بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 19 از 45
حدیث نمبر: 3908 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كِلَاكُمَا قَدْ أَحْسَنَ"، قَالَ: وَغَضِبَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، قَالَ شُعْبَةُ: أَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَخْتَلِفُوا، فَإِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَلَكُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی، جسے سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، یا مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار محسوس ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے اس لئے تم اختلاف نہ کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3908]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3476 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3476 .
حدیث نمبر: 3909 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبَا الْأَحْوَصِ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3909]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2383.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 3910 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، لِابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : كَيْفَ تَعْرِفُ هَذَا الْحَرْفَ: مَاءٌ غَيْرُ يَاسِنٍ أَمْ آسِنٍ؟ فَقَالَ: كُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ قَرَأْتَ؟ قَالَ: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ أَجْمَعَ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ: أَهَذَّ الشِّعْرِ لَا أَبَا لَكَ؟! قَدْ عَلِمْتُ قَرَائِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ" يَقْرُنُ قَرِينَتَيْنِ، قَرِينَتَيْنِ ؛ مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ". وَكَانَ أَوَّلُ مُفَصَّلِ ابْنِ مَسْعُودٍ الرَّحْمَنُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زرّ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اس آیت کو کس طرح پڑھتے ہیں: «مِنْ مَاءٌ غَيْرُ يَاسِنٍ» یا «آسِنٍ» یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اس آیت کے علاوہ تم نے سارا قرآن یاد کر لیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ (آپ اس سے اندازہ لگا لیں) میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اشعار کی طرح؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں، جن کا تعلق مفصلات سے تھا، یاد رہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں مفصلات کا آغاز سورہ رحمٰن سے ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3910]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3911 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، ابْنِ أُذْنَانَ ، عَلْقَمَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ أُذْنَانَ ، قَالَ: أَسْلَفْتُ عَلْقَمَةَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ، فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُهُ، قُلْتُ لَهُ: اقْضِنِي، قَالَ: أَخِّرْنِي إِلَى قَابِلٍ، فَأَتَيْتُ عَلَيْهِ، فَأَخَذْتُهَا، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بَعْدُ، قَالَ: بَرَّحْتَ بِي قَدْ مَنَعْتَنِي، فَقُلْتُ: نَعَمْ، هُوَ عَمَلُكَ، قَالَ: وَمَا شَأْنِي؟ قُلْتُ: إِنَّكَ حَدَّثْتَنِي عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ السَّلَفَ يَجْرِي مَجْرَى شَطْرِ الصَّدَقَةِ". قَالَ: نَعَمْ، فَهُوَ كَذَاكَ، قَالَ: فَخُذْ الْآنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن اذنان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کو دو ہزار درہم قرض کے طور پر دیئے، جب مال غنیمت میں سے انہیں حصہ ملا تو میں نے ان سے کہا کہ اب میرا قرض ادا کیجئے، انہوں نے کہا کہ مجھے ایک سال تک مہلت دے دو، میں نے انکار کر دیا اور ان سے اپنے پیسے وصول کر لئے، کچھ عرصے بعد میں ان کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے کہ تم نے انکار کر کے مجھے بڑی تکلیف پہنچائی تھی، میں نے کہا: اچھا، یہ تو آپ کا عمل تھا، انہوں نے پوچھا: کیا مطلب؟ میں نے کہا کہ آپ ہی نے تو ہمیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرض آدھے صدقے کے قائم مقام ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہاں، یہ تو ہے، میں نے کہا: اب دوبارہ لے لیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3911]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3912 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ، وَالْفَرْجُ يَزْنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں، ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں، پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3912]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3913 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلاَ يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا، اور وہ شخص جہنم میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3913]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 91.
الحكم: إسناده صحيح، م: 91.
حدیث نمبر: 3914 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ مَاتَ، فَوُجِدَ فِي بُرْدَتِهِ دِينَارَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيَّتَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، ان کی چادر میں دو دینار ملے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3914]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3915 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرٍّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، عَلَيْهِ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ، يُنْثَرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ: الدُّرُّ وَالْيَاقُوتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «‏‏‏‏ ﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى﴾ » ‏‏‏‏ [النجم: 13] کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے سدرۃ المنتہی کے پاس جبرئیل امین کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے جن سے موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3915]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3916 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي، تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلََّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا، تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، إِلَّا قَالَ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: إِنَّ عَبْدِي قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، فَأَوْفُوهُ إِيَّاهُ، فَيُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ". قَالَ سُهَيْلٌ: فَأَخْبَرْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَوْنًا أَخْبَرَ بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: مَا فِي أَهْلِنَا جَارِيَةٌ إِلَّا وَهِيَ تَقُولُ هَذَا فِي خِدْرِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ دعا پڑھ لیا کرے: «اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنْ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنْ الْخَيْرِ وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» اے اللہ! اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے! پوشیدہ اور ظاہر سب کچھ جاننے والے! میں تجھ سے اس دنیوی زندگی میں یہ عہد کرتا ہوں کہ میں اس بات کا گواہ ہوں کہ آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، آپ اکیلے ہیں، آپ کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کے بندے اور رسول ہیں، اگر آپ نے مجھے میرے ہی حوالے کر دیا تو گویا آپ نے مجھے شر کے قریب اور خیر سے دور کر دیا، مجھے آپ کی رحمت پر ہی اعتماد ہے، اس لئے میرے اس عہد کو اپنے پاس رکھ لیجئے اور قیامت کے دن اسے پورا کر دیجئے گا، بےشک آپ اپنے وعدے کے خلاف نہیں فرماتے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائیں گے کہ میرے بندے نے مجھ سے ایک عہد کر رکھا ہے، اسے پورا کرو، چنانچہ اسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ سہیل کہتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمن کو بتایا کہ عون نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے تو انہوں نے کہا: ہمارے گھر میں ہر بچی اپنے پردے میں یہ دعا پڑھتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3916]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وهذا إسناد منقطع، عون بن عبدالله لم يسمع من ابن مسعود.
الحكم: رجاله ثقات، وهذا إسناد منقطع، عون بن عبدالله لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3917 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٌ ، خَيْثَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا سَمَرَ إِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ: لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز عشا کے بعد باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں، سوائے دو آدمیوں کے، جو نماز پڑھ رہا ہو یا جو مسافر ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3917]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، خيثمة لم يسمع من ابن مسعود.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، خيثمة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3918 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ" يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 بِالدَّالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے: « ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ » [القمر: 40] ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3918]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4869، م: 823.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4869، م: 823.
حدیث نمبر: 3919 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، مَنْصُورٌ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ الرَّجُلُ مِنَّا فِي صَلَاتِهِ: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ، يَخُصُّ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاَتِهِ، فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ بَعْدُ مِنَ الدُّعَاءِ مَا شَاءَ أَوْ مَا أَحَبَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص تشہد میں بیٹھے تو اسے یوں کہنا چاہئے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ» تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، جب وہ یہ جملہ کہہ لے گا تو یہ آسمان و زمین میں ہر نیک بندے کو شامل ہو جائے گا، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3919]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6328، م: 402 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6328، م: 402 .
حدیث نمبر: 3920 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، سُلَيْمَانُ ، إِبْرَاهِيمُ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا قَعَدْنَا فِي الصَّلَاةِ، قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْنَا مِنْ رَبِّنَا، السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا قَعَدْتُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا، وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ، أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْكَلَامِ مَا شَاءَ". قَالَ سُلَيْمَانُ : وَحَدَّثَنِيهِ أَيْضًا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ... بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، جبرائیل کو سلام ہو، میکائیل کو سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص تشہد میں بیٹھے تو اسے یوں کہنا چاہئے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ» تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، جب وہ یہ جملہ کہہ لے گا تو یہ آسمان و زمین میں ہر نیک بندے کو شامل ہو جائے گا، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3920]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6328، م: 402.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6328، م: 402.
حدیث نمبر: 3921 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، وأَبي الأحوص ، وأَبي عُبَيْدَة ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، وأَبي الأحوص ، وأَبي عُبَيْدَة ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز کے کلمات تشہد سکھائے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» جن کا ترجمہ یہ ہے کہ تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3921]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1202.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1202.
حدیث نمبر: 3922 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ دَاءً، إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ نے جو بیماری بھی اتاری ہے، اس کی شفا بھی اتاری ہے، جو جان لیتا ہے سو جان لیتا ہے، اور جو ناواقف رہتا ہے سو ناواقف رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3922]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3923 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت تمہارے جوتوں کے تسموں سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اور یہی حال جہنم کا بھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3923]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6488 .
الحكم: حديث صحيح، خ: 6488 .
حدیث نمبر: 3924 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى رَأَيْتُ الْجَبَلَ مِنْ بَيْنِ فُرْجَتَيْ الْقَمَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، حتی کہ میں نے اس کے دو ٹکڑوں کے درمیان چاند کو دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3924]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3636، م: 2800، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - متابع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 3636، م: 2800، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - متابع.
حدیث نمبر: 3925 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ، وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ، لاَ يُعَجَّلُ مِنْهَا شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ، وَلاَ يُؤَخَّرُ مِنْهَا شَيْءٌ بَعْدَ حِلِّهِ، وَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ، كَانَ خَيْرًا لَكِ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ، هِيَ مِمَّا مُسِخَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ يَمْسَخْ اللَّهُ قَوْمًا أَوْ يُهْلِكْ قَوْمًا، فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلاً وَلَا عَاقِبَةً، وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ قَدْ كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا یہ دعا کر رہی تھیں کہ اے اللہ! مجھے اپنے شوہر نامدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، اپنے والد ابوسفیان اور اپنے بھائی معاویہ سے فائدہ پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی یہ دعا سن لی اور فرمایا: تم نے اللہ سے طے شدہ مدت، گنتی کے چند دن اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا، ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے وقت سے پہلے تمہیں نہیں مل سکتی اور اپنے وقت مقررہ سے مؤخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں عذاب جہنم اور عذاب قبر سے محفوظ فرما دے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا خنزیر اور بندر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آرہے ہیں۔راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ بندر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آرہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3925]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2663.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2663.
حدیث نمبر: 3926 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ: ذَكَرَ أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرَّ عَلَيَّ الشَّيْطَانُ، فَأَخَذْتُهُ، فَخَنَقْتُهُ، حَتَّى إِنِّي لأَجِدُ بَرْدَ لِسَانِهِ فِي يَدَيَّ، فَقَالَ: أَوْجَعْتَنِي، أَوْجَعْتَنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک مرتبہ شیطان میرے پاس سے گزرا، میں نے اسے پکڑ لیا اور اس کا گلا دبانا شروع کر دیا، اس کی زبان باہر نکل آئی یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھ پر محسوس کی، اور وہ کہنے لگا کہ آپ نے مجھے بڑی تکلیف دی، بڑی تکلیف دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3926]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3927 مسند احمد
أَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، ابْنِ الْأَسْوَدِ ، عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، ابن مسعود
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، أنهما كانا مع ابن مسعود، فحضرت الصلاة، فتأخر علقمة، والأسود،" فأخذ ابن مسعود بأيديهما، فأقام أحدهما عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرَ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ رَكَعَا، فَوَضَعَا أَيْدِيَهُمَا عَلَى رُكَبِهِمَا، وَضَرَبَ أَيْدِيَهُمَا، ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَشَبَّكَ، وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ"، وَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ علقمہ اور اسود دونوں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے، نماز کا وقت آیا تو علقمہ اور اسود پیچھے کھڑے ہو گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ پکڑے اور ایک کو اپنی دائیں جانب اور دوسرے کو اپنی بائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر جب ان دونوں نے رکوع کیا تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر ان کے ہاتھوں کو مارا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر ایک دوسرے میں انگلیاں داخل کر دیں اور دونوں ہاتھ اپنی رانوں کے بیچ میں رکھ لئے، اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ فائدہ: یہ عمل «تطبيق» کہلاتا ہے، ابتدا میں رکوع کا یہی طریقہ تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آخر دم تک اس کے نسخ کے قائل نہ ہوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 534.
الحكم: إسناده صحيح، م: 534.