بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 42 از 45
حدیث نمبر: 4369 مسند احمد
أَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ ، مَنْصُورٍ
حَدَّثَنَاه أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ... فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَا نَاجِذُهُ، تَصْدِيقًا لِقَوْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7414.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7414.
حدیث نمبر: 4370 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ:" رَمَى عَبْدُ اللَّهِ الْجَمْرَةَ فِي بَطْنِ الْوَادِي، قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ لَا يَرْمُونَ مِنْ هَاهُنَا؟ قَالَ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کی، میں نے ان سے عرض کیا کہ لوگ تو یہاں سے رمی نہیں کرتے، انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4370]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1296.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1296.
حدیث نمبر: 4371 مسند احمد
يُونُسُ ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمْشِي، إِذْ مَرَّ بِصِبْيَانٍ يَلْعَبُونَ، فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرِبَتْ يَدَاكَ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" فَقَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: دَعْنِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ يَكُ الَّذِي تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کچھ بچوں پر گزر ہوا جو کھیل رہے تھے، ان میں ابن صیاد بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں؟ اس نے پلٹ کر پوچھا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن ماروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہے تو تم اسے قتل کرنے پر قادر نہ ہو سکو گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4371]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2924.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2924.
حدیث نمبر: 4372 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً لَا يُنَازِعُنِي فِيهَا أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں، ان میں کوئی شخص مجھ سے جھگڑا نہیں کر سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4372]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4373 مسند احمد
يُونُسُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، خَالِدٌ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَإِيَّاكُمْ وَهَوْشَاتِ الْأَسْوَاقِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو عقلمند اور معاملہ فہم لوگ ہیں انہیں نماز میں میرے قریب رہنا چاہیے، اس کے بعد ان سے ملے ہوئے لوگوں کو، اس کے بعد ان سے ملے ہوئے لوگوں کو (درجہ بدرجہ)، اور صفوں میں اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، اور بازاروں کی طرح مسجد میں شور و غل کرنے سے بچو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4373]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 432.
الحكم: إسناده صحيح، م: 432.
حدیث نمبر: 4374 مسند احمد
شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، يَزِيدُ الْوَاسِطِيُّ ، طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، أَبِي عَقْرَبٍ الْأَسَدِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الَّذِي كَانَ يَكُونُ فِي بَنِي دَالَانَ يَزِيدُ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى إِنْجَارٍ لَهُ يَعْنِي سَطْحًا، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: صدق الله ورسوله، صدق الله ورسوله، فصعدت إليه، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، مالك قُلْتَ: صدق الله ورسوله، صدق الله ورسوله؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَبَّأَنَا أَنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي النِّصْفِ مِنَ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، وَإِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ صَبِيحَتَهَا لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ"، قَالَ: فَصَعِدْتُ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا، فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعقرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں صبح کے وقت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے ہوئے پایا، میں نے ان کی آواز سنی کہ وہ کہہ رہے تھے: اللہ نے سچ کہا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہنچا دیا، میں نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے پوچھا کہ میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ نے سچ کہا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہنچا دیا، اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں کے نصف میں ہوتی ہے، اور اس رات کے بعد جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ بالکل صاف ہوتا ہے، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔ میں ابھی یہی دیکھ رہا تھا تو میں نے اسے بعینہ اسی طرح پایا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا، اس لئے میں نے یہ کہا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4374]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى عقرب الأسدي.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى عقرب الأسدي.
حدیث نمبر: 4375 مسند احمد
عَتَّابٌ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ. ح وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ وَمَعَهُ عَظْمٌ حَائِلٌ وَبَعْرَةٌ وَفَحْمَةٌ، فَقَالَ:" لَا تَسْتَنْجِيَنَّ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا إِذَا خَرَجْتَ إِلَى الْخَلَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لیلۃ الجن کے موقع پر جب ان کے پاس واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہڈی، کالی مٹی، مینگنی اور کوئلہ بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بیت الخلا جاؤ تو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ استنجا نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4375]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 45.
الحكم: صحيح، م: 45.
حدیث نمبر: 4376 مسند احمد
عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، الْمُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَحْمَسِيِّ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْمُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَحْمَسِيِّ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : لَقَدْ شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ أَنَا صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رَجُلًا فَارِسًا، قَالَ: فَقَالَ: أَبْشِرْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُون سورة المائدة آية 24، وَلَكِنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَنَكُونَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَعَنْ يَمِينِكَ، وَعَنْ شِمَالِكَ، وَمِنْ خَلْفِكَ، حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا - اور مجھے ان کا ہم نشین ہونا دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبوب تھا - وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرکین کو بد دعائیں دے کر کہنے لگے: یا رسول اللہ! واللہ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا تھا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے لڑیں گے، یہاں تک کہ اللہ آپ کو فتح عطا فرما دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3952.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3952.
حدیث نمبر: 4377 مسند احمد
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: نَزَلَتْ عَلَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا لَيْلَةَ الْحَيَّةِ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: وَمَا لَيْلَةُ الْحَيَّةِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءٍ لَيْلًا، خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ مِنَ الْجَبَلِ،" فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهَا، فَطَلَبْنَاهَا، فَأَعْجَزَتْنَا، فَقَالَ: دَعُوهَا عَنْكُمْ، فَقَدْ وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ، كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ مرسلات کا نزول سانپ والی رات میں ہوا تھا، ہم نے ان سے پوچھا کہ سانپ والی رات سے کیا مرا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ رات کے وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ غار حراء میں تھے کہ اچانک ایک سانپ پہاڑ سے نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اسے مار ڈالنے کا حکم دیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4377]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، ابن إسحاق صرح بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، ابن إسحاق صرح بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه.
حدیث نمبر: 4378 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: وَقَفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ يَدَيْ الْجَمْرَةِ، فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهَا، قَالَ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، مَوْقِفُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَوْمَ رَمَاهَا، قَالَ: ثُمَّ" رَمَاهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ رَمَى بِهَا، ثُمَّ انْصَرَفَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جمرہ عقبہ کے سامنے پہنچ کر کھڑا ہو گیا، انہوں نے وہاں کھڑے ہو کر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اسی جگہ وہ ذات کھڑی ہوئی تھی جس پر رمی کرتے ہوئے سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے رہے، پھر واپس لوٹ گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4378]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق.
حدیث نمبر: 4379 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، الْحَارِثِ ، جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ ، أَبِي رَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، أَظُنُّهُ يَعْنِي ابْنَ فُضَيْلٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ؛ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ، يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ، وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ، يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ سے پہلے اللہ نے جس امت میں بھی کسی نبی کو مبعوث فرمایا ہے، اس کی امت میں سے ہی اس کے حواری اور اصحاب بھی بنائے جو اس نبی کی سنت پر عمل کرتے اور ان کے حکم کی اقتدا کرتے، لیکن ان کے بعد کچھ ایسے ناہل آ جاتے جو وہ بات کہتے جس پر خود عمل نہ کرتے، اور وہ کام کرتے جن کا انہیں حکم نہ دیا گیا ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4379]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 50.
الحكم: إسناده صحيح، م: 50.
حدیث نمبر: 4380 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَرِيبٍ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ، لَيْسَ فِيهِمْ إِلَّا قُرَشِيٌّ، لَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ صَفْحَةَ وُجُوهِ رِجَالٍ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْ وُجُوهِهِمْ يَوْمَئِذٍ، فَذَكَرُوا النِّسَاءَ، فَتَحَدَّثُوا فِيهِنَّ، فَتَحَدَّثَ مَعَهُمْ، حَتَّى أَحْبَبْتُ أَنْ يَسْكُتَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ،" فَإِنَّكُمْ أَهْلُ هَذَا الْأَمْرِ، مَا لَمْ تَعْصُوا اللَّهَ، فَإِذَا عَصَيْتُمُوهُ بَعَثَ إِلَيْكُمْ مَنْ يَلْحَاكُمْ كَمَا يُلْحَى هَذَا الْقَضِيبُ" لِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ، ثُمَّ لَحَا قَضِيبَهُ، فَإِذَا هُوَ أَبْيَضُ يَصْلِدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم اسی کے قریب قریشی افراد - جن میں قریش کے علاوہ کسی قبیلے کا کوئی فرد نہ تھا - نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، واللہ! میں نے مردوں کے چہروں کا روشن رخ اس دن ان لوگوں سے زیادہ حسین کبھی نہیں دیکھا، دوران گفتگو عورتوں کا تذکرہ آیا اور لوگ خواتین کے متعلق گفتگو کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کے ساتھ گفتگو میں شریک رہے، پھر میں نے چاہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سکوت اختیار فرمائیں، چنانچہ میں ان کے سامنے آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محسوس کیا اور تشہد (کلمہ شہادت پڑھنے) کے بعد فرمایا: اما بعد! اے گروہ قریش! اس حکومت کے اہل تم لوگ ہی ہو بشرطیکہ اللہ کی نافرمانی نہ کرو، جب تم اللہ کی نافرمانی میں مبتلا ہو جاؤگے تو اللہ تم پر ایک ایسے شخص کو مسلط کر دے گا جو تمہیں اس طرح چھیل دے گا جیسے اس ٹہنی کو چھیل دیا جاتا ہے - اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں ایک ٹہنی تھی - نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے چھیلا تو وہ اندر سے سفید، ٹھوس اور چکنی نکل آئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4380]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، عبيد الله بن عبد الله بن عتبة لم يسمع من عم أبيه عبد الله ابن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، عبيد الله بن عبد الله بن عتبة لم يسمع من عم أبيه عبد الله ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4381 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، أَبُو عُمَيْسٍ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِي فَزَارَةَ ، أَبِي زَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُمَيْسٍ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، إِذْ قَالَ:" لِيَقُمْ مَعِي رَجُلٌ مِنْكُمْ، وَلَا يَقُومَنَّ مَعِي رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْغِشِّ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ"، قَالَ: فَقُمْتُ مَعَهُ، وَأَخَذْتُ إِدَاوَةً، وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً، فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَعْلَى مَكَّةَ رَأَيْتُ أَسْوِدَةً مُجْتَمِعَةً، قَالَ: فَخَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا، ثُمَّ قَالَ:" قُمْ هَاهُنَا حَتَّى آتِيَكَ"، قَالَ: فَقُمْتُ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَرَأَيْتُهُمْ يَتَثَوَّرُونَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَسَمَرَ مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا طَوِيلًا، حَتَّى جَاءَنِي مَعَ الْفَجْرِ، فَقَالَ لِي:" مَا زِلْتَ قَائِمًا يَا ابْنَ مَسْعُودٍ؟" قَالَ: فَقُلْتُ له: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَلَمْ تَقُلْ لِي:" قُمْ حَتَّى آتِيَكَ؟!" قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي:" هَلْ مَعَكَ مِنْ وَضُوءٍ"، قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَفَتَحْتُ الْإِدَاوَةَ، فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ، وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً، فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ، قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ، وَمَاءٌ طَهُورٌ"، قَالَ: ثُمَّ تَوَضَّأَ مِنْهَا، فَلَمَّا قَامَ يُصَلِّي أَدْرَكَهُ شَخْصَانِ مِنْهُمْ، قَالَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تَؤُمَّنَا فِي صَلَاتِنَا، قَالَ:" فَصَفَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ لَهُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" هَؤُلَاءِ جِنُّ نَصِيبِينَ، جَاءُوا يَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ فِي أُمُورٍ كَانَتْ بَيْنَهُمْ، وَقَدْ سَأَلُونِي الزَّادَ فَزَوَّدْتُهُمْ"، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: وَهَلْ عِنْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ تُزَوِّدُهُمْ إِيَّاهُ؟ قَالَ: فَقَالَ:" قَدْ زَوَّدْتُهُمْ الرَّجْعَةَ، وَمَا وَجَدُوا مِنْ رَوْثٍ وَجَدُوهُ شَعِيرًا، وَمَا وَجَدُوهُ مِنْ عَظْمٍ وَجَدُوهُ كَاسِيًا"، قَالَ: وَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ يُسْتَطَابَ بِالرَّوْثِ وَالْعَظْمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکی دور میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چند صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثنا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی میرے ساتھ چلے، لیکن وہ آدمی جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی تکبر نہ ہو، یہ سن کر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے ساتھ ایک برتن لے لیا جس میں میرے خیال کے مطابق پانی تھا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا، چلتے چلتے ہم لوگ جب مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر پہنچے تو میں نے بہت سے سیاہ فام لوگوں کا ایک جم غفیر دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک خط کھینچ کر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے آنے تک یہیں کھڑے رہنا۔ چنانچہ میں اپنی جگہ کھڑا رہا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف چلے گئے، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف بڑے جوش و خروش کے ساتھ بڑھ رہے تھے، رات بھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ طویل گفتگو فرمائی اور فجر ہوتے ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے اور مجھ سے فرمانے لگے: اے ابن مسعود! کیا تم اس وقت سے کھڑے ہوئے ہو؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ ہی نے تو فرمایا تھا کہ میرے آنے تک یہیں کھڑے رہنا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارے پاس وضو کا پانی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! اب جو میں نے برتن کھولا تو اس میں نبیذ تھی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! واللہ! میں نے جب یہ برتن لیا تھا تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ اس میں پانی ہو گا لیکن اس میں تو نبیذ ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمدہ کھجور اور طہارت بخش پانی ہی تو ہے، اور اسی سے وضو فرما لیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو دو آدمی آ گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہماری خواہش ہے کہ آپ ہماری بھی امامت فرمائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی اپنے پیچھے صف میں کھڑا کر لیا اور ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فراغت ہوئی تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ کون لوگ تھے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ نصیبین کے جن تھے، میرے پاس اپنے کچھ جھگڑوں کا فیصلہ کرانے کے لئے آئے تھے، انہوں نے مجھ سے زاد سفر بھی مانگا تھا جو میں نے انہیں دے دیا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز تھی جو آپ انہیں زاد راہ کے طور پر دے سکتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے انہیں لید دی ہے، انہیں جو بھی مینگنی ملتی ہے وہ جو بن جاتی ہے اور جو بھی ہڈی ملتی ہے اس پر گوشت آجاتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مینگنی اور ہڈی سے استنجا کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4381]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى زيد.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى زيد.
حدیث نمبر: 4382 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَنْ تَشَهُّدِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا، فَكُنَّا نَحْفَظُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ أَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ إِيَّاهُ، قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ إِذَا جَلَسَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، قَالَ ثُمَّ إِنْ كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ نَهَضَ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ تَشَهُّدِهِ، وَإِنْ كَانَ فِي آخِرِهَا، دَعَا بَعْدَ تَشَهُّدِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، ثُمَّ يُسَلِّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے نماز کے درمیان اور اختتام کا تشہد سکھایا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب درمیان نماز یا اختتام نماز پر اپنے بائیں سرین پر بیٹھتے تو یوں کہتے تھے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر اگر نماز کا درمیان ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشہد پڑھ کر کھڑے ہو جاتے تھے، اور اگر اختتام نماز ہوتا تو تشہد کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو چاہتے دعا مانگتے، پھر سلام پھیر دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4382]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق وقد صرح بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق وقد صرح بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه.
حدیث نمبر: 4383 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، أَبِيهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَنِ انْصِرَافِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ عَنِ انْصِرَافِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ عَنْ يَمِينِهِ كَانَ يَنْصَرِفُ، أَوْ عَنْ يَسَارِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ حَيْثُ أَرَادَ، كَانَ" أَكْثَرُ انْصِرَافِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ إِلَى حُجْرَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ سوال پوچھتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس جاتے تھے یا بائیں جانب سے؟ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہاں سے چاہتے تھے واپس چلے جاتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی واپسی اکثر بائیں جانب سے اپنے حجرات کی طرف ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4383]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق.
حدیث نمبر: 4384 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ ، الْأَسْوَدَ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ، أَنَّ الْأَسْوَدَ حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" عَامَّةَ مَا يَنْصَرِفُ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى يَسَارِهِ إِلَى الْحُجُرَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اپنے حجرات کی طرف واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4384]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق.
حدیث نمبر: 4385 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ ، عَمَّنْ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ أَمِيرٌ عَلَى الْكُوفَةِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، إِذْ نَظَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى الظِّلِّ، فَرَآهُ قَدْرَ الشِّرَاكِ، فَقَالَ:" إِنْ يُصِبْ صَاحِبُكُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجْ الْآنَ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا فَرَغَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ كَلَامِهِ حَتَّى خَرَجَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، يَقُولُ: الصَّلَاةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ ایک مرتبہ کوفہ کی جامع مسجد میں جمعہ کے دن لوگ اکٹھے تھے، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر تھے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وزیر خزانہ تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سائے کو دیکھا تو وہ تسمہ کے برابر ہو چکا تھا، وہ فرمانے لگے کہ اگر تمہارے ساتھی (گورنر) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو ابھی نکل آئیں گے، واللہ! سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نماز، نماز کہتے ہوئے باہر نکل آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4385]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الشيخ الذي روى عنه محمد القرظي.
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الشيخ الذي روى عنه محمد القرظي.
حدیث نمبر: 4386 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَمِّي عَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِالْهَاجِرَةِ، قَالَ:" فَأَقَامَ الظُّهْرَ لِيُصَلِّيَ، فَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَيَدِ عَمِّي، ثُمَّ جَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرَ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ قَامَ بَيْنَنَا، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفًّا وَاحِدًا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ وَأَلْصَقَ ذِرَاعَيْهِ بِفَخِذَيْهِ، وَأَدْخَلَ كَفَّيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوپہر کے وقت میں علقمہ کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوئی تو ہم دونوں ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک ہاتھ سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ سے میرے ساتھی کو اور ہمیں آگے کھینچ لیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص ایک کونے پر ہو گیا اور وہ خود ہمارے درمیان کھڑے ہو گئے، پھر انہوں نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے، پھر ہمیں نماز پڑھا کر فرمایا: عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کر دیا کریں گے، تم ان کا انتظار مت کرنا، اور ان کے ساتھ نوافل کی نیت سے شریک ہو جایا کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4386]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 534، وهذا إسناد حسن لأجل ابن إسحاق.
الحكم: صحيح لغيره، م: 534، وهذا إسناد حسن لأجل ابن إسحاق.
حدیث نمبر: 4387 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الْخَطْمِيُّ ، سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ ، أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: كَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: فَخَرَجَ عُثْمَانُ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ تِلْكَ الصَّلَاةَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ عُثْمَانُ، فَدَخَلَ دَارَهُ، وَجَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدْ أَصَابَهُمَا، فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ، فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتْ الَّتِي تَحْذَرُونَ، كَانَتْ وَأَنْتُمْ عَلَى غَيْرِ غَفْلَةٍ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ، كُنْتُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا، وَاكْتَسَبْتُمُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوشریح خزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سورج گرہن ہوا، مدینہ منورہ میں اس وقت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نکلے اور لوگوں کو سورج گرہن کی نماز ہر رکعت میں دو رکوعوں اور دو سجدوں کے ساتھ پڑھائی، اور نماز پڑھا کر اپنے گھر واپس تشریف لے گئے جبکہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس ہی بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے گرد بیٹھ گئے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں سورج اور چاند گرہن کے وقت نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے، اس لئے جب تم ان دونوں کو گرہن لگتے ہوئے دیکھو تو فورا نماز کی طرف متوجہ ہو جایا کرو، اس لئے کہ اگر یہ وہی بات ہوئی جس سے تمہیں ڈرایا جاتا ہے (اور تم نماز پڑھ رہے ہو) تو تم غفلت میں نہ ہو گے، اور اگر یہ وہی علامت قیامت نہ ہوئی تب بھی تم نے نیکی کا کام کیا اور بھلائی کمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4387]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف سفيان بن أبي العوجاء السلمي.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف سفيان بن أبي العوجاء السلمي.
حدیث نمبر: 4388 مسند احمد
سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ، قَالَ سَعْدٌ: قُلْتُ لِأَبِي: حَتَّى يَقُومَ؟ قَالَ: حَتَّى يَقُومَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا: کھڑے ہونے تک؟ فرمایا: ہاں! [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4388]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبن مسعود.