مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي لَأُخْبَرُ بِجَمَاعَتِكُمْ، فَيَمْنَعُنِي الْخُرُوجَ إِلَيْكُمْ خَشْيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَخَوَّلُنَا فِي الْأَيَّامِ بِالْمَوْعِظَةِ، خَشْيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں، میں آپ کے پاس صرف اس وجہ سے نہیں آیا کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4409]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 68، م: 2821.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 68، م: 2821.