يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، الْعَوَّامُ ، أَبُو مُحَمَّد ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّد مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا مُسْلِمَيْنِ مَضَى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنْ أَوْلَادِهِمَا، لَمْ يَبْلُغُوا حِنْثًا، كَانُوا لَهُمَا حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: مَضَى لِي اثْنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَاثْنَانِ"، قَالَ: فَقَالَ أُبَيٌّ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ: مَضَى لِي وَاحِدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَوَاحِدٌ، وَذَلِكَ فِي الصَّدْمَةِ الْأُولَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جن مسلمان میاں بیوی کے تین بچے بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جائیں، وہ ان کے لئے جہنم سے حفاظت کا ایک مضبوط قلعہ بن جائیں گے“، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے“، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے تو دو بچے آ گے بھیجے ہیں؟ فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے“، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ - جو سید القراء کے نام سے مشہور ہیں - عرض کرنے لگے کہ میرا صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تب بھی یہی حکم ہے، البتہ اس چیز کا تعلق تو صدمہ کے ابتدائی لمحات سے ہے“ (کہ اس وقت کون صبر کرتا ہے اور کون جزع فزع؟ کیونکہ بعد میں تو سب ہی صبر کر لیتے ہیں)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4314]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، ولجهالة حال أبى محمد.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، ولجهالة حال أبى محمد.