بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 9 از 45
حدیث نمبر: 3708 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَاصِمٌ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، حَدَّثَنِي عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ حَيْثُ قُتِلَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ: إِنَّ هَذَا وَابْنَ أُثَالٍ، كَانَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَسُولَيْنِ لمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" قَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ!! فَقَالَ:" لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا، لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا"، قَالَ: فَجَرَتْ سُنَّةً أَنْ لَا يُقْتَلَ الرَّسُولُ، فَأَمَّا ابْنُ أُثَالٍ، فَكَفَانَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا هَذَا، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ فِيهِ، حَتَّى أَمْكَنَ اللَّهُ مِنْهُ الْآنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن نواحہ کو قتل کیا تو فرمایا کہ یہ اور ابن اثال، مسیلمہ کذاب کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قاصد بن کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا تھا: کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انہوں نے کہا کہ ہم تو مسیلمہ کے پیغمبر اللہ ہونے کی گواہی دیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں قاصدوں کو قتل کرتا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا، اس وقت سے یہ رواج ہو گیا کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جاتا، بہرحال! ابن اثال سے تو اللہ نے ہماری کفایت فرما لی (وہ مر گیا) یہ شخص اسی طرح رہا، یہاں تک کہ اب اللہ نے اس پر قابو عطا فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3708]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، يزيد سمع من المسعودي بعد ما اختلط ، والمسعودي كان يغلط فيما يرويه عن عاصم.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، يزيد سمع من المسعودي بعد ما اختلط ، والمسعودي كان يغلط فيما يرويه عن عاصم.
حدیث نمبر: 3709 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ، فَأَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ جَعَلْتُ أَمْسَحُ جَنْبَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا آذَنْتَنَا حَتَّى نَبْسُطَ لَكَ عَلَى الْحَصِيرِ شَيْئًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِي وَلِلدُّنْيَا؟ مَا أَنَا وَالدُّنْيَا؟ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا كَرَاكِبٍ ظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلوئے مبارک پر پڑ گئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو کو جھاڑنے لگا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں اس بات کی اجازت کیوں نہیں دیتے کہ اس چٹائی پر کچھ بچھا دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا، میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جو تھوڑی دیر سایہ لینے کے لئے کسی درخت کے نیچے رکا، پھر اسے چھوڑ کر چل پڑا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3709]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، يزيد- وإن سمع من المسعودي بعد الاختلاط - متابع.
الحكم: حديث صحيح، يزيد- وإن سمع من المسعودي بعد الاختلاط - متابع.
حدیث نمبر: 3710 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الثَّقَفِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟" قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: أَنَا، فقال:" إِنَّكَ تنامُ"، ثم أعاد:" مَنْ يَحْرُسُنا اللَّيْلَةَ؟" فقلت: أَنَا، حَتَّى عَادَ مِرَارًا، قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَأَنْتَ إِذًا"، قَالَ: فَحَرَسْتُهُمْ، حَتَّى إِذَا كَانَ وَجْهُ الصُّبْحِ، أَدْرَكَنِي قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ تَنَامُ"، فَنِمْتُ، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِي ظُهُورِنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوءِ، وَرَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوا عنها، لَمْ تَنَامُوا، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ تَكُونُوا لِمَنْ بَعْدَكُمْ، فَهَكَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ"، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ، فَخَرَجَ النَّاسُ فِي طَلَبِهَا، فَجَاءُوا بِإِبِلِهِمْ، إِلَّا نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ هَهُنَا"، فَأَخَذْتُ حَيْثُ قَالَ لِي، فَوَجَدْتُ زِمَامَهَا قَدْ الْتَوَى عَلَى شَجَرَةٍ، مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَهَا مُلْتَوِيًا عَلَى شَجَرَةٍ، مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ، قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةُ الْفَتْحِ: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیبیہ سے رات کو واپس آ رہے تھے، ہم نے ایک نرم زمین پر پڑاؤ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہماری خبرگیری کون کرے گا؟ (فجر کے لئے کون جگائے گا؟)، میں نے اپنے آپ کو پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بھی سوگئے تو؟ میں نے عرض کیا: نہیں سوؤں گا، کئی مرتبہ کی تکرار کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ ہی کو متعین فرما دیا اور میں پہرہ داری کرنے لگا، لیکن جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشاد تم بھی سو جاؤ گے کے مطابق میری بھی آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ سورج نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی بیدار ہو گئے اور اسی طرح وضو اور فجر کی سنتیں ادا کیں جیسے کرتے تھے، پھر ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور فارغ ہو کر فرمایا: اگر اللہ چاہتا کہ تم نہ سوؤ تو تم کبھی نہ سوتے، لیکن اللہ کی مشیت تھی کہ بعد والوں کے لئے تم پیشوا بن جاؤ، لہذا اب اگر کوئی شخص نماز کے وقت میں سو جائے یا بھول جائے تو اسے اسی طرح کرنا چاہئے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی اور لوگوں کے اونٹ منتشر ہو گئے، لوگ انہیں تلاش کرنے کے لئے نکلے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی کے علاوہ تمام اونٹ مل گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: یہاں جا کر تلاش کرو، میں متعلقہ جگہ پہنچا تو دیکھا کہ اس کی لگام ایک درخت سے الجھ گئی ہے، جسے ہاتھ سے ہی کھولنا ممکن تھا، میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے اس کی لگام درخت سے الجھی ہوئی دیکھی تھی جسے ہاتھ سے ہی کھولنا ممکن تھا، اور پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ فتح نازل ہوئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3710]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، يزيد سمع من المسعودي بعد الاختلاط.
الحكم: إسناده ضعيف، يزيد سمع من المسعودي بعد الاختلاط.
حدیث نمبر: 3711 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الْجَابِرِ ، أَبِي مَاجِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الْجَابِرِ ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ بِابْنِ أَخٍ لَهُ، فَقَالَ له: إِنَّ هَذَا ابْنُ أَخِي، وَقَدْ شَرِبَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدْ عَلِمْتُ أَوَّلَ حَدٍّ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ: امْرَأَةٌ سَرَقَتْ، فَقُطِعَتْ يَدُهَا، فَتَغَيَّرَ لِذَلِكَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغَيُّرًا شَدِيدًا، ثُمَّ قَالَ:" وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوماجد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص اپنا ایک بھتیجا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یہ میرا بھتیجا ہے اور اس نے شراب پی رکھی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسلام میں سب سے پہلے سزا کس پر جاری کی گئی تھی؟ ایک عورت تھی جس نے چوری کی تھی، اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ اڑ گیا اور فرمایا: انہیں معاف کرنا اور در گزر کرنا چاہیے تھا، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے؟ اور اللہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3711]
حکم دارالسلام
إسناده مسلسل بالضعفاء، يزيد سمع من المسعودي بعد الاختلاط ، ويحيى ضعيف، وأبو ماجد مجهول.
الحكم: إسناده مسلسل بالضعفاء، يزيد سمع من المسعودي بعد الاختلاط ، ويحيى ضعيف، وأبو ماجد مجهول.
حدیث نمبر: 3712 مسند احمد
يَزِيدُ ، فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَحُزْنَهُ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَجًا"، قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَتَعَلَّمُهَا؟ فَقَالَ:" بَلَى، يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو جب کبھی کوئی مصیبت یا غم لاحق ہو اور وہ یہ کلمات کہہ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت اور غم کو دور کر کے اس کی جگہ خوشی عطا فرمائیں گے، وہ کلمات یہ ہیں: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي» اے اللہ! میں آپ کا غلام ابن غلام ہوں، آپ کی باندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، میری ذات پر آپ ہی کا حکم چلتا ہے، میری ذات کے متعلق آپ کا فیصلہ عدل و انصاف والا ہے، میں آپ کو آپ کے ہر اس نام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو آپ نے اپنے لئے خود تجویز کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا، کہ آپ قرآن کریم کو میرے دل کی بہار، سینے کا نور، غم میں روشنی اور پریشانی کی دوری کا ذریعہ بنا دیں، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس دعا کو سیکھ لیں؟ فرمایا: کیوں نہیں، جو بھی اس دعا کو سنے اس کے لئے مناسب ہے کہ اسے سیکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3712]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وأبو سلمة الجهني مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، وأبو سلمة الجهني مجهول.
حدیث نمبر: 3713 مسند احمد
يَزِيدُ ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا وَقَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ فِي الْمَعَاصِي، نَهَتْهُمْ عُلَمَاؤُهُمْ، فَلَمْ يَنْتَهُوا، فَجَالَسُوهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ قَالَ يَزِيدُ: أَحْسِبُهُ قَالَ: وَأَسْوَاقِهِمْ، وَوَاكَلُوهُمْ وَشَارَبُوهُمْ، فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ، وَلَعَنَهُمْ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ، وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ"، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا، فَجَلَسَ، فَقَالَ:" لَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، حَتَّى تَأْطُرُوهُمْ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہو گئے تو ان کے علماء نے انہیں اس سے روکا، لیکن جب وہ باز نہ آئے تب بھی ان کے علماء ان کی مجلسوں میں بیٹھتے رہے، ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا اور ان پر حضرت داؤود و حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی زبانی لعنت فرمائی، جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ چکے تھے۔ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ حدیث بیان فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکیے سے ٹیک لگا رکھی تھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جب تک تم لوگوں کو حق کی طرف موڑ نہیں دیتے (اس وقت تک ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور کھانا پینا تمہیں ان ہی کے زمرے میں شامل کر دے گا)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3713]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يمسع من أبيه عبدالله.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يمسع من أبيه عبدالله.
حدیث نمبر: 3714 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ البُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ البُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ آخِرَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ يَمْشِي عَلَى الصِّرَاطِ، فَيَنْكَبُّ مَرَّةً، وَيَمْشِي مَرَّةً، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً، فَإِذَا جَاوَزَ الصِّرَاطَ، الْتَفَتَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ، لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ مَا لَمْ يُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، قَالَ: فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ: أَيْ عَبْدِي، فَلَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، وَيُعَاهِدُ اللَّهَ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَالرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَسْأَلُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ يَعْنِي عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ، وَهِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ: أَيْ عَبْدِي، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي؟ يَعْنِي أَنَّكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا! فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَيُعَاهِدُهُ، وَالرَّبُّ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَسْأَلُهُ غَيْرَهَا، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، هِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا، فَيَقُولُ: رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ: أَيْ عَبْدِي، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟! فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، هَذِهِ الشَّجَرَةُ، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَيُعَاهِدُهُ، وَالرَّبُّ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَسْأَلُهُ غَيْرَهَا، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، الْجَنَّةَ، الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: يا عَبْدِي، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنَّكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا؟! فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَقُولُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا يَصْرِينِي مِنْكَ، أَيْ عَبْدِي؟ أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ مِنَ الْجَنَّةِ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا؟ قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَهْزَأُ بِي، وَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ"، قَالَ: فَضَحِكَ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي لِمَ ضَحِكْتُ؟ قَالُوا لَهُ: لِمَ ضَحِكْتَ؟ قَالَ: لِضَحِكِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَسْأَلُونِي لِمَ ضَحِكْتُ؟" قَالُوا: لِمَ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لِضَحِكِ الرَّبِّ، حِينَ قَالَ: أَتَهْزَأُ بِي، وَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ؟!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا وہ آدمی ہو گا جو پل صراط پر چلتے ہوئے کبھی اوندھا گر جاتا ہو گا، کبھی چلنے لگتا ہو گا اور کبھی آگ کی لپٹ اسے جھلسا دیتی ہو گی، جب وہ پل صراط کو عبور کر چکے گا تو اس کی طرف پلٹ کر دیکھے گا اور کہے گا کہ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی، اللہ نے یہ مجھے ایسی نعمت عطا فرمائی ہے جو اولین و آخرین میں سے کسی کو نہیں دی۔ اس کے بعد اس کی نظر ایک درخت پر پڑے گی جو اسی کی وجہ سے وہاں لایا گیا ہوگا، وہ اسے دیکھ کر کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور اس کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: اے میرے بندے! اگر میں نے تجھے اس درخت کے قریب کر دیا تو تو مجھ سے کچھ اور بھی مانگے گا؟ وہ عرض کرے گا: نہیں، پروردگار! اور اللہ سے کسی اور چیز کا سوال نہ کرنے کا وعدہ کرے گا حالانکہ پروردگار کے علم میں یہ بات ہوگی کہ وہ اس سے مزید کچھ اور بھی مانگے گا کیونکہ اس کے سامنے چیزیں ہی ایسی آئیں گی جن پر صبر نہیں کیا جا سکتا، تاہم اسے اس درخت کے قریب کر دیا جائے گا۔ کچھ دیر بعد اس کی نظر اس سے بھی زیادہ خوبصورت درخت پر پڑے گی اور حسب سابق سوال جواب ہوں گے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ بندے! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگوں گا؟ وہ عرض کرے گا: پروردگار! بس اس مرتبہ اور، اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگوں گا، تین مرتبہ اس طرح ہونے کے بعد وہ جنت کے دروازے کے قریب پہنچ چکا ہوگا اور اس کے کانوں میں اہل جنت کی آوازیں پہنچ رہی ہوں گی، وہ عرض کرے گا: پروردگار! مجھے جنت میں داخلہ عطا فرما، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ اے بندے! تجھ سے میرا پیچھا کیا چیز چھڑائے گی؟ کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے جنت میں دنیا اور اس کے برابر مزید دے دیا جائے؟ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار! تو رب العزت ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے؟ اتنا کہہ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اتنا ہنسے کہ ان کے دندان ظاہر ہو گئے، پھر کہنے لگے کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ خود ہی اپنے ہنسنے کی وجہ بتا دیجئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہنسنے کی وجہ سے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس موقع پر مسکرائے تھے اور ہم سے فرمایا تھا کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ خود ہی اپنے مسکرانے کی وجہ بتا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پروردگار کے ہنسنے کی وجہ سے، جب اس نے یہ عرض کیا کہ پروردگار! آپ رب العزت ہو کر مجھ سے مذاق کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3714]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6571 ، م: 186.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6571 ، م: 186.
حدیث نمبر: 3715 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، أَبِي سَعْدٍ ، أَبِي الْكَنُودِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الْكَنُودِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، أَوْ حَلَقَةِ الذَّهَبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں سونے کے چھلے یا انگوٹھی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3715]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد.
حدیث نمبر: 3716 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، زُبَيْدٍ ، مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ، مَلَأَ اللَّهُ بُطُونَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3716]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 628 ، وهذا إسناد فيه محمد بن طلحة مختلف فيه.
الحكم: حديث صحيح، م: 628 ، وهذا إسناد فيه محمد بن طلحة مختلف فيه.
حدیث نمبر: 3717 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي عُثْمَانَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا يُنَادِي أَوْ قَالَ: يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ، وَيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ، لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَلَكِنْ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا"، وَضَمَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو أَصَابِعَهُ، وَصَوَّبَهَا، وَفَتَحَ مَا بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ، يَعْنِي الْفَجْرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے روک نہ دے کیونکہ وہ اس لئے جلدی اذان دے دیتے ہیں کہ قیام اللیل کرنے والے واپس آ جائیں، اور سونے والے بیدار ہو جائیں (اور سحری کھا لیں) صبح صادق اس طرح نہیں ہوتی - راوی نے اپنا ہاتھ ملا کر بلند کیا - بلکہ اس طرح ہوتی ہے، راوی نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو جدا کر کے دکھایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3717]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 621، م: 1093.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 621، م: 1093.
حدیث نمبر: 3718 مسند احمد
مُحَمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3718]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6168، م: 2940.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6168، م: 2940.
حدیث نمبر: 3719 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِِسْحَاقَ ، أَبِي الْأََحْوَصِ ، عَبْدِ اللهِ
(حديث مرفوع) حَدّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأََحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: إِِنَّ نَاسًا سَأََلُُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَاحِبٍ لَهُمْ يَكْوِي نَفْسَهُ، قَالَ: فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ:" ارْضِفُوهُ، أَحْرِِقُوهُ"، قَالَ: وَكَرِِهَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر «سُبْحَنَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ» پڑھتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ نصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں کہنے لگے: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» اے اللہ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3719]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من عبدالله.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من عبدالله.
حدیث نمبر: 3720 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ:" سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي"، قَالَ: فَلَمَّا نَزَلَتْ: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، قَالَ:" سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سکھایا ہے کہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر حسب ذیل تین آیات پڑھے: « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 102] » اے اہل ایمان! اللہ سے اسی طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہونے کی حالت میں، « ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [النساء: 1] » اے لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں کے ذریعے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا اور اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتہ داریوں کے بارے ڈرو، بیشک اللہ تمہارے اوپر نگران ہے، « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا o يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ [الأحزاب: 70-71] » اے اہل ایمان! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو، اللہ تمہارے اعمال کی اصلاح کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرتا ہے وہ بہت عظیم کامیابی حاصل کر لیتا ہے، اس کے بعد اپنی ضرورت کا ذکر کر کے دعا مانگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3720]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة بن عبدالله لم يسمع من أبيه.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة بن عبدالله لم يسمع من أبيه.
حدیث نمبر: 3721 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ ، عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، وَأَبِي الأحْوَص ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ، فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ، فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 70 - 71، ثُمَّ تَذْكُرُ حَاجَتَكَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، وَأَبِي الأحْوَص ، قَالَ: وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُطْبَتَيْنِ: خُطْبَةَ الْحَاجَةِ، وَخُطْبَةَ الصَّلَاةِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ... فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3721]
حکم دارالسلام
إسناده من طريق أبى عبيدة ضعيف لانقطاعه، ومن طريق أبى الأحوص صحيح.
الحكم: إسناده من طريق أبى عبيدة ضعيف لانقطاعه، ومن طريق أبى الأحوص صحيح.
حدیث نمبر: 3722 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ، إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ، فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ، فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ:" اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ: أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ، شُعْبَةُ الشَّاكُّ، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ، غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَيًّا تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ، فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں تھے، دائیں بائیں قریش کے کچھ لوگ موجود تھے، اتنی دیر میں عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی لے آیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت پر ڈال دیا، جس کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا سر نہ اٹھا سکے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا تو وہ جلدی سے آئیں اور اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت سے اتار کر دور پھینکا اور یہ گندی حرکت کرنے والے کو بد دعائیں دینے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: اے اللہ! قریش کے ان سرداروں کی پکڑ فرما، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سب کو دیکھا کہ یہ غزوہ بدر کے موقع پر مارے گئے اور انہیں گھسیٹ کر ایک کنوئیں میں ڈال دیا گیا، سوائے امیہ کے جس اعضاء کٹ چکے تھے، اسے کنوئیں میں نہیں ڈالا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3722]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3854، م: 1794.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3854، م: 1794.
حدیث نمبر: 3723 مسند احمد
خَلَفٌ ، إِسْرَائِيلُ
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَمْرَو بْنَ هِشَامٍ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، وَزَادَ: وَعِمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں عمارہ بن ولید کے نام کا اضافہ بھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3723]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:520 ، م: 1794.
الحكم: إسناده صحيح، خ:520 ، م: 1794.
حدیث نمبر: 3724 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ ، شُعْبَةُ ، مِسْعَرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً، وَسَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا، فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرَاهِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ، إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فِيهِ فَأَهْلَكَهُمْ"، قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي مِسْعَرٌ عَنْهُ، وَرَفَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَا تَخْتَلِفُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی، جسے سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا یا مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار محسوس ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے اس لئے تم اختلاف نہ کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3724]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2610.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2610.
حدیث نمبر: 3725 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ: لَا تَصْلُحُ سَفْقَتَانِ فِي سَفْقَةٍ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ آكِلَ الرِّبَا، وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَهُ، وَكَاتِبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک معاملے میں دو معاملے کرنا صحیح نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملے پر گواہ بننے والے اور اسے تحریر کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3725]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1597، وهذا إسناد حسن، عبدالرحمن بن عبدالله بن مسعود صرح بسماعه لهذا الحديث من أبيه.
الحكم: صحيح لغيره، م: 1597، وهذا إسناد حسن، عبدالرحمن بن عبدالله بن مسعود صرح بسماعه لهذا الحديث من أبيه.
حدیث نمبر: 3726 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الَّذِي يُعِينُ عَشِيرَتَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ، مَثَلُ الْبَعِيرِ رُدِّيَ فِي بِئْرٍ، فَهُوَ يَمُدُّ بِذَنَبِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص اپنے قبیلے والوں کی کسی ایسی بات پر مدد اور حمایت کرتا ہے جو ناحق اور غلط ہو، اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنوئیں میں گر پڑے، پھر اپنی دم کے سہارے کنوئیں سے باہر نکلنا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3726]
حکم دارالسلام
إسناده حسن عند من يصحح سماع عبدالرحمن من أبيه، وضعيف عند من يقول: إنه لم يسمع منه إلا اليسير.
الحكم: إسناده حسن عند من يصحح سماع عبدالرحمن من أبيه، وضعيف عند من يقول: إنه لم يسمع منه إلا اليسير.
حدیث نمبر: 3727 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ، وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ، حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا، وَلَا يَزَالُ يَكْذِبُ، وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ، حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان مسلسل سچ بولتا اور اس کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے، اور انسان مسلسل جھوٹ بولتا اور اسی میں غور و فکر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3727]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6094، م: 2607
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6094، م: 2607