أَبُو سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَيْلَةَ الْجِنِّ خَطَّ حَوْلَهُ، فَكَانَ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ مِثْلُ سَوَادِ النَّخْلِ، وَقَالَ لِي:" لَا تَبْرَحْ مَكَانَكَ"، فَأَقْرَأَهُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَمَّا رَأَى الزُّطَّ، قَالَ:" كَأَنَّهُمْ هَؤُلَاءِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَعَكَ مَاءٌ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" أَمَعَكَ نَبِيذٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ"، فَتَوَضَّأَ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لیلۃ الجن کے موقع پر ان کے گرد ایک خط کھینچ دیا، جنات میں کا ایک آدمی کھجور کے کئی درختوں کی طرح آتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ ”اپنی جگہ سے نہ ہلنا“، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں قرآن کریم پڑھایا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب جاٹوں کو دیکھا تو فرمایا کہ وہ اسی طرح کے لوگ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر مجھ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ ”تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، فرمایا: ”نبیذ ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی سے وضو کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4353]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد.