عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، لِابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : كَيْفَ تَعْرِفُ هَذَا الْحَرْفَ: مَاءٌ غَيْرُ يَاسِنٍ أَمْ آسِنٍ؟ فَقَالَ: كُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ قَرَأْتَ؟ قَالَ: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ أَجْمَعَ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ: أَهَذَّ الشِّعْرِ لَا أَبَا لَكَ؟! قَدْ عَلِمْتُ قَرَائِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ" يَقْرُنُ قَرِينَتَيْنِ، قَرِينَتَيْنِ ؛ مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ". وَكَانَ أَوَّلُ مُفَصَّلِ ابْنِ مَسْعُودٍ الرَّحْمَنُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زرّ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اس آیت کو کس طرح پڑھتے ہیں: «مِنْ مَاءٌ غَيْرُ يَاسِنٍ» یا «آسِنٍ» یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اس آیت کے علاوہ تم نے سارا قرآن یاد کر لیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ (آپ اس سے اندازہ لگا لیں) میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اشعار کی طرح؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں، جن کا تعلق مفصلات سے تھا، یاد رہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں مفصلات کا آغاز سورہ رحمٰن سے ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3910]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن.