بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3911
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3911
حدیث نمبر: 3911 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، ابْنِ أُذْنَانَ ، عَلْقَمَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ أُذْنَانَ ، قَالَ: أَسْلَفْتُ عَلْقَمَةَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ، فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُهُ، قُلْتُ لَهُ: اقْضِنِي، قَالَ: أَخِّرْنِي إِلَى قَابِلٍ، فَأَتَيْتُ عَلَيْهِ، فَأَخَذْتُهَا، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بَعْدُ، قَالَ: بَرَّحْتَ بِي قَدْ مَنَعْتَنِي، فَقُلْتُ: نَعَمْ، هُوَ عَمَلُكَ، قَالَ: وَمَا شَأْنِي؟ قُلْتُ: إِنَّكَ حَدَّثْتَنِي عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ السَّلَفَ يَجْرِي مَجْرَى شَطْرِ الصَّدَقَةِ". قَالَ: نَعَمْ، فَهُوَ كَذَاكَ، قَالَ: فَخُذْ الْآنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن اذنان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کو دو ہزار درہم قرض کے طور پر دیئے، جب مال غنیمت میں سے انہیں حصہ ملا تو میں نے ان سے کہا کہ اب میرا قرض ادا کیجئے، انہوں نے کہا کہ مجھے ایک سال تک مہلت دے دو، میں نے انکار کر دیا اور ان سے اپنے پیسے وصول کر لئے، کچھ عرصے بعد میں ان کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے کہ تم نے انکار کر کے مجھے بڑی تکلیف پہنچائی تھی، میں نے کہا: اچھا، یہ تو آپ کا عمل تھا، انہوں نے پوچھا: کیا مطلب؟ میں نے کہا کہ آپ ہی نے تو ہمیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرض آدھے صدقے کے قائم مقام ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہاں، یہ تو ہے، میں نے کہا: اب دوبارہ لے لیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3911]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
← پچھلی حدیث (3910) باب پر واپس اگلی حدیث (3912) →