بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كِلَاكُمَا قَدْ أَحْسَنَ"، قَالَ: وَغَضِبَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، قَالَ شُعْبَةُ: أَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَخْتَلِفُوا، فَإِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَلَكُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی، جسے سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، یا مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار محسوس ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ ”تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے اس لئے تم اختلاف نہ کرو۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3908]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3476 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3476 .