أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَبِيهِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَمَعَهُ قَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَمِنْ الْجِنِّ"، قَالُوا: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَأَنَا، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ، وَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ساتھ جنات میں سے ایک ہم نشین اور ایک ہم نشین ملائکہ میں سے مقرر کیا گیا ہے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اس لئے اب وہ مجھے صرف حق بات کا ہی حکم دیتا ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3779]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. م: 2814.
الحكم: إسناده صحيح. م: 2814.