بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 12 از 45
حدیث نمبر: 3768 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي الْأَعْيَنِ الْعَبْدِيِّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ هو مولى بني هاشم، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْأَعْيَنِ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، أَمِنْ نَسْلِ الْيَهُودِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَلْعَنْ قَوْمًا قَطُّ، فَمَسَخَهُمْ وَكَانَ لَهُمْ نَسْلٌ حَتَّى يُهْلِكَهُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، غَضِبَ عَلَى الْيَهُودِ، فَمَسَخَهُمْ، وَجَعَلَهُمْ مِثْلَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یہ بندر اور خنزیر کیا یہودیوں کی نسل میں سے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جس قوم کو بھی ملعون قرار دے کر ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ہلاک کرنے کے بعد ان کی نسل کو باقی نہیں رکھا، لیکن یہ مخلوق پہلے سے موجود تھی، جب یہودیوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور اس نے ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ان جیسا بنا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3768]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو الأعين العبدي ضعيف.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو الأعين العبدي ضعيف.
حدیث نمبر: 3769 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا، وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین مرتبہ دعا مانگنا اور تین مرتبہ استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3769]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3770 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا، وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین مرتبہ دعا مانگنا اور تین مرتبہ استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3770]
حدیث نمبر: 3771 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس طرح پڑھائی تھی: « ﴿إِنِّيْ أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ﴾ » ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3771]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 3772 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، أَبَا مُحَمَّدٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ عِنْدَهُ الشُّهَدَاءَ، فَقَالَ:" إِنَّ أَكْثَرَ شُهَدَاءِ أُمَّتِي أَصْحَابُ الْفُرُشِ، وَرُبَّ قَتِيلٍ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ، اللَّهُ أَعْلَمُ بِنِيَّتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومحمد - جو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے ہیں - نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک مرتبہ شہداء کا تذکرہ ہوا تو فرمایا کہ میری امت کے اکثر شہداء بستر پر مرنے والے ہوں گے اور میدان جنگ میں دو صفوں کے درمیان مقتول ہونے والے بہت کم ہوں گے جن کی نیتوں کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3772]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبن لهيعة، وأبو محمد مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبن لهيعة، وأبو محمد مجهول.
حدیث نمبر: 3773 مسند احمد
الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الظُّلْمِ أَظْلَمُ؟ قَالَ:" ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ، فَلَيْسَ حَصَاةٌ مِنَ الْأَرْضِ يَأْخُذُهَا أَحَدٌ إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى قَعْرِ الْأَرْضِ، وَلَا يَعْلَمُ قَعْرَهَا إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي خَلَقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! سب سے بڑا ظلم کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: زمین کا وہ ایک گز جو کوئی آدمی اپنے بھائی کے حق کو کم کر کے لے لے، زمین کی گہرائی تک اس کی ایک ایک کنکری کو قیامت کے دن اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا، اور زمین کی گہرائی کا علم صرف اسی ذات کو ہے جس نے زمین کو پیدا کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3773]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولانقطاعه، أبو عبدالرحمن الحبلي لم يذكر أنه روي عن ابن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولانقطاعه، أبو عبدالرحمن الحبلي لم يذكر أنه روي عن ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3774 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، الرُّكَيْنُ ، الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ: الصُّفْرَةُ، وَتَغْيِيرُ الشَّيْبِ، وَتَخَتُّمُ الذَّهَبِ، وَجَرُّ الْإِزَارِ، وَالتَّبَرُّجُ بِالزِّينَةِ بِغَيْرِ مَحِلِّهَا، وَضَرْبُ الْكِعَابِ، وَعَزْلُ الْمَاءِ عَنْ مَحَلِّهِ، وَفَسَادُ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ، وَعَقْدُ التَّمَائِمِ، وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، تہبند زمین پر کھینچنے کو، زرد رنگ کی خوشبو کو، سفید بالوں کے اکھیڑنے کو، پانی (مادہ منویہ) کو اس کی جگہ سے ہٹانے کو، معوذات کے علاوہ دوسری چیزوں سے جھاڑ پھونک کرنے کو، رضاعت کے ایام میں بیوی سے قربت کر کے بچے کی صحت خراب کرنے کو، نیز تعویذ لٹکانے کو، اور اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے بناؤ سنگھار کرنے کو اور گوٹیوں سے کھیلنے کو بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناپسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3774]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، القاسم حديثه منكر، وعبدالرحمن متكلم فيه.
الحكم: إسناده ضعيف، القاسم حديثه منكر، وعبدالرحمن متكلم فيه.
حدیث نمبر: 3775 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَدَعَا عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَبْعَةٍ، فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، َعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةُ بنُ ربيعة، وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى عَلَى بَدْرٍ، وَقَدْ غَيَّرَتْهُمْ الشَّمْسُ، وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خانہ کعبہ کا رخ کر کے قریش کے سات آدمیوں کا نام لے کر بد دعا فرمائی جن میں ابوجہل، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط بھی شامل تھے، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کو دیکھا کہ یہ غزوہ بدر کے موقع پر مارے گئے اور انہیں گھسیٹ کر ایک کنوئیں میں ڈال دیا گیا، چونکہ وہ گرمی کے دن تھے اس لئے سورج کی حرارت سے ان کی لاشیں بگڑ گئیں تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3775]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3960، م: 1794.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3960، م: 1794.
حدیث نمبر: 3776 مسند احمد
أَبُو الْمُنْذِرِ ، عِيسَى بْنُ دِينَارٍ الْخُزَاعِيُّ ، أَبِي ، عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے تیس روزے جس کثرت کے ساتھ رکھے ہیں، اتنی کثرت کے ساتھ انتیس (29) کبھی نہیں رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3776]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال دينار والد عيسي.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال دينار والد عيسي.
حدیث نمبر: 3777 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعْدِ أَوْ سَعِيدِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعْدِ أَوْ سَعِيدِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كَانَ" أَحَبَّ الْعَرْقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِرَاعُ الشَّاةِ، وَكَانَ يَرَى أَنَّهُ سُمَّ فِي ذِرَاعِ الشَّاةِ، وَكُنَّا نَرَى أَنَّ الْيَهُودَ الَّذِينَ سَمُّوهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہڈی والے گوشت میں بکری کی دستی کا گوشت زیادہ پسند تھا اور دستی ہی کے گوشت میں زہر ملا کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھلایا گیا تھا، اور عام خیال یہی تھا کہ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کھانے میں زہر ملایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3777]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سعد أو سعيد هذا مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، سعد أو سعيد هذا مجهول.
حدیث نمبر: 3778 مسند احمد
أَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا. قَالَ: قَالَ: وَكُنَّا نَرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سُمَّ فِي ذِرَاعِ شَاةٍ"، سَمَّتْهُ الْيَهُودُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں، اور ہمارا خیال یہی تھا کہ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کھانے میں زہر ملایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3778]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو مكرر ما قبله.
الحكم: إسناده ضعيف، وهو مكرر ما قبله.
حدیث نمبر: 3779 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَبِيهِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَمَعَهُ قَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَمِنْ الْجِنِّ"، قَالُوا: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَأَنَا، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ، وَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر شخص کے ساتھ جنات میں سے ایک ہم نشین اور ایک ہم نشین ملائکہ میں سے مقرر کیا گیا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ فرمایا: ہاں! لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اس لئے اب وہ مجھے صرف حق بات کا ہی حکم دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3779]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. م: 2814.
الحكم: إسناده صحيح. م: 2814.
حدیث نمبر: 3780 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، وَعَلَيَّ دَرْبَانِ، فَأُلْقِيَتْ عَلَيَّ مَحَبَّةٌ مِنْهُ، وَعِنْدَهُ شَبَابٌ، فَقَالُوا لِي: سَلْهُ: فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى سورة النجم آية 9؟ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابواسحاق شیبانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت زر بن حبیش کے پاس آیا، ان کے دروازے پر دربان مقرر تھا، اس کے دل میں میری محبت پیدا ہوئی (اور اس نے مجھے اندر جانے دیا)، ان کے پاس کچھ نوجوان بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ ان سے « ﴿فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى﴾ [النجم: 9] » کی تفسیر پوچھو، چنانچہ میں نے ان سے اس کی تفسیر پوچھی تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا تھا جن کے چھ سو پر تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3780]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3232، م: 174.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3232، م: 174.
حدیث نمبر: 3781 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الْمُجَالِدِ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُجَالِدِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَهُوَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هَلْ سَأَلْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ تَمْلِكُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ خَلِيفَةٍ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ قَدِمْتُ الْعِرَاقَ قَبْلَكَ، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ، وَلَقَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اثْنَا عَشَرَ، كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمیں قرآن پڑھا رہے تھے، اسی اثنا میں ایک آدمی آ کر کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ پوچھا تھا کہ اس امت میں کتنے خلفاء ہوں گے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جب سے عراق آیا ہوں، تم سے پہلے آج تک مجھ سے کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا، پھر فرمایا: ہاں! ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بارہ خلفاء ہوں گے، نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کی طرح۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3781]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد.
حدیث نمبر: 3782 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَمَعَكَ مَاءٌ؟" قَالَ: مَعِي نَبِيذٌ فِي إِدَاوَةٍ، فَقَالَ:" اصْبُبْ عَلَيَّ"، فَتَوَضَّأَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، شَرَابٌ وَطَهُورٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ لیلۃ الجن کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: عبداللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک برتن میں نبیذ ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے میرے ہاتھوں پر ڈالو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے وضو کیا اور فرمایا: اے عبداللہ بن مسعود! یہ پینے کی چیز بھی ہے اور طہارت بخش بھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3782]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد ثبت بإسناد صحيح أن ابن مسعود لم يشهد ليلة الجن مع النبى .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد ثبت بإسناد صحيح أن ابن مسعود لم يشهد ليلة الجن مع النبى .
حدیث نمبر: 3783 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، وأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، وأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ" قَالَ أَسْوَدُ قَالَ شَرِيكٌ: قَالَ سِمَاكٌ: الرَّجُلُ يَبِيعُ الْبَيْعَ، فَيَقُولُ هُوَ بِنَسَاءٍ بِكَذَا وَكَذَا، وَهُوَ بِنَقْدٍ بِكَذَا وَكَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک معاملے میں دو معاملوں کو جمع کرنے سے منع فرمایا ہے، راوی اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی شخص یوں کہے کہ یہ چیز ادھار میں اتنے کی ہے اور نقد ادائیگی کی صورت میں اتنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3783]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
حدیث نمبر: 3784 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قال عبد الله بن أَحمد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ"، قِيلَ: وَمَنْ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ:" النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی ابتدا بھی اجنبیت میں ہوئی اور عنقریب یہ اسی حال پر لوٹ جائے گا جیسے اس کا آغاز ہوا تھا، سو خوشخبری ہے غربا کے لئے، کسی نے پوچھا: غربا سے کون لوگ مراد ہیں؟ فرمایا: قبائل سے کھینچ کر لائے جانے والے لوگ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3784]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3785 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مِتُّ، فَخُذُونِي وَاحْرُقُونِي، حَتَّى تَدَعُونِي حُمَمَةً، ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ رَاحٍ، قَالَ: فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ، قَالَ: فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَخَافَتُكَ، قَالَ: فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص تھا جس نے توحید یعنی اللہ کو ایک ماننے کے علاوہ کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے پکڑ کر جلا دینا حتی کہ جب میں جل کر کوئلہ بن جاؤں تو اسے پیسنا، پھر جس دن تیز ہوا چل رہی ہو، مجھے سمندر میں بہا دینا، اس کے اہل خانہ نے ایسا ہی کیا، لیکن وہ پھر بھی اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے اس کام پر کس چیز نے مجبور کیا؟ اس نے عرض کیا: آپ کے خوف نے، اس پر اللہ نے اس کی بخشش فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3785]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3786 مسند احمد
يَحْيَى ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَالَ يَحْيَى : وحَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3786]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3481، م: 2756.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3481، م: 2756.
حدیث نمبر: 3787 مسند احمد
عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْبُنَانِيُّ ، عُثْمَانَ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: إِنَّ أُمَّنَا كَانَتْ تُكْرِمُ الزَّوْجَ، وَتَعْطِفُ عَلَى الْوَلَدِ، قَالَ: وَذَكَرَ الضَّيْفَ غَيْرَ أَنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ:" أُمُّكُمَا فِي النَّارِ"، فَأَدْبَرَا، وَالشَّرُّ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا، فَأَمَرَ بِهِمَا، فَرُدَّا، فَرَجَعَا وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا، رَجِيَا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَدَثَ شَيْءٌ، فَقَالَ:" أُمِّي مَعَ أُمِّكُمَا"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ: وَمَا يُغْنِي هَذَا عَنْ أُمِّهِ شَيْئًا، وَنَحْنُ نَطَأُ عَقِبَيْهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَكْثَرَ سُؤَالًا مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ وَعَدَكَ رَبُّكَ فِيهَا أَوْ فِيهِمَا؟ قَالَ: فَظَنَّ أَنَّهُ مِنْ شَيْءٍ قَدْ سَمِعَهُ، فَقَالَ:" مَا سَأَلْتُهُ رَبِّي، وَمَا أَطْمَعَنِي فِيهِ، وَإِنِّي لَأَقُومُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: وَمَا ذَاكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ؟ قَالَ:" ذَاكَ إِذَا جِيءَ بِكُمْ عُرَاةً حُفَاةً غُرْلًا، فَيَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، يَقُولُ: اكْسُوا خَلِيلِي، فَيُؤْتَى بِرَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ، فَلَيَلْبِسْهُمَا، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَسْتَقْبِلُ الْعَرْشَ، ثُمَّ أُوتَى بِكِسْوَتِي، فَأَلْبَسُهَا، فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِهِ مَقَامًا لَا يَقُومُهُ أَحَدٌ غَيْرِي، يَغْبِطُنِي بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ"، قَالَ:" وَيُفْتَحُ نَهَرٌ مِنَ الْكَوْثَرِ إِلَى الْحَوْضِ"، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ: فَإِنَّهُ مَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ إِلَّا عَلَى حَالٍ، أَوْ رَضْرَاضٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ؟ قَالَ:" حَالُهُ الْمِسْكُ، وَرَضْرَاضُهُ التُّومُ". قَالَ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ، قَلَّمَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ إِلَّا كَانَ لَهُ نَبْتَةٌ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَهُ نَبْتٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ، قُضْبَانُ الذَّهَبِ"، قَالَ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ، فَإِنَّهُ قَلَّمَا نَبَتَ قَضِيبٌ إِلَّا أَوْرَقَ، وَإِلَّا كَانَ لَهُ ثَمَرٌ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ مِنْ ثَمَرٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ، أَلْوَانُ الْجَوْهَرِ، وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، إِنَّ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ، وَإِنْ حُرِمَهُ لَمْ يُرْوَ بَعْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملیکہ کے دونوں بیٹے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہماری والدہ اپنے شوہر کی بڑی عزت کرتی تھیں، بچوں پر بڑی مہربان تھیں، ان کی مہمان نوازی کا بھی انہوں نے تذکرہ کیا، البتہ زمانہ جاہلیت میں انہوں نے ایک بچی کو زندہ درگور کر دیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں جہنم میں ہے، یہ سن کر وہ دونوں واپس جانے لگے اور ان دونوں کے چہروں سے ناگواری کے آثار واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر ان دونوں کو واپس بلایا گیا، چنانچہ جب وہ واپس آئے تو ان کے چہرے پر خوشی کے اثرات دیکھے جا سکتے تھے، کیونکہ انہیں یہ امید ہو چلی تھی کہ شاید ان کی والدہ کے متعلق کوئی نیا حکم نازل ہو گیا ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میری ماں بھی تمہاری ماں کے ساتھ ہو گی۔ ایک منافق یہ سن کر چپکے سے کہنے لگا کہ ہم ان کی پیروی یوں ہی کر رہے ہیں، یہ تو اپنی ماں کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے؟ ایک انصاری - جس سے زیادہ سوال کرنے والا میں نے نہیں دیکھا - کہنے لگا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے رب نے اس عورت یا ان دنوں کے بارے کوئی وعدہ فرمایا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے پروردگار سے اس کا سوال کیا ہے اور نہ ہی اس نے مجھے کوئی امید دلائی ہے، البتہ میں قیامت کے دن مقام محمود پر فائز کیا جاؤں گا، اس انصاری نے پوچھا: مقام محمود کیا چیز ہے؟ فرمایا: جس وقت قیامت کے دن تم سب کو برہنہ جسم، برہنہ پا اور غیر مختون حالت میں لایا جائے گا، اور سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے خلیل کو لباس پہناؤ، چنانچہ دو سفید چادریں لائی جائیں گی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں زیب تن فرما لیں گے، پھر وہ بیٹھ جائیں گے اور عرش الٰہی کی طرف رخ کر لیں گے۔ اس کے بعد میرے لئے لباس لایا جائے گا اور میں بھی اسے پہن لوں گا، پھر میں اپنی دائیں جانب ایک ایسے مقام پر کھڑا ہو جاؤں گا جہاں میرے علاوہ کوئی اور کھڑا نہ ہو سکے گا اور اولین و آخرین اس کی وجہ سے مجھ پر رشک کریں گے، پھر جنت کی نہر کوثر میں سے حوض کوثر تک ایک نہر نکالی جائے گی۔ یہ سن کر منافقین کہنے لگے کہ پانی تو ہمیشہ مٹی پر یا چھوٹی اور باریک کنکریوں پر بہتا ہے، اس انصاری نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ پانی کسی مٹی پر بہتا ہو گا یا کنکریوں پر؟ فرمایا: اس کی مٹی مشک ہو گی اور اس کی کنکریاں موتی جیسے چاندی کے دانے ہوں گے، ایک منافق آہستہ سے کہنے لگا کہ یہ بات تو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سنی، جب بھی کسی مٹی یا کنکریوں پر پانی بہتا ہے تو وہاں کچھ چیزیں یقینا اگتی ہیں، اس منافق کی بات سن کر اس انصاری نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا وہاں کچھ چیزیں بھی اگتی ہوں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! سونے کی شاخیں، وہ منافق پھر کہنے لگا کہ یہ بات تو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سنی، جہاں شاخیں اگتی ہیں وہاں پتے اور پھل بھی ہوتے ہیں، اس انصاری نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا وہاں پھل بھی ہوں گے؟ فرمایا: ہاں! جواہرات کے رنگ جیسے، اور حوض کوثر کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا، جو شخص اس کا ایک گھونٹ پی لے گا، اسے پھر کبھی پیاس نہ لگے گی اور جو شخص اس سے محروم رہ جائے گا وہ کبھی سیراب نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3787]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عثمان،، وسعيد مختلف فيه.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عثمان،، وسعيد مختلف فيه.