بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 41 از 45
حدیث نمبر: 4349 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، ادْنُ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقَالَ: أَوَلَيْسَ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ؟! قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ:" إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دس محرم کے دن اشعث بن قیس سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے، کہنے لگے: اے ابومحمد! کھانے کے لئے آگے بڑھو، اشعث کہنے لگے کہ آج یوم عاشورہ نہیں ہے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں معلوم بھی ہے کہ یوم عاشورہ کیا چیز ہے؟ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن کا روزہ رکھتے تھے، جب رمضان میں روزوں کا حکم نازل ہوا تو یہ روزہ متروک ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4349]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4503، م: 1127.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4503، م: 1127.
حدیث نمبر: 4350 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثِنْتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4350]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4996، م: 822.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4996، م: 822.
حدیث نمبر: 4351 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَلَيُخْتَلَجَنَّ رِجَالٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا کیا جائے گا اور میں مغلوب ہو جاؤں گا، میں عرض کروں گا: پروردگار! میرے ساتھی؟ ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4351]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 6575، م: 2297، وهذا إسناده قوي.
الحكم: صحيح، خ: 6575، م: 2297، وهذا إسناده قوي.
حدیث نمبر: 4352 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ نصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کثرت کے ساتھ یوں کہنے لگے تھے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ» پاک ہے تیری ذات، اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، اے اللہ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4352]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4353 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَيْلَةَ الْجِنِّ خَطَّ حَوْلَهُ، فَكَانَ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ مِثْلُ سَوَادِ النَّخْلِ، وَقَالَ لِي:" لَا تَبْرَحْ مَكَانَكَ"، فَأَقْرَأَهُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَمَّا رَأَى الزُّطَّ، قَالَ:" كَأَنَّهُمْ هَؤُلَاءِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَعَكَ مَاءٌ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" أَمَعَكَ نَبِيذٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ"، فَتَوَضَّأَ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لیلۃ الجن کے موقع پر ان کے گرد ایک خط کھینچ دیا، جنات میں کا ایک آدمی کھجور کے کئی درختوں کی طرح آتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اپنی جگہ سے نہ ہلنا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں قرآن کریم پڑھایا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب جاٹوں کو دیکھا تو فرمایا کہ وہ اسی طرح کے لوگ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر مجھ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، فرمایا: نبیذ ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی سے وضو کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4353]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد.
حدیث نمبر: 4354 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ : عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4354]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2383.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 4355 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، الْمَسْعُودِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَعَ سُنَنَ الْهُدَى لِنَبِيِّهِ، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنِّي لَا أَحْسِبُ مِنْكُمْ أَحَدًا إِلَّا لَهُ مَسْجِدٌ يُصَلِّي فِيهِ فِي بَيْتِهِ، فَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ کل قیامت کے دن اللہ سے اس کی ملاقات اسلام کی حالت میں ہو تو اسے ان فرض نمازوں کی پابندی کرنی چاہئے، جب بھی ان کی طرف پکارا جائے، کیونکہ یہ سنن ہدی میں سے ہیں، اور اللہ نے تمہارے پیغمبر کے لئے سنن ہدی کو مشروع قرار دیا ہے، تم میں سے ہر ایک کے گھر میں مسجد ہوتی ہے، اگر تم اپنے گھروں میں اس طرح نماز پڑھنے لگے جیسے یہ پیچھے رہ جانے والے اپنے گھروں میں پڑھ لیتے ہیں تو تم اپنے نبی کی سنت کے تارک ہو گے، اور جب تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4355]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 654.
الحكم: إسناده صحيح، م: 654.
حدیث نمبر: 4356 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، الْمَسْعُودِيُّ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ نصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کثرت کے ساتھ یوں کہنے لگے تھے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ» پاک ہے تیری ذات، اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، اے اللہ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4356]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود، أبو قطن سماعه من المسعودي قبل اختلاطه.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود، أبو قطن سماعه من المسعودي قبل اختلاطه.
حدیث نمبر: 4357 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا، قَالَ: فَنَحْنُ نَأْخُذُهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً، إِذْ خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهَا"، قَالَ: فَابْتَدَرْنَاهَا لِنَقْتُلَهَا فَسَبَقَتْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ، كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی غار میں تھے، وہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہو گئی، ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سن کر اسے یاد کرنے لگے، اچانک ایک سانپ اپنے بل سے نکل آیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4357]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2234.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2234.
حدیث نمبر: 4358 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَهَا فِي الصَّلَاةِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ بَعْدَ الْكَلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز میں سہو لاحق ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کلام کرنے کے بعد کر لئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4358]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م 572 .
الحكم: إسناده صحيح، م 572 .
حدیث نمبر: 4359 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ:" رَمَى عَبْدُ اللَّهِ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے، کسی نے ان سے کہا کہ لوگ تو اسے اوپر سے کنکریاں مار رہے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4359]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1296.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1296.
حدیث نمبر: 4360 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" انْشَقَّ الْقَمَرُ، وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًي، حَتَّى ذَهَبَتْ فِرْقَةٌ مِنْهُ خَلْفَ الْجَبَلِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْهَدُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، اس وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں تھے، حتیٰ کہ چاند کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: گواہ رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4360]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2800.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2800.
حدیث نمبر: 4361 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ، أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ، أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو اپنے رخساروں کو پیٹے، گریبانوں کو پھاڑے اور جاہلیت کی سی پکار لگائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4361]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 103.
الحكم: إسناده صحيح، م: 103.
حدیث نمبر: 4362 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْمَسْعُودِيُّ ، أَبِي نَهْشَلٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي نَهْشَلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" فَضَلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِأَرْبَعٍ: بِذِكْرِ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ، أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة الأنفال آية 68، وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ، أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ، فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ: وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الأحزاب آية 53، وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ:" اللَّهُمَّ أَيِّدْ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ"، وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ، كَانَ أَوَّلَ النَّاسِ بَايَعَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تمام لوگوں پر چار چیزوں میں فضیلت رکھتے ہیں: ① غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اللہ نے ان کی موافقت میں یہ آیت نازل فرمائی: «‏‏‏‏ ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ » ‏‏‏‏ [الأنفال: 68] ② حجاب کے بارے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ازواج مطہرات کو پردہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، سیدنا زینب رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: اے ابن خطاب! تم ہم پر حکم چلاتے ہو جب کہ ہمارے گھروں میں وحی نازل ہوتی ہے؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «‏‏‏‏ ﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ﴾ » ‏‏‏‏ [الأحزاب: 53] جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ ③ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ان کے حق میں دعا کے بارے کہ اے اللہ! عمر کے ذریعے اسلام کو تقویت عطا فرما۔ ④ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے رائے کے اعتبار سے کہ انہوں نے ہی سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4362]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، هاشم بن القاسم سمع من المسعودي بعد اختلاطه، وأبو نهشل مجهول.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، هاشم بن القاسم سمع من المسعودي بعد اختلاطه، وأبو نهشل مجهول.
حدیث نمبر: 4363 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَيَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي، يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب میرے بعد ایسے امراء بھی آئیں گے جو ایسی باتیں کہیں گے جو کریں گے نہیں، اور کریں گے وہ کام جن کا انہیں حکم نہ دیا گیا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4363]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 50.
الحكم: إسناده قوي، م: 50.
حدیث نمبر: 4364 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ الْهِلَالِيَّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ الْهِلَالِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ آيَةً، قَدْ سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا، فَأَخَذْتُهُ، فَجِئْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَ:" كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ، لَا تَخْتَلِفُوا"، أَكْبَرُ عِلْمِي، قَالَ مِسْعَرٌ: قَدْ ذَكَرَ فِيهِ:" لَا تَخْتَلِفُوا، إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فَأَهْلَكَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی، جسے سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا یا مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار محسوس ہوئے، اور انہوں نے فرمایا کہ تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے، اس لئے تم اختلاف نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4364]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2610.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2610.
حدیث نمبر: 4365 مسند احمد
هَاشِمٌ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ ، زُبَيْدٍ ، مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ، أَوْ احْمَرَّتْ، فَقَالَ:" شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا"، أَوْ" حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز عصر پڑھنے کی مہلت نہ دی، حتی کہ سورج غروب ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4365]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 628، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، م: 628، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 4366 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعِرَّانَةِ، ازْدَحَمُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى قَوْمِهِ فَضَرَبُوهُ وَشَجُّوهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبْهَتِهِ، وَيَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي إِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبْهَتِهِ، يَحْكِي الرَّجُلَ، وَيَقُولُ:" رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي إِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جعرانہ میں غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک نبی کے متعلق بیان فرما رہے تھے جنہیں ان کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ پروردگار! میری قوم کو معاف فرما دے، یہ مجھے جانتے نہیں ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنی پیشانی کو صاف فرما رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4366]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4367 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَوَجَدُوا فِي شَمْلَتِهِ دِينَارَيْنِ، فَذَكَرُوا ذَاكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَيَّتَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، لوگوں کو ان کی چادر میں دو دینار ملے، انہوں نے اس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4367]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن، من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4368 مسند احمد
يُونُسُ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ إِلَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَوْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ، يَهُزُّهُنَّ، فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، تَصْدِيقًا لِقَوْلِ الْحَبْرِ، ثُمَّ قَرَأَ: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ... سورة الزمر آية 67 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر، تمام درختوں کو ایک انگلی پر اور ساری نمناک مٹی کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا اور فرمائے گا کہ میں ہی حقیقی بادشاہ ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی بات سن کر اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور اسی پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . . . . .﴾ » [الزمر: 67] انہوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی . . . . .۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4368]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4811، م 2786.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4811، م 2786.