مُعَاذٌ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُسْلِمٌ الْبَطِينُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِيهِ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، ابْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ. ح وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ الْبَطِينُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: مَا أَخْطَأَنِي، أَوْ قَلَّمَا أَخْطَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ خَمِيسًا قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ: عَشِيَّةَ خَمِيسٍ، إِلَّا أَتَيْتُهُ، قَالَ: فَمَا سَمِعْتُهُ لِشَيْءٍ قَطُّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فَنَكَسَ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ، مَحْلُولٌ أَزْرَارُ قَمِيصِهِ، قَدْ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ، وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ، فَقَالَ: أَوْ دُونَ ذَاكَ، أَوْ فَوْقَ ذَاكَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَاكَ، أَوْ شَبِيهًا بِذَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوا کہ جمعرات کا دن آیا ہو اور میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر نہ ہوا ہوں، اس مجلس میں میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو کبھی یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (اس مجلس میں وہ حدیث بیان نہیں کرتے تھے)، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ اس مجلس میں ان کے منہ سے نکل گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، یہ کہہ کر انہوں نے سر جھکا لیا، میں نے دیکھا تو وہ کھڑے ہوگئے تھے، قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے، آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور رگیں پھول گئیں اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کم فرمایا، یا زیادہ فرمایا، یا اس کے قریب قریب فرمایا، یا اس کے مشابہہ کوئی جملہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4321]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.