بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 3 از 45
حدیث نمبر: 3588 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، وَعَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ فَخِذَيْهِ، وَلْيَجْنَأْ، ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ طَبَّقَ كَفَّيْهِ، فَأَرَاهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص رکوع کرے تو اپنے بازؤوں کو اپنی رانوں پر بچھا لے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو جوڑ لے، گویا میں اب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی منتشر انگلیاں دیکھ رہا ہوں، یہ کہہ کر انہوں نے دونوں ہتھیلیوں کو رکوع کی حالت میں جوڑ کر دکھایا، (یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3588]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 534
الحكم: إسناده صحيح، م: 534
حدیث نمبر: 3589 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ؟ قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ الَّذِي تَعْنُونَ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: « ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ . . . . .﴾ [الأنعام: 82] » وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا . . . . . تو لوگوں پر یہ بات بڑی شاق گزری اور وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم میں سے کون شخص ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا وہ مطلب نہیں ہے جو تم مراد لے رہے ہو، کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو عبد صالح (حضرت لقمان علیہ السلام) نے فرمائی تھی کہ پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے، اس آیت میں بھی شرک ہی مراد ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3589]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 35، م: 124
الحكم: إسناده صحيح، خ: 35، م: 124
حدیث نمبر: 3590 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ،، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، أَبَلَغَكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْمِلُ الْخَلَائِقَ عَلَى أُصْبُعٍ، وَالسَّمَوَاتِ عَلَى أُصْبُعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى أُصْبُعٍ، وَالشَّجَرَ عَلَى أُصْبُعٍ، وَالثَّرَى عَلَى أُصْبُعٍ؟!" فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الأنعام آية 91 الْآيَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر، تمام درختوں کو ایک انگلی پر اور ساری نمناک مٹی کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی یہ بات سن کر اتنا ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور اسی پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ [الزمر: 67] » انہوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3590]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7415، م: 2786
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7415، م: 2786
حدیث نمبر: 3591 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَرَأَ سُورَةَ يُوسُفَ بِحِمْصَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ! فَدَنَا مِنْهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَوَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ، فَقَالَ: أَتُكَذِّبُ بِالْحَقِّ، وَتَشْرَبُ الرِّجْسَ؟! لَا أَدَعُكَ حَتَّى أَجْلِدَكَ حَدًّا، قَالَ: فَضَرَبَهُ الْحَدَّ، وَقَالَ: وَاللَّهِ، لَهَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ حمص نامی شہر میں سورہ یوسف کی تلاوت فرما رہے تھے کہ ایک آدمی کہنے لگا کہ یہ سورت اس طرح نازل نہیں ہوئی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کے قریب گئے تو اس کے منہ سے شراب کی بدبو آئی، انہوں نے فرمایا کہ تو حق کی تکذیب کرتا ہے اور شراب بھی پیتا ہے؟ واللہ! میں تجھ پر حد جاری کئے بغیر تجھے نہیں چھوڑوں گا، چنانچہ انہوں نے اس پر حد جاری کی اور فرمایا: واللہ! مجھے یہ سورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی طرح پڑھائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3591]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5001، م: 801
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5001، م: 801
حدیث نمبر: 3592 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِنًى، فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ، فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلَا نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً، لَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ، لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ، فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ منیٰ کے میدان میں، میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلا جا رہا تھا کہ را سے میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، وہ ان کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے ابوعبدالرحمن! کیا ہم آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے نہ کرا دیں تاکہ وہ ماضی کی باتیں یاد کرایا کرے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے تو یہ بات کہی ہے، ہم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اے گروہ نوجواناں! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی صلاحیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے، اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کر لینا چاہیے کیونکہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5065 ، م: 1400
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5065 ، م: 1400
حدیث نمبر: 3593 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ :" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ"، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے میدان منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بھی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3593]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1084،م: 695
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1084،م: 695
حدیث نمبر: 3594 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جس کی گواہی قسم سے آگے بڑھ جائے گی اور قسم گواہی سے آگے بڑھ جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3594]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6429 ، م: 2533
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6429 ، م: 2533
حدیث نمبر: 3595 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّنِي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْطَلِقْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَذْهَبُ يَدْخُلُ، فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَيَرْجِعُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّهْ، فَيَتَمَنَّى، فَيُقَالُ: إِنَّ لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ، وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟!" قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اس شخص کو خوب جانتا ہوں جو جہنم سے سب سے آخر میں نکلے گا، وہ ایک شخص ہوگا جو اپنی سرین کے بل گھستا ہوا جہنم سے نکلے گا، اس سے کہا جائے گا کہ جا، جنت میں داخل ہو جا، وہ جنت میں داخل ہوگا تو دیکھے گا کہ سب لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں میں پہنچ چکے، وہ لوٹ کر عرض کرے گا: پروردگار! یہاں تو سب لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانے قبضے میں کر لئے ہیں (میں کہا جاؤں؟)، اس سے کہا جائے گا کہ کیا تجھے اپنی مصیبتوں کا وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو گرفتار تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں! پھر اس سے کہا جائے گا کہ تو تمنا کر، وہ تمنائیں ظاہر کرے گا، اس سے کہا جائے گا کہ تو نے جتنی چیزوں کی تمنا کی، تجھے وہ بھی دی جاتی ہیں اور دنیا سے دس گنا بڑی (حکومت یا دنیا) تجھے مزید دی جاتی ہے، وہ عرض کرے گا: پروردگار! تو بادشاہ ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3595]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6571 ، م: 186
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6571 ، م: 186
حدیث نمبر: 3596 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا أَحْسَنْتُ فِي الْإِسْلَامِ، أُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ:" إِذَا أَحْسَنْتَ فِي الْإِسْلَامِ، لَمْ تُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلْتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِذَا أَسَأْتَ فِي الْإِسْلَامِ، أُخِذْتَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر میں اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لوں تو کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر میرا مؤاخذہ ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3596]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6921، م: 120
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6921، م: 120
حدیث نمبر: 3597 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ"، فَقَالَ الْأَشْعَثُ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟" قُلْتُ: لَا، فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ:" احْلِفْ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَنْ يَحْلِفَ فَيَذْهَبَ مَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے، وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہو گا، یہ سن کر سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ یہ ارشاد میرے واقعے میں نازل ہوا تھا، جس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ زمین مشترک تھی، یہودی میرے حصے کا منکر ہو گیا، میں اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ میں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہودی سے فرمایا کہ تم قسم کھاؤ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ تو قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، اس پر اللہ نے یہ آیت آخر تک نازل فرمائی: « ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا . . . . .﴾ [آل عمران: 77] » جو لوگ اللہ کے وعدے اور اپنی قسم کو معمولی سی قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں . . . . .۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3597]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2416، م:138
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2416، م:138
حدیث نمبر: 3598 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ:" يَا غُلَامُ، هَلْ مِنْ لَبَنٍ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ، قَالَ:" فَهَلْ مِنْ شَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ؟" فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ، فَمَسَحَ ضَرْعَهَا، فَنَزَلَ لَبَنٌ، فَحَلَبَهُ فِي إِنَاءٍ، فَشَرِبَ، وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ:" اقْلِصْ"، فَقَلَصَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ هَذَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ، قَالَ: فَمَسَحَ رَأْسِي، وَقَالَ:" يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَإِنَّكَ غُلَيِّمٌ مُعَلَّمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے لڑکے! کیا تمہارے پاس دودھ ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، لیکن میں اس پر امین ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسی بکری تمہارے پاس ہے جس پر نر جانور نہ کودا ہو؟ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایسی بکری لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا تو اس میں دودھ اتر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک برتن میں دوہا، خود بھی پیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلایا، پھر تھن سے مخاطب ہو کر فرمایا: سکڑ جاؤ، چنانچہ وہ تھن دوبارہ سکڑ گئے، تھوڑی دیر بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے بھی یہ بات سکھا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے دعا دی کہ اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، تم سمجھدار بچے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3598]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3599 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ، بِصَخْرَةٍ مَنْقُورَةٍ، فَاحْتَلَبَ فِيهَا، فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ وَشَرِبْتُ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ، قُلْتُ: عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقُرْآنِ، قَالَ: إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ، قَالَ: فَأَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک اندر سے کھدا ہوا پتھر لے کر آئے اور اس میں دودھ دوہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اسے نوش فرمایا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اور میں نے بھی اسے پیا، تھوڑی دیر بعد میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے بھی یہ قرآن سکھا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم سمجھدار بچے ہو، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک سے سن کر ستر سورتیں یاد کر لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3599]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3600 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٌ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ، فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ، يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ، فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا، فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ، وَمَا رَأَوْا سَيِّئًا، فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی تو قلب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب سے بہتر پایا اس لئے اللہ نے ان ہی کو اپنے لئے منتخب فرما لیا اور انہیں پیغمبری کا شرف عطا کر کے مبعوث فرمایا، پھر قلب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نکال کر دوبارہ اپنے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل کو سب سے بہترین پایا، چنانچہ اللہ نے انہیں اپنے نبی کا وزیر بنا دیا، جو ان کے دین کی بقا کے لئے اللہ کے راستہ میں قتال کرتے ہیں، اس لئے مسلمان جس چیز کو اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے، اور جو چیز مسلمانوں کی نگاہوں میں بری ہو، وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3600]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3601 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ صَلَاةً لِغَيْرِ وَقْتِهَا، فَإِذَا أَدْرَكْتُمُوهُمْ، فَصَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ فِي الْوَقْتِ الَّذِي تَعْرِفُونَ، ثُمَّ صَلُّوا مَعَهُمْ، وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہو سکتا ہے تمہیں ایسی اقوام کا زمانہ بھی ملے جو نماز کو اپنے وقت مقررہ سے ہٹا کر پڑھیں، اگر تم انہیں پاؤ تو نماز کو اس کے وقت مقررہ پر اپنے گھر میں ہی پڑھ لینا، پھر جب وہ پڑھیں تو ان کے ساتھ بھی شریک ہو جانا اور اسے نفلی نماز سمجھ لینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3601]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3602 مسند احمد
جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، فَلَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ؟ فَلَمَّا سَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟، قَالَ:" لَا، وَمَا ذَاكَ؟" قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ فَثَنَى رِجْلَيْهِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّلَاةَ، فَإِذَا سَلَّمَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس میں کچھ کمی ہو گئی یا بیشی؟ بہرحال! جب سلام پھیرا تو کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا نماز کے بارے کوئی نیا حکم نازل ہو گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، کیا ہوا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ نے تو اس اس طرح نماز پڑھائی ہے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سہو کے دو سجدے کر لئے، پھر جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میں بھی انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول سکتا ہوں، اور تم میں سے کسی کو جب کبھی اپنی نماز میں شک پیدا ہو جائے تو وہ خوب غور کر کے محتاط رائے کو اختیار کر لے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3602]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 401، م : 572
الحكم: إسناده صحيح، خ: 401، م : 572
حدیث نمبر: 3603 مسند احمد
جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، خَيْثَمَةَ ، رَجُلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ يَعْنِي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، إِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ: مُصَلٍّ، أَوْ مُسَافِرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز عشا کے بعد باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں، سوائے دو آدمیوں کے، جو نماز پڑھ رہا ہو یا جو مسافر ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3603]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن مسعود
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن مسعود
حدیث نمبر: 3604 مسند احمد
جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ:" مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ، فَلَا يُؤَاخَذُ بِهِ، وَمَنْ أَسَاءَ، فَيُؤْخَذُ بِعَمَلِهِ الْأَوَّلِ وَالْآخِرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3604]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6921، م: 120
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6921، م: 120
حدیث نمبر: 3605 مسند احمد
جَرِيرٌ ، الرُّكَيْنِ ، الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الرُّكَيْنِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ: تَخَتُّمَ الذَّهَبِ، وَجَرَّ الْإِزَارِ، وَالصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ" قَالَ جَرِيرٌ: إِنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ نَتْفَهُ، وَعَزْلَ الْمَاءِ عَنْ مَحِلِّهِ، وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ، وَعَقْدَ التَّمَائِمِ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحِلِّهَا، وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، تہبند زمین پر کھینچنے کو، زرد رنگ کی خوشبو کو، سفید بالوں کے اکھیڑنے کو، پانی (مادہ منویہ) کو اس کی جگہ سے ہٹانے کو، معوذات کے علاوہ دوسری چیزوں سے جھاڑ پھونک کرنے کو، رضاعت کے ایام میں بیوی سے قربت کر کے بچے کی صحت خراب کرنے کو، لیکن ان چیزوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرام قرار نہیں دیا، نیز تعویذ لٹکانے کو، اور اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے بناؤ سنگھار کرنے کو، اور گوٹیوں سے کھیلنے کو بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناپسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3605]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبدالرحمن، قد تكلم فيه ، والقاسم، حديثه منكر
الحكم: إسناده ضعيف، عبدالرحمن، قد تكلم فيه ، والقاسم، حديثه منكر
حدیث نمبر: 3606 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، سُلَيْمَانُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي ، أَبِي الضُّحَى ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ سُلَيْمَانُ: وَبَعْضُ الْحَدِيثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ عَلَيَّ"، قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ:" إِنَّنِي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي" فَقَرَأْتُ، حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41، قَالَ: رَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَذْرِفَانِ دُمُوعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے، فرمایا: ایسا ہی ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں، چنانچہ میں نے تلاوت شروع کر دی اور جب میں اس آیت پر پہنچا: «‏‏‏‏ ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: 41] » وہ کیسا وقت ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے، تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3606]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4582، م: 800
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4582، م: 800
حدیث نمبر: 3607 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ، يُقَالُ لَهُ: نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ، أَيَاءً تَجِدُهَا أَوْ أَلِفًا: مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ سورة محمد آية 15؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَوَكُلَّ الْقُرْآنِ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذِهِ الْآيَةِ؟ قَالَ: إِنَّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ،، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ؟! إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ الصَّلَاةِ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، وَلَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، وَلَكِنَّهُ إِذَا قَرَأَهُ، فَرَسَخَ فِي الْقَلْبِ نَفَعَ، إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ"، قَالَ: ثُمَّ قَامَ، فَدَخَلَ، فَجَاءَ عَلْقَمَةُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: سَلْهُ لَنَا عَنِ النَّظَائِرِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ، قَالَ: فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ، فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بنو بجیلہ کا ایک آدمی - جس کا نام نہیک بن سنان تھا - سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! آپ اس آیت کو کس طرح پڑھتے ہیں: « ﴿مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ﴾ [محمد: 15] » یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اس آیت کے علاوہ تم نے سارا قرآن یاد کر لیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ (آپ اس سے اندازہ لگا لیں) میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اشعار کی طرح؟ حالانکہ رکوع اور سجدہ بھی نماز کا حسن ہے، بہت سے لوگ قرآن کریم کو اس طرح پڑھتے ہیں کہ وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا، البتہ اگر کوئی شخص قرآن کریم کی تلاوت اس طرح کرے کہ وہ اس کے دل میں راسخ ہو جائے تو وہ فائدہ مند ہوتی ہے، میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں۔ یہ کہہ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے، تھوڑی دیر میں علقمہ آئے اور وہ بھی اندر جانے لگے تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان مثالوں کے متعلق پوچھئے گا جن کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھتے تھے؟ چنانچہ انہوں نے اندر جا کر ان سے یہ سوال کیا اور باہر آنے کے بعد فرمایا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مصحف کے مطابق مفصلات کی ابتدائی بیس سورتیں مراد ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3607]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 775، م: 822
الحكم: إسناده صحيح، خ: 775، م: 822