بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 4322
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 4322
حدیث نمبر: 4322 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
رَوْحٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْأَحْقَافِ، وَأَقْرَأَهَا آخَرَ، فَخَالَفَنِي فِي آيَةٍ مِنْهَا، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تُقْرِئْنِي كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" بَلَى"، قَالَ الْآخَرُ: أَلَمْ تُقْرِئْنِي كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" بَلَى"، فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ الَّذِي عِنْدَهُ: لِيَقْرَأْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا كَمَا سَمِعَ، فَإِنَّمَا" هَلَكَ أَوْ أُهْلِكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالِاخْتِلَافِ"، فَمَا أَدْرِي، أَأَمَرَهُ بِذَاكَ، أَوْ شَيْءٍ قَالَهُ مِنْ قِبَلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سورہ احقاف پڑھائی اور ایک دوسرے آدمی کو بھی پڑھائی، اس نے ایک آیت میں مجھ سے اختلاف کیا، میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں یہ سورت کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے، میں نے کہا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ اس اس طرح پڑھائی ہے، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ نے مجھے اس اس طرح نہیں پڑھایا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، اس دوسرے آدمی نے بھی یہی پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بھی یہی جواب دیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، وہ کہنے لگا کہ تم میں سے ہر شخص اس طرح پڑھا کرے جیسے اس نے سنا ہو کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے، مجھے معلوم نہیں کہ اسے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہی تھی یا اس نے اپنے پاس سے کہی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4322]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
← پچھلی حدیث (4321) باب پر واپس اگلی حدیث (4323) →