بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 44 از 45
حدیث نمبر: 4409 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي لَأُخْبَرُ بِجَمَاعَتِكُمْ، فَيَمْنَعُنِي الْخُرُوجَ إِلَيْكُمْ خَشْيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَخَوَّلُنَا فِي الْأَيَّامِ بِالْمَوْعِظَةِ، خَشْيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں، میں آپ کے پاس صرف اس وجہ سے نہیں آیا کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4409]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 68، م: 2821.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 68، م: 2821.
حدیث نمبر: 4410 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيٌّ ، وَاصِلٌ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ذَاتَ يَوْمٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ، فَأُذِنَ لَنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ! إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَاءَةَ،" وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ، وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ فجر کی نماز کے بعد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر انہیں سلام کیا، ہمیں اجازت مل گئی، ایک آدمی کہنے لگا کہ میں ایک رات میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اشعار کی طرح؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں، جن میں سے اٹھارہ سورتیں مفصلات میں ہیں اور دو سورتیں آل حم میں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4410]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5043، م: 822.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5043، م: 822.
حدیث نمبر: 4411 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيٌّ ، وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِثْمِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بالخصوص جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے، میں نے کہا: اس کے بعد کونسا گناہ سب سے بڑا ہے؟ فرمایا: اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4411]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
حدیث نمبر: 4412 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا يَافِعًا أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَقَدْ فَرَّا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَا: يَا غُلَامُ، هَلْ عِنْدَكَ مِنْ لَبَنٍ تَسْقِينَا؟ قُلْتُ: إِنِّي مُؤْتَمَنٌ، وَلَسْتُ سَاقِيَكُمَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ جَذَعَةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ؟". قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَتَيْتُهُمَا بِهَا،" فَاعْتَقَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ الضَّرْعَ، وَدَعَا، فَحَفَلَ الضَّرْعُ، ثُمَّ أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِصَخْرَةٍ مُنْقَعِرَةٍ، فَاحْتَلَبَ فِيهَا، فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ شَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ:" اقْلِصْ". فَقَلَصَ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) فَأَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ؟ قَالَ:" إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ"، قَالَ:" فَأَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً، لَا يُنَازِعُنِي فِيهَا أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشرکین سے بچ کر نکلتے ہوئے میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے لڑکے! کیا تمہارے پاس دودھ ہے؟ میں نے عرض کیا: میں اس پر امین ہوں، لہذا میں آپ کو کچھ پلا نہیں سکوں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسی بکری تمہارے پاس ہے جس پر نر جانور نہ کودا ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایسی بکری لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی تو اس میں دودھ اتر آیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر سے کھوکھلا ایک پتھر لے آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اس میں دوہا، خود بھی پیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلایا، اور میں نے بھی پیا، پھر تھن سے مخاطب ہو کر فرمایا: سکڑ جاؤ، چنانچہ وہ تھن دوبارہ سکڑ گئے، تھوڑی دیر بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے بھی یہ بات سکھا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے دعا دی کہ اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، تم سمجھدار بچے ہو، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک منہ سے ستر سورتیں یاد کی ہیں جن میں مجھ سے کوئی جھگڑا نہیں کر سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4412]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4413 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَلَكِنْ أَخِي وَصَاحِبِي، وَقَدْ اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، لیکن وہ میرے بھائی اور ساتھی ہیں، اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4413]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2383.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 4414 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النِّسَاءَ كُنَّ يَوْمَ أُحُدٍ خَلْفَ الْمُسْلِمِينَ، يُجْهِزْنَ عَلَى جَرْحَى الْمُشْرِكِينَ، فَلَوْ حَلَفْتُ يَوْمَئِذٍ رَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يُرِيدُ الدُّنْيَا، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ سورة آل عمران آية 152،" فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَصَوْا مَا أُمِرُوا بِهِ، أُفْرِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِسْعَةٍ، سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ، وَهُوَ عَاشِرُهُمْ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ، قَالَ:" رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا، رَدَّهُمْ عَنَّا" قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَاتَلَ سَاعَةً حَتَّى قُتِلَ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ أَيْضًا، قَالَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ رَجُلًا رَدَّهُمْ عَنَّا"، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَا، حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ:" مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا"، فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ: اعْلُ هُبَلُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولُوا: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ"، فَقَالُوا: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: لَنَا عُزَّى، وَلَا عُزَّى لَكُمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولُوا اللَّهُ مَوْلَانَا، وَالْكَافِرُونَ لَا مَوْلَى لَهُمْ"، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، يَوْمٌ لَنَا، وَيَوْمٌ عَلَيْنَا، وَيَوْمٌ نُسَاءُ، وَيَوْمٌ نُسَرُّ، حَنْظَلَةُ بِحَنْظَلَةَ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا سَوَاءً، أَمَّا قَتْلَانَا فَأَحْيَاءٌ يُرْزَقُونَ، وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ يُعَذَّبُونَ". قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: قَدْ كَانَتْ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةٌ، وَإِنْ كَانَتْ لَعَنْ غَيْرِ مَلَإٍ مِنَّا، مَا أََمَرْتُ وَلَا نَهَيْتُ، وَلَا أَحْبَبْتُ وَلَا كَرِهْتُ، وَلَا سَاءَنِي وَلَا سَرَّنِي، قَالَ: فَنَظَرُوا، فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُهُ، وَأَخَذَتْ هِنْدُ كَبِدَهُ فَلَاكَتْهَا، فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْكُلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَأَكَلَتْ مِنْهُ شَيْئًا؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" مَا كَانَ اللَّهُ لِيُدْخِلَ شَيْئًا مِنْ حَمْزَةَ النَّارَ". فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَجِيءَ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَوُضِعَ إِلَى جَنْبِهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَرُفِعَ الْأَنْصَارِيُّ، وَتُرِكَ حَمْزَةُ، ثُمَّ جِيءَ بِآخَرَ فَوَضَعَهُ إِلَى جَنْبِ حَمْزَةَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ رُفِعَ وَتُرِكَ حَمْزَةُ، حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ صَلَاةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن خواتین مسلمانوں کے پیچھے تھیں اور مشرکین کے زخمیوں کی دیکھ بھال کر رہی تھیں، اگر میں قسم کھا کر کہوں تو میری قسم صحیح ہو گی (اور میں اس میں حانث نہیں ہوں گا) کہ اس دن ہم میں سے کوئی شخص دنیا کا خواہش مند نہ تھا، یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: « ﴿مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ﴾ » [آل عمران: 152] تم میں سے بعض لوگ دنیا چاہتے ہیں اور بعض لوگ آخرت، پھر اللہ نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ نے حکم نبوی کی مخالفت کرتے ہوئے اس کی تعمیل نہ کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف نو افراد کے درمیان تنہا رہ گئے، جن میں سات انصاری اور دو قریشی تھے، دسویں خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے، جب مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ہجوم کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے جو انہیں ہم سے دور کرے، یہ سن کر ایک انصاری آگے بڑھا، کچھ دیر قتال کیا اور شہید ہو گیا، اسی طرح ایک ایک کر کے ساتوں انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔ تھوڑی دیر بعد ابوسفیان آیا (جنہوں نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا) اور ہبل کی جے کاری کا نعرہ لگانے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے جواب دو کہ اللہ ہی بلند و برتر اور بزرگ ہے، ابوسفیان کہنے لگا کہ ہمارے پاس عزی ہے، تمہارا کوئی عزی نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے جواب دو کہ اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں، پھر ابوسفیان نے کہا کہ آج کا دن جنگ بدر کا بدلہ ہے، ایک دن ہمارا اور ایک دن ہم پر، ایک دن ہمیں تکلیف ہوئی اور ایک دن ہم خوش ہوئے، حنظلہ حنظلہ کے بدلے، فلاں فلاں کے بدلے، اور فلاں فلاں کے بدلے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں اور ہم میں پھر بھی کوئی برابری نہیں، ہمارے مقتولین زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں جبکہ تمہارے مقتولین جہنم کی آگ میں سزا پاتے ہیں۔ پھر ابوسفیان نے کہا کہ کچھ لوگوں کی لاشوں کا مثلہ کیا گیا ہے، یہ ہمارے سرداروں کا کام نہیں ہے، میں نے اس کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے روکا، میں اسے پسند کرتا ہوں اور نہ ہی ناگواری ظاہر کرتا ہوں، مجھے یہ برا لگا اور نہ ہی خوشی ہوئی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب دیکھا تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کر دیا گیا تھا، اور ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے ان کا جگر نکال کر اسے چبایا تھا لیکن اسے کھا نہیں سکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی لاش دیکھ کر پوچھا: کیا اس نے اس میں سے کچھ کھایا بھی ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسم کے کسی حصے کو آگ میں داخل نہیں کرنا چاہتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی لاش کو سامنے رکھ کر ان کی نماز جنازہ پڑھائی، پھر ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھ دیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی بھی نماز جنازہ پڑھائی، پھر انصاری کا جنازہ اٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ یہیں رہنے دیا گیا، پھر ایک اور جنازہ لا کر سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی بھی نماز جنازہ پڑھائی، پھر اس کا جنازہ اٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ یہیں رہنے دیا گیا، اس طرح اس دن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ستر مرتبہ ادا کی گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4414]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من عبد الله بن مسعود.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من عبد الله بن مسعود.
حدیث نمبر: 4415 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ ، أَبَا الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَتَدْرُونَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ:" الْمَنِيحَةُ، أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الدِّرْهَمَ، أَوْ ظَهْرَ الدَّابَّةِ، أَوْ لَبَنَ الشَّاةِ، أَوْ لَبَنَ الْبَقَرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہدیہ جو تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو پیش کرے، خواہ وہ روپیہ پیسہ ہو، خواہ جانور کی پشت (سواری) ہو، خواہ بکری کا دودھ ہو، یا گائے کا دودھ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4415]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل إبراهيم الهجري .
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل إبراهيم الهجري .
حدیث نمبر: 4416 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَوْ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ، وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا"، قَالَ: أَوْ قَالَ:" مِنْ عُقُلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی آدمی کی یہ بات انتہائی بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ اسے یوں کہنا چاہئے کہ اسے فلاں آیت بھلا دی گئی، اس قرآن کی حفاظت کیا کرو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے کہ جانور بھی اپنی رسی چھڑا کر اتنی تیزی سے نہیں بھاگتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4416]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5039.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5039.
حدیث نمبر: 4417 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ لِنَبِيِّهِ مَا شَاءَ قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ: مِمَّا شَاءَ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدا میں ہم لوگ نماز کے دوران بات چیت اور سلام کر لیتے تھے اور ایک دوسرے کو ضرورت کے مطابق بتا دیتے تھے، ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب نہ دیا، مجھے نئے پرانے خیالات نے گھیر لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو نیا حکم دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ دوران نماز بات چیت نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4417]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4418 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقَالُوا: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، لوگوں نے پوچھا کہ کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کر لئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4418]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.
حدیث نمبر: 4419 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورًا ، خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا سَمَرَ إِلَّا لِرَجُلَيْنِ، أَوْ لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ: لِمُصَلٍّ وَلِمُسَافِرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز عشا کے بعد باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں، سوائے دو آدمیوں کے، جو نماز پڑھ رہا ہو یا جو مسافر ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4419]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، خيثمة بن عبد الرحمن لم يسمع من ابن مسعود.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، خيثمة بن عبد الرحمن لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4420 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي قَيْسٍ ، هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، عَنِ امْرَأَةٍ تَرَكَتْ ابْنَتَهَا، وَابْنَةَ ابْنِهَا، وَأُخْتَهَا؟ فَقَالَ: النِّصْفُ لِلِابْنَةِ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، وَقَالَ: ائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَإِنَّهُ سَيُتَابِعُنِي، قَالَ: فَأَتَوْا ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ: لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ، لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَرْفَ مَكْتُوبًا لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ". فَأَتَوْا أَبَا مُوسَى، فَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی شخص کے ورثاء میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن ہو تو تقسیم وراثت کس طرح ہوگی؟ انہوں نے جواب دیا کہ کل مال کا نصف بیٹی کو مل جائے گا اور دوسرا نصف بہن کو، اور تم سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان سے بھی یہ مسئلہ پوچھ لو، وہ ہماری موافقت اور تائید کریں گے، نچانچہ وہ شخص سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ گیا اور ان سے وہ مسئلہ پوچھا اور سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کا جواب بھی نقل کیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں نے بھی یہی فتوی دیا تو میں گمراہ ہو جاؤں گا اور ہدایت یافتگان میں سے نہ رہوں گا، میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: بیٹی کو کل مال کا نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو ثلث مکمل ہو جائیں اور جو باقی بچے گا وہ بہن کو مل جائے گا۔ لوگوں نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر انہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے بتائی تو انہوں نے فرمایا: جب تک اتنے بڑے عالم تمہارے درمیان موجود ہیں تم مجھ سے سوال نہ پوچھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4420]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6736.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6736.
حدیث نمبر: 4421 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَلْقَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَذَكَرُوا أَنَّهُمْ نَزَلُوا دَهَاسًا مِنَ الْأَرْضِ يَعْنِي الدَّهَاسَ: الرَّمْلَ، فَقَالَ:" مَنْ يَكْلَؤُنَا؟" فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَنْ تَنَمْ". قَالَ: فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتْ الشَّمْسُ، فَاسْتَيْقَظَ نَاسٌ، مِنْهُمْ فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فِيهِمْ عُمَرُ، قَالَ: فَقُلْنَا: اهْضِبُوا يَعْنِي: تَكَلَّمُوا، قَالَ: فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ"، قَالَ: فَفَعَلْنَا، قَالَ: وَقَالَ:" كَذَلِكَ فَافْعَلُوا، لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ"، قَالَ: وَضَلَّتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَلَبْتُهَا، فَوَجَدْتُ حَبْلَهَا قَدْ تَعَلَّقَ بِشَجَرَةٍ، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكِبَ مَسْرُورًا". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ اشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ، وَعَرَفْنَا ذَلِكَ فِيهِ، قَالَ: فَتَنَحَّى مُنْتَبِذًا خَلْفَنَا، قَالَ: فَجَعَلَ يُغَطِّي رَأْسَهُ بِثَوْبِهِ وَيَشْتَدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ، حَتَّى عَرَفْنَا أَنَّهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَأَتَانَا، فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیبیہ سے رات کو واپس آ رہے تھے، ہم نے ایک نرم زمین پر پڑاؤ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہماری خبر گیری کون کرے گا؟ (فجر کے لئے کون جگائے گا؟) سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بھی سو گئے تو؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں سوؤں گا، اتفاق سے ان کی بھی آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ سورج نکل آیا اور فلاں فلاں صاحب بیدار ہو گئے، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے سب کو اٹھایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی بیدار ہو گئے اور فرمایا: اسی طرح کرو جیسے کرتے تھے (نماز حسب معمول پڑھ لو) جب لوگ ایسا کر چکے تو فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص سو جائے یا بھول جائے تو ایسے ہی کیا کرو۔ اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی گم ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تلاش کروایا تو وہ مجھے اس حال میں مل گئی کہ اس کی رسی ایک درخت سے الجھ گئی تھی، میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر خوش و خرم سوار ہو گئے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی کیفیت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بڑی شدید ہوتی تھی، اور ہم وہ کیفیت دیکھ کر پہچان لیتے تھے، چنانچہ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک طرف کو ہو گئے اور اپنا سر مبارک کپڑے سے ڈھانپ لیا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سختی کی کیفیت طاری ہو گئی جس سے ہم پہچان گئے کہ ان پر وحی نازل ہو رہی ہے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس آئے تو ہمیں بتایا کہ ان پر سورہ فتح نازل ہوئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4421]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، عبدالرحمن الثقفي مختلف فى صحبته ، روى عنه جمع.
الحكم: إسناده حسن، عبدالرحمن الثقفي مختلف فى صحبته ، روى عنه جمع.
حدیث نمبر: 4422 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حَمَّادٍ ، أَبَا وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنَّا نَقُولُ فِي التَّحِيَّةِ: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، وَلَكِنْ قُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے یہ کہنے کی بجائے یوں کہا کرو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4422]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1202.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1202.
حدیث نمبر: 4423 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ، وَأَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ، وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ أَجْلَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ، أَوْ يَأْكُلَ طَعَامَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بالخصوص جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے، اس ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کر دینا کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھانے لگے گا، اور اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4423]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
حدیث نمبر: 4424 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبَا وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ، وَلَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ تَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا، كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہو گا، اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4424]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6290.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6290.
حدیث نمبر: 4425 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً، وَأَنَا أَقُولُ أُخْرَى:" مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا، أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا، اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4425]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 92.
الحكم: إسناده صحيح، م: 92.
حدیث نمبر: 4426 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ جُزْءًا، يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ الِانْصِرَافُ عَنْ يَمِينِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی شخص شیطان کو اپنی ذات پر ایک حصہ کے برابر بھی قدرت نہ دے، اور یہ نہ سمجھے کہ اس کے ذمے دائیں طرف سے ہی واپس جانا ضروری ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4426]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 852.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 852.
حدیث نمبر: 4427 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، أَوْ إِبْرَاهِيمَ شُعْبَةُ شَكَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ"، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
(عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے میدان منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بھی اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں، اے کاش! مجھے چار رکعتوں کی بجائے دو مقبول رکعتوں کا ہی حصہ مل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4427]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1084، م: 695.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1084، م: 695.
حدیث نمبر: 4428 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ:" آكِلُ الرِّبَا، وَمُوكِلُهُ، وَشَاهِدَاهُ، وَكَاتِبُهُ إِذَا عَلِمُوا، وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُوتَشِمَةُ، لِلْحُسْنِ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ، مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا، اسے تحریر کرنے والا اور اس کے گواہ جب کہ وہ جانتے بھی ہوں، اور حسن کے لئے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتیں، زکوٰۃ چھپانے والے اور ہجرت کے بعد مرتد ہو جانے والے دیہاتی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی قیامت کے دن تک کے لئے ملعون قرار دئیے گئے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4428]
حکم دارالسلام
حديث حسن، الحارث الأعور ضعيف، لكنه توبع.
الحكم: حديث حسن، الحارث الأعور ضعيف، لكنه توبع.