حَسَنٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، وأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، وأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ" قَالَ أَسْوَدُ قَالَ شَرِيكٌ: قَالَ سِمَاكٌ: الرَّجُلُ يَبِيعُ الْبَيْعَ، فَيَقُولُ هُوَ بِنَسَاءٍ بِكَذَا وَكَذَا، وَهُوَ بِنَقْدٍ بِكَذَا وَكَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک معاملے میں دو معاملوں کو جمع کرنے سے منع فرمایا ہے، راوی اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی شخص یوں کہے کہ یہ چیز ادھار میں اتنے کی ہے اور نقد ادائیگی کی صورت میں اتنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3783]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.