رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" إِيَّاكُمْ أَنْ تَقُولُوا مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا، أَوْ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، فَإِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ، وَيُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، فَإِنْ كُنْتُمْ شَاهِدِينَ لَا مَحَالَةَ، فَاشْهَدُوا لِلرَّهْطِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَقُتِلُوا، فَقَالُوا: اللَّهُمَّ بَلِّغْ نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَّا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ، فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم کسی شخص کے متعلق یہ کہنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ فلاں شخص شہادت کی موت سے مرا یا مارا گیا، کیونکہ بعض لوگ مال غنیمت کے حصول کے لئے قتال کرتے ہیں، بعض اپنا تذکرہ کروانے کے لئے، اور بعض اس لئے جنگ میں شریک ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنا مقام دکھا سکیں، اگر تم ضرور ہی کسی کے متعلق یہ گواہی دینا چاہتے ہو تو ان لوگوں کے لئے یہ گواہی دے دو جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سریہ میں بھیجا تھا اور وہ شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے دعا کی تھی کہ اے اللہ! ہماری طرف سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ پیغام پہنچا دیجئے کہ ہم آپ سے مل چکے، آپ ہم سے راضی ہو گئے اور ہمیں اپنے آپ سے راضی کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3952]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.