بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3709
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3709
حدیث نمبر: 3709 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ، فَأَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ جَعَلْتُ أَمْسَحُ جَنْبَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا آذَنْتَنَا حَتَّى نَبْسُطَ لَكَ عَلَى الْحَصِيرِ شَيْئًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِي وَلِلدُّنْيَا؟ مَا أَنَا وَالدُّنْيَا؟ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا كَرَاكِبٍ ظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلوئے مبارک پر پڑ گئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو کو جھاڑنے لگا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں اس بات کی اجازت کیوں نہیں دیتے کہ اس چٹائی پر کچھ بچھا دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا، میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جو تھوڑی دیر سایہ لینے کے لئے کسی درخت کے نیچے رکا، پھر اسے چھوڑ کر چل پڑا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3709]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، يزيد- وإن سمع من المسعودي بعد الاختلاط - متابع.
الحكم: حديث صحيح، يزيد- وإن سمع من المسعودي بعد الاختلاط - متابع.
← پچھلی حدیث (3708) باب پر واپس اگلی حدیث (3710) →