بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 39 از 45
حدیث نمبر: 4309 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانُوا يَقْرَءُونَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" خَلَطْتُمْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے قرأت کیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ پر قرآن کو مشتبہ کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4309]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4310 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجٌ ، فُضَيْلٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4310]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م:91.
الحكم: حديث صحيح، م:91.
حدیث نمبر: 4311 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَا وَعَمِّي بِالْهَاجِرَةِ، قَالَ: فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَقُمْنَا خَلْفَهُ، قَالَ: فَأَخَذَنِي بِيَدٍ، وَأَخَذَ عَمِّي بِيَدٍ، قَالَ: ثُمَّ قَدَّمَنَا حَتَّى جَعَلَ كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى نَاحِيَةٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوپہر کے وقت میں اپنے چچا کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوئی تو ہم دونوں ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک ہاتھ سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ سے میرے چچا کو اور ہمیں آگے کھینچ لیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص ایک کونے پر ہو گیا، پھر انہوں نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4311]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 534، ابن إسحاق صرح بالتحديث فى الرواية الآتية برقم: 4386.
الحكم: إسناده حسن، م: 534، ابن إسحاق صرح بالتحديث فى الرواية الآتية برقم: 4386.
حدیث نمبر: 4312 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْمَسْعُودِيُّ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، كَانَ فِي مَمْلَكَتِهِ، فَتَفَكَّرَ، فَعَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُ، وَأَنَّ مَا هُوَ فِيهِ قَدْ شَغَلَهُ عَنْ عِبَادَةِ رَبِّهِ، فَتَسَرَّبَ فَانْسَابَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ قَصْرِهِ، فَأَصْبَحَ فِي مَمْلَكَةِ غَيْرِهِ، وَأَتَى سَاحِلَ الْبَحْرِ، وَكَانَ بِهِ يَضْرِبُ اللَّبِنَ بِالْأَجْرِ، فَيَأْكُلُ وَيَتَصَدَّقُ بِالْفَضْلِ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ، حَتَّى رَقِيَ أَمْرُهُ إِلَى مَلِكِهِمْ، وَعِبَادَتُهُ وَفَضْلُهُ، فَأَرْسَلَ مَلِكُهُمْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ، فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ، فَأَعَادَ ثُمَّ أَعَادَ إِلَيْهِ، فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ، وَقَالَ: مَا لَهُ وَمَالِي؟! قَالَ: فَرَكِبَ الْمَلِكُ، فَلَمَّا رَآهُ الرَّجُلُ وَلَّى هَارِبًا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْمَلِكُ رَكَضَ فِي أَثَرِهِ، فَلَمْ يُدْرِكْهُ، قَالَ: فَنَادَاهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ، فَأَقَامَ حَتَّى أَدْرَكَهُ، فَقَالَ لَهُ: مَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ؟ قَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، صَاحِبُ مُلْكِ كَذَا وَكَذَا، تفكرت في أمري، فعلمت أن ما أَنَا فِيهِ مُنْقَطِعٌ، فَإِنَّهُ قَدْ شَغَلَنِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي، فَتَرَكْتُهُ، وَجِئْتُ هَاهُنَا أَعْبُدُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: مَا أَنْتَ بِأَحْوَجَ إِلَى مَا صَنَعْتَ مِنِّي، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ، فَسَيَّبَهَا، ثُمَّ تَبِعَهُ، فَكَانَا جَمِيعًا يَعْبُدَانِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَدَعَوَا اللَّهَ أَنْ يُمِيتَهُمَا جَمِيعًا، قَالَ: فَمَاتَا"، قَالَ عَبْدُ الله: لَوْ كُنْتُ بِرُمَيْلَةِ مِصْرَ، لَأَرَيْتُكُمْ قُبُورَهُمَا بِالنَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گزشتہ امتوں میں تم سے پہلے ایک بادشاہ گزرا ہے جو اپنی مملکت میں رہا کرتا تھا، ایک دن وہ غور و فکر کر رہا تھا تو اسے یہ بات سمجھ آئی کہ اس کی حکومت ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی اور وہ جن کاموں میں الجھا ہوا ہے ان کی وجہ سے وہ اپنے رب کی عبادت کرنے سے محروم ہے، یہ سوچ کر ایک دن وہ رات کے وقت چپکے سے اپنے محل سے نکلا اور دوسرے ملک چلا گیا، وہاں سمندر کے کنارے رہائش اختیار کر لی اور اپنا معمول یہ بنا لیا کہ اینٹیں ڈھوتا، جو مزدوری حاصل ہوتی، اس میں سے کچھ سے کھانے کا انتظام کر لیتا اور باقی سب اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتا۔ وہ اپنے اس معمول پر ثابت قدمی سے عمل کرتا رہا، یہاں تک کہ ہوتے ہوتے یہ خبر اس ملک کے بادشاہ کو ہوئی، اس کی عبادت اور فضیلت کا حال بھی اسے معلوم ہوا تو اس ملک کے بادشاہ نے اسے اپنے پاس بلا بھیجا، لیکن اس نے جانے سے انکار کر دیا، بادشاہ نے دوبارہ اس کو پیغام بھیجا لیکن اس نے پھر انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ بادشاہ کو مجھ سے کیا کام؟ بادشاہ کو پتہ چلا تو وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر اس کی طرف روانہ ہوا، جب اس شخص نے بادشاہ کو دیکھا تو بھاگنے لگا، بادشاہ نے یہ دیکھ کر اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا لیکن اسے نہ پا سکا، بالآخر اس نے دور ہی سے اسے آواز دی کہ اے اللہ کے بندے! آپ کو مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں (میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا)، چنانچہ وہ اپنی جگہ کھڑا ہو گیا اور بادشاہ اس کے پاس پہنچ گیا، بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ کون ہیں؟ اس نے کہا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں، فلاں ملک کا بادشاہ تھا، میں نے اپنے متعلق ایک مرتبہ غور و فکر کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میری حکومت تو ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی اور اس حکومت کی وجہ سے میں اپنے رب کی عبادت سے محروم ہوں، اس لئے میں اپنی حکومت چھوڑ چھاڑ کر یہاں آ گیا ہوں تاکہ اپنے رب کی عبادت کر سکوں۔ وہ بادشاہ کہنے لگا کہ آپ نے جو کچھ کیا، مجھے تو اس سے بھی زیادہ ایسا کرنے کی ضرورت ہے، چنانچہ وہ اپنی سواری سے اترا، اسے جنگل میں چھوڑا اور اس کی اتباع اختیار کر لی، اور وہ دونوں اکٹھے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگے، ان دونوں نے اللہ سے یہ دعا کی تھی کہ ان دونوں کو موت اکٹھی آئے، چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں مصر کے اس چھوٹے سے ٹیلے پر ہوتا تو تمہیں ان دونوں کی قبریں دکھاتا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کی علامات ذکر فرمائی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4312]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، يزيد سمع من المسعودي بعد الاختلاط ، وعبدالرحمن لم يسمع من أبيه إلا شيئا يسيرا.
الحكم: إسناده ضعيف، يزيد سمع من المسعودي بعد الاختلاط ، وعبدالرحمن لم يسمع من أبيه إلا شيئا يسيرا.
حدیث نمبر: 4313 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، الْمَسْعُودِيُّ ، الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ لِمِيقَاتِهَا"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِرُّ الْوَالِدَيْنِ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قَالَ: فَسَكَتُّ، وَلَوْ اسْتَزَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَزَادَنِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے وقت پر نماز پڑھنا، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ باتیں مجھ سے بیان فرمائیں، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4313]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 527، م: 85، المسعودي- و إن سمع منه يزيد وأبو النضر بعد الاختلاط - متابع بشعبة فى الرواية: 4186.
الحكم: حديث صحيح، خ: 527، م: 85، المسعودي- و إن سمع منه يزيد وأبو النضر بعد الاختلاط - متابع بشعبة فى الرواية: 4186.
حدیث نمبر: 4314 مسند احمد
يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، الْعَوَّامُ ، أَبُو مُحَمَّد ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّد مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا مُسْلِمَيْنِ مَضَى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنْ أَوْلَادِهِمَا، لَمْ يَبْلُغُوا حِنْثًا، كَانُوا لَهُمَا حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: مَضَى لِي اثْنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَاثْنَانِ"، قَالَ: فَقَالَ أُبَيٌّ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ: مَضَى لِي وَاحِدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَوَاحِدٌ، وَذَلِكَ فِي الصَّدْمَةِ الْأُولَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جن مسلمان میاں بیوی کے تین بچے بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جائیں، وہ ان کے لئے جہنم سے حفاظت کا ایک مضبوط قلعہ بن جائیں گے، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی یہی حکم ہے، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے تو دو بچے آ گے بھیجے ہیں؟ فرمایا: پھر بھی یہی حکم ہے، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ - جو سید القراء کے نام سے مشہور ہیں - عرض کرنے لگے کہ میرا صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تب بھی یہی حکم ہے، البتہ اس چیز کا تعلق تو صدمہ کے ابتدائی لمحات سے ہے (کہ اس وقت کون صبر کرتا ہے اور کون جزع فزع؟ کیونکہ بعد میں تو سب ہی صبر کر لیتے ہیں)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4314]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، ولجهالة حال أبى محمد.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، ولجهالة حال أبى محمد.
حدیث نمبر: 4315 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَزُولُ رَحَى الْإِسْلَامِ عَلَى رَأْسِ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ، أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ هَلَكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ، وَإِنْ بَقُوا بَقِيَ لَهُمْ دِينُهُمْ سَبْعِينَ عَامًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی چکی پئنتیس (35)، چھتیس (36) یا سئنتیس (37) سال تک گھومتی رہے گی، اس کے بعد اگر مسلمان ہلاک ہوئے تو ہلاک ہونے والوں کی راہ پر چلے جائیں گے اور اگر باقی بچ گئے تو ستر سال تک ان کا دین باقی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4315]
حکم دارالسلام
حديث حسن.
الحكم: حديث حسن.
حدیث نمبر: 4316 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، السُّدِّيِّ ، مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَبِي شُعْبَةُ رَفَعَهُ، وَأَنَا لَا أَرْفَعُهُ لَكَ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ سورة الحج آية 25، قَالَ:" لَوْ أَنَّ رَجُلًا هَمَّ فِيهِ بِإِلْحَادٍ وَهُوَ بِعَدَنِ أَبْيَنَ، لَأَذَاقَهُ اللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی: « ﴿وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ » [الحج: 25] کی تفسیر میں منقول ہے کہ جو شخص حرم مکہ میں الحاد کا ارادہ کرے خواہ وہ عدن ابین میں رہتا ہو اللہ اسے دردناک عذاب ضرور چکھائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4316]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، روي مرفوعا وموقوفا، والموقوف أصح.
الحكم: إسناده حسن، روي مرفوعا وموقوفا، والموقوف أصح.
حدیث نمبر: 4317 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ:" هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ، بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے جن امتیوں کو نہیں دیکھا، انہیں آپ کیسے پہچانیں گے؟ فرمایا: ان کی پیشانیاں وضو کے آثار کی وجہ سے انتہائی روشن اور چمکدار ہوں گی جیسے چتکبرا گھوڑا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4317]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4318 مسند احمد
يَزِيدُ ، فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قَالَ عَبْدٌ قَطُّ إِذَا أَصَابَهُ هَمٌّ وَحَزَنٌ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمَّهُ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَعَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ:" أَجَلْ، يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو جب کبھی کوئی مصیبت یا غم لاحق ہو اور وہ یہ کلمات کہہ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت اور غم کو دور کر کے اس کی جگہ خوشی عطاء فرمائیں گے، وہ کلمات یہ ہیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي» اے اللہ! میں آپ کا غلام ابن غلام ہوں، آپ کی باندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، میری ذات پر آپ ہی کا حکم چلتا ہے، میری ذات کے متعلق آپ کا فیصلہ عدل و انصاف والا ہے، میں آپ کو آپ کے ہر اس نام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو آپ نے اپنے لئے خود تجویز کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا، کہ آپ قرآن کریم کو میرے دل کی بہار، سینے کا نور، غم میں روشنی اور پریشانی کی دوری کا ذریعہ بنا دیں، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہم اس دعا کو سیکھ لیں؟ فرمایا: کیوں نہیں، جو بھی اس دعا کو سنے اس کے لئے مناسب ہے کہ اسے سیکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4318]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كما قال الدارقطني فى العدل 5 / 201 ، أبو سلمة الجهني لم يتبين لأئمة الجرح والتعديل من هو، فهو فى عداد المجهولين.
الحكم: إسناده ضعيف كما قال الدارقطني فى العدل 5 / 201 ، أبو سلمة الجهني لم يتبين لأئمة الجرح والتعديل من هو، فهو فى عداد المجهولين.
حدیث نمبر: 4319 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ ، جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ ، مَسْرُوقًا ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَسْرُوقًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ أَنْ تَحْبِسُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ فَانْبِذُوا فِيهَا، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں پہلے قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اجازت دیتا ہوں لہذا تم قبرستان جایا کرو، میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع کیا تھا، اب رکھ سکتے ہو، نیز میں نے تمہیں مختلف برتنوں کے استعمال سے روکا تھا، اب تم اسے نبیذ پینے کے لئے استعمال کر سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیز سے بچتے رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4319]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف فرقد، وجابر بن يزيد، لعله الجعفي، وهو ضعيف أيضا، وله شاهد من حديث بريدة عند مسلم: 1977.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف فرقد، وجابر بن يزيد، لعله الجعفي، وهو ضعيف أيضا، وله شاهد من حديث بريدة عند مسلم: 1977.
حدیث نمبر: 4320 مسند احمد
مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، زَاذَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ، يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زمین میں اللہ کے کچھ فرشتے گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4320]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4321 مسند احمد
مُعَاذٌ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُسْلِمٌ الْبَطِينُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِيهِ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، ابْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ. ح وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ الْبَطِينُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: مَا أَخْطَأَنِي، أَوْ قَلَّمَا أَخْطَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ خَمِيسًا قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ: عَشِيَّةَ خَمِيسٍ، إِلَّا أَتَيْتُهُ، قَالَ: فَمَا سَمِعْتُهُ لِشَيْءٍ قَطُّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فَنَكَسَ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ، مَحْلُولٌ أَزْرَارُ قَمِيصِهِ، قَدْ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ، وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ، فَقَالَ: أَوْ دُونَ ذَاكَ، أَوْ فَوْقَ ذَاكَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَاكَ، أَوْ شَبِيهًا بِذَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوا کہ جمعرات کا دن آیا ہو اور میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر نہ ہوا ہوں، اس مجلس میں میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو کبھی یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (اس مجلس میں وہ حدیث بیان نہیں کرتے تھے)، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ اس مجلس میں ان کے منہ سے نکل گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، یہ کہہ کر انہوں نے سر جھکا لیا، میں نے دیکھا تو وہ کھڑے ہوگئے تھے، قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے، آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور رگیں پھول گئیں اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کم فرمایا، یا زیادہ فرمایا، یا اس کے قریب قریب فرمایا، یا اس کے مشابہہ کوئی جملہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4321]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4322 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْأَحْقَافِ، وَأَقْرَأَهَا آخَرَ، فَخَالَفَنِي فِي آيَةٍ مِنْهَا، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تُقْرِئْنِي كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" بَلَى"، قَالَ الْآخَرُ: أَلَمْ تُقْرِئْنِي كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" بَلَى"، فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ الَّذِي عِنْدَهُ: لِيَقْرَأْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا كَمَا سَمِعَ، فَإِنَّمَا" هَلَكَ أَوْ أُهْلِكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالِاخْتِلَافِ"، فَمَا أَدْرِي، أَأَمَرَهُ بِذَاكَ، أَوْ شَيْءٍ قَالَهُ مِنْ قِبَلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سورہ احقاف پڑھائی اور ایک دوسرے آدمی کو بھی پڑھائی، اس نے ایک آیت میں مجھ سے اختلاف کیا، میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں یہ سورت کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے، میں نے کہا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ اس اس طرح پڑھائی ہے، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ نے مجھے اس اس طرح نہیں پڑھایا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، اس دوسرے آدمی نے بھی یہی پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بھی یہی جواب دیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، وہ کہنے لگا کہ تم میں سے ہر شخص اس طرح پڑھا کرے جیسے اس نے سنا ہو کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے، مجھے معلوم نہیں کہ اسے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہی تھی یا اس نے اپنے پاس سے کہی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4322]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4323 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلَاةُ الْجَمِيعِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلَاةً، كُلُّهَا مِثْلُ صَلَاتِهِ". قَالَ عَفَّانُ: بَلَغَنِي أَنَّ أَبَا الْعَوَّامِ وَافَقَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے، اور ہر درجہ اس کی نماز کے برابر ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4323]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4324 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ... مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4324]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة السدوسي لم يسمع من أبى الأحوص.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة السدوسي لم يسمع من أبى الأحوص.
حدیث نمبر: 4325 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، خَالِهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِيتُ امْرَأَةً فِي حُشٍّ بِالْمَدِينَةِ، فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،" فَنَزَلَتْ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا سورة هود آية 114".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ مدینہ منورہ کے ایک باغ میں ایک عورت سے میرا آمنا سامنا ہو گیا، میں نے مباشرت کے علاوہ اس کے ساتھ سب ہی کچھ کیا ہے، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: « ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ » [هود: 114] دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4325]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2763، وهذا إسناد حسن من أجل سماك.
الحكم: حديث صحيح، م: 2763، وهذا إسناد حسن من أجل سماك.
حدیث نمبر: 4326 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، الْمَسْعُودِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ:" مَنْ يَذْكُرُ مِنْكُمْ لَيْلَةَ الصَّهْبَاوَاتِ؟" قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَا، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَإِنَّ فِي يَدِي لَتَمَرَاتٍ أَسْتَحِرُ بِهِنَّ، مُسْتَتِرًا مِنَ الْفَجْرِ بِمُؤْخِرَةِ رَحْلِي، وَذَلِكَ حِينَ طَلَعَ الْقُمَيْرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے آ کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ شب قدر کب ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ رات کسے یاد ہے جو سرخ و سفید ہو رہی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے یاد ہے، میرے ہاتھ میں اس وقت کچھ کھجوریں تھیں اور میں چھپ کر اپنے کجاوے کے پچھلے حصے میں ان سے سحری کر رہا تھا اور اس وقت چاند نکلا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4326]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبن مسعود.
حدیث نمبر: 4327 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ عَفَّانُ: سَمِعَهُ منْهُ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَكَاتِبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملے پر گواہ بننے والے اور اسے تحریر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4327]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4328 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ، الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ أَنْتُمْ وَرُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، لَكُمْ رُبُعُهَا، وَلِسَائِرِ النَّاسِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِهَا؟"، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَثُلُثَهَا؟" قَالُوا: فَذَاكَ أَكْثَرُ! قَالَ:" فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَالشَّطْرَ؟" قَالُوا: فَذَلِكَ أَكْثَرُ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَهْلُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ أَنْتُمْ مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ اگر تم لوگ اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو اور باقی ساری امتیں تین چوتھائی تو کیسا رہے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا: اگر تم اہل جنت کا ایک تہائی ہو تو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: پہلے کی نسبت یہ تعداد زیادہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اہل جنت کا نصف ہو تو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یہ پہلے سے بھی زیادہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، جن میں سے صرف تمہاری اسی صفیں ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4328]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، عبدالرحمن - وإن لم يسمع من أبيه إلا شيئا يسيرا - متابع.
الحكم: حديث صحيح لغيره، عبدالرحمن - وإن لم يسمع من أبيه إلا شيئا يسيرا - متابع.