه عبدالله بن مسعود.
حدیث نمبر: 3955 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ ، قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ عَجُوزٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُوشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ". قَالَ يَحْيَى: وَالْمُوسِمَاتِ اللَّاتِي....
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قبیصہ بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بنو اسد کی ایک بوڑھی عورت کو لے کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں میں خلا پیدا کروانے والی، اور جسم گودنے والی عورتوں پر لعنت ہے جو اللہ کی تخلیق کو بگاڑتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3955]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5948، م: 2125، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5948، م: 2125، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3956 مسند احمد
حَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ ، قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ عَجُوزٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَذَكَرَ قِصَّةً، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُوشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قبیصہ بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بنو اسد کی ایک بوڑھی عورت کو لے کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا . . . تو وہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں میں خلا پیدا کروانے والی، اور جسم گودنے والی عورتوں پر لعنت ہے جو اللہ کی تخلیق کو بگاڑتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3956]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5948، م: 2125، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5948، م: 2125، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3957 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قِتَالُ مُسْلِمٍ أَخَاهُ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق، اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3957]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 3958 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، حُصَيْنٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، نَهِيكِ بْنِ سِنَانٍ السُّلَمِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ نَهِيكِ بْنِ سِنَانٍ السُّلَمِيِّ ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: هَذًّا مِثْلَ هَذِّ الشِّعْرِ، أَوْ نَثْرًا مِثْلَ نَثْرِ الدَّقَلِ؟ إِنَّمَا فُصِّلَ لِتُفَصِّلُوا، لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرُنُ، عِشْرِينَ سُورَةً: الرَّحْمَنُ وَالنَّجْمُ، عَلَى تَأْلِيفِ ابْنِ مَسْعُودٍ، كُلُّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ، وَذَكَرَ الدُّخَانَ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ فِي رَكْعَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) - جس کا نام نہیک بن سنان تھا - سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گھٹیا اشعار کی طرح؟ یا ردی قسم کی نثر کی طرح؟ حالانکہ انہیں مفصلات اسی بناء پر قرار دیا گیا ہے تاکہ تم انہیں جدا جدا کر کے پڑھ سکو، میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں۔ اور اس سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مصحف کے مطابق مفصلات کی ابتدائی بیس سورتیں مراد ہیں جن میں سورہ رحمٰن اور سورہ نجم شامل ہیں، ایک رکعت میں یہ دو سورتیں اور ایک رکعت میں سورہ دخان اور سورہ نباء۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3958]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره.
الحكم: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 3959 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبَا وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ، وَيُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر دھوکہ باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا، اور بتایا جائے گا کہ یہ فلاں آدمی کی دھوکے بازی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3959]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3186، م: 1736.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3186، م: 1736.
حدیث نمبر: 3960 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، أَبَا وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَوْ بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ، اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ، مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی آدمی کی یہ بات انتہائی بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ اسے یوں کہنا چاہئے کہ اسے فلاں آیت بھلا دی گئی۔ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے کہ جانور بھی اپنی رسی چھڑا کر اتنی تیزی سے نہیں بھاگتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5032، م: 790.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5032، م: 790.
حدیث نمبر: 3961 مسند احمد
صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ سَخْبَرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ ، قَالَ: غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ، فَكَانَ يُلَبِّي، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلًا آدَمَ، لَهُ ضَفْرَانِ، عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءُ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ، قَالُوا: يَا أَعْرَابِيُّ، إِنَّ هَذَا لَيْسَ يَوْمَ تَلْبِيَةٍ، إِنَّمَا هُوَ يَوْمُ تَكْبِيرٍ!! قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: أَجَهِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا! وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، إِلاَّ أَنْ يَخْلِطَهَا بِتَكْبِيرٍ أَوْ تَهْلِيلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن سخبرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ منیٰ سے عرفات کی طرف روانہ ہوا، وہ راستے بھر تلبیہ کہتے رہے، وہ گھنگھریالے بالوں والے گندم گوں رنگت کے مالک تھے، ان کی دو مینڈھیاں تھیں اور اہل دیہات کی طرح انہوں نے کمبل اپنے اوپر لے رکھا تھا، انہیں تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھ کر بہت سے لوگ ان کے گرد جمع ہو کر کہنے لگے: اے دیہاتی! آج تلبیہ کا دن نہیں ہے، آج تو تکبیر کا دن ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: لوگ ناواقف ہیں یا بھول گئے ہیں، اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کو ترک نہیں فرمایا، البتہ درمیان درمیان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تہلیل و تکبیر بھی کہہ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1283.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1283.
حدیث نمبر: 3962 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَى قُرَيْشٍ غَيْرَ يَوْمٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَرَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ جُلُوسٌ، وَسَلَى جَزُورٍ قَرِيبٌ مِنْهُ، فَقَالُوا: مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّلَى، فَيُلْقِيَهُ عَلَى ظَهْرِهِ، قَالَ: فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ: أَنَا، فَأَخَذَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَلَمْ يَزَلْ سَاجِدًا، حَتَّى جَاءَتْ فَاطِمَةُ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهَا، فَأَخَذَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ أَوْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ"، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ جَمِيعًا، ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ غَيْرَ أُبَيٍّ، أَوْ أُمَيَّةَ، فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلًا ضَخْمًا، فَتَقَطَّعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک دن کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قریش کے خلاف بد دعا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دائیں بائیں قریش کے کچھ لوگ موجود تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ایک اونٹ کی اوجھڑی پڑی ہوئی تھی، قریش کے لوگ کہنے لگے کہ یہ اوجھڑی لے کر ان کی پشت پر کون ڈالے گا، عقبہ بن ابی معیط نے اپنے آپ کو پیش کر دیا، اور وہ اوجھڑی لے آیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت پر ڈال دیا، جس کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا سر نہ اٹھا سکے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا تو وہ جلدی سے آئیں اور اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت سے اتار کر دور پھینکا اور یہ گندی حرکت کرنے والے کو بد دعائیں دینے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: اے اللہ! قریش کے ان سرداروں کی پکڑ فرما، اے اللہ! عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوجہل، عقبہ بن ابی معیط، ابی بن خلف، یا امیہ بن خلف کی پکڑ فرما۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سب کو دیکھا کہ یہ غزوہ بدر کے موقع پر مارے گئے اور انہیں گھسیٹ کر ایک کنوئیں میں ڈال دیا گیا، سوائے امیہ یا ابی کے جس کے اعضا کٹ چکے تھے، اسے کنوئیں میں نہیں ڈالا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3962]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3854، م: 1794.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3854، م: 1794.
حدیث نمبر: 3963 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ عَوْنٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَيْرُ النَّاسِ أقَرانِي الَّذِينَ يَلُونِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ: وَلاَ أَدْرِي أَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ، ثُمَّ يَخْلُفُ بَعْدَهُمْ خَلْفٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہیں جو میرے زمانہ میں ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جس کی گواہی قسم سے آگے بڑھ جائے گی اور قسم گواہی سے آگے بڑھ جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2533.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2533.
حدیث نمبر: 3964 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ،" أَنَّ الْأُمَمَ عُرِضَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَعُرِضَتْ عَلَيْهِ أُمَّتُهُ، فَأَعْجَبَتْهُ كَثْرَتُهُمْ، فَقِيلَ: إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ساری امتوں کو پیش کیا گیا، پھر ان کی امت کو پیش کیا گیا جس کی کثرت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت اچھی لگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار آدمی ایسے بھی ہیں جو جنت میں بلا حساب کتاب داخل ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3964]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3965 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ بَيْنَ كُلِّ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ بَعِيرٌ، وَكَانَ زَمِيلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ، وَأَبُو لُبَابَةَ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا كَانَتْ عُقْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا لَهُ: ارْكَبْ حَتَّى نَمْشِيَ عَنْكَ، فَيَقُولُ:" مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي، وَمَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن ہم تین تین آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے، اس طرح سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھی تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی باری پیدل چلنے کی آئی تو یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ ہم آپ کی جگہ پیدل چلتے ہیں (آپ سوار رہیں)، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں تم سے ثواب کے معاملے میں مستغنی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3965]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3966 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ، وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَائِطَ،" وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ، وَلَمْ أَجِدْ الثَّالِثَ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً، فَأَتَيْتُ بِهِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ، وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: هَذِهِ رِكْسٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضا حاجت کے لئے نکلے تو مجھ سے فرمایا کہ میرے پاس تین پتھر تلاش کر کے لاؤ، میں دو پتھر اور لید کا ایک خشک ٹکڑا لا سکا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں پتھر لے لئے اور لید کے ٹکڑے کو پھینک کر فرمایا: یہ ناپاک ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3966]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 156، زهير - وإن سمع من أبى إسحاق بعد الاختلاط - روايته هذه مما انتقاه البخاري من مروياته.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 156، زهير - وإن سمع من أبى إسحاق بعد الاختلاط - روايته هذه مما انتقاه البخاري من مروياته.
حدیث نمبر: 3967 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ ، وَمَنْصُورٌ ، وَالْأَعْمَشُ ، وَحَمَّادٌ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَذَكَرَ التَّشَهُّدَ، تشهد عبد الله، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَمَنْصُورٌ ، وَالْأَعْمَشُ ، وَحَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سفیان نے ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے نقل کردہ تشہد کا ذکر کیا اور پوری سند ذکر کی۔گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3967]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 122.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 122.