بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 17 از 45
حدیث نمبر: 3868 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبَانُ ، عَاصِمٌ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ قَتَلَهُ نَبِيٌّ، أَوْ قَتَلَ نَبِيًّا، وَإِمَامُ ضَلَالَةٍ، وَمُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس شخص کو ہو گا جسے کسی نبی نے قتل کیا ہو، یا اس نے کسی نبی کو شہید کیا ہو، یا گمراہی کا پیشوا ہو، یا لاشوں کا مثلہ کرنے والا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3868]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3869 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ ، سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ كَانَ يَنْزِلُ فِي مَسْجِدِ الْمَطْمُورَةِ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ، وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا أَجَلٌ عَاجِلٌ، أَوْ غِنًى عَاجِلٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو کوئی ضرورت پیش آئے اور وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کر دے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا کام آسان نہ ہو، اور جو شخص اسے اللہ کے سامنے بیان کرے تو اللہ اسے فوری رزق یا تاخیر کی موت عطا فرما دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3869]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، سيار هذا هو أبو حمزة الكوفي وليس أبا الحكم.
الحكم: إسناده حسن، سيار هذا هو أبو حمزة الكوفي وليس أبا الحكم.
حدیث نمبر: 3870 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ ، سَيَّارٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: قَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ، رَأَيْنَا النَّاسَ رُكُوعًا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَكَبَّرَ وَرَكَعَ، وَرَكَعْنَا، ثُمَّ مَشَيْنَا، وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ، فَمَرَّ رَجُلٌ يُسْرِعُ، فَقَالَ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَلَمَّا صَلَّيْنَا وَرَجَعْنَا، دَخَلَ إِلَى أَهْلِهِ، جَلَسْنَا، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّهُ عَلَى الرَّجُلِ: صَدَقَ اللَّهُ، وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ، أَيُّكُمْ يَسْأَلُهُ؟ فَقَالَ طَارِقٌ: أَنَا أَسْأَلُهُ، فَسَأَلَهُ حِينَ خَرَجَ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ، وَفُشُوَّ التِّجَارَةِ، حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ، وَقَطْعَ الْأَرْحَامِ، وَشَهَادَةَ الزُّورِ، وَكِتْمَانَ شَهَادَةِ الْحَقِّ، وَظُهُورَ الْقَلَمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ مسجد میں نماز کھڑی ہو گئی، ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ صفوں میں شامل ہونے کے لئے چلے جا رہے تھے، جب لوگ رکوع میں گئے تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی رکوع میں چلے گئے، انہیں دیکھ کر ہم نے بھی رکوع کر لیا، اس وقت بھی ہم لوگ چل رہے تھے، ایک آدمی اسی اثنا میں سامنے سے گزرا اور کہنے لگا: السلام علیک یا ابا عبدالرحمن! انہوں نے رکوع کی حالت میں فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے گھر چلے گئے اور ہم آپس میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے یہ باتیں کرنے لگے کہ تم نے سنا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے کیا جواب دیا؟ اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے پیغام پہنچا دیا، تم میں سے کون یہ سوال ان سے پوچھے گا؟ طارق نے کہا کہ میں ان سے پوچھوں گا، چنانچہ جب وہ باہر آئے تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ جب فلاں شخص نے آپ کو سلام کیا تھا تو آپ نے یہ کیوں کہا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؟ انہوں نے یہ جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ بات علامات قیامت میں سے ہے کہ سلام صرف پہچان کے لوگوں کو کیا جانے لگے گا، تجارت پھیل جائے گی، حتی کہ عورت بھی تجارتی معاملات میں اپنے خاوند کی مدد کرنے لگے گی، قطع رحمی ہونے لگے گی، جھوٹی گواہی دی جانے لگے گی، سچی گواہی کو چھپایا جائے گا اور قلم کا چرچا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3870]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3871 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، عِيسَى بْنُ دِينَارٍ ، أَبِيهِ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ:" مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے تیس روزے جس کثرت کے ساتھ رکھے ہیں، اتنی کثرت کے ساتھ انتیس (29) کبھی نہیں رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3871]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة دينار والد عيسي.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة دينار والد عيسي.
حدیث نمبر: 3872 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" كَانَ عَامَّةً مَا يَنْصَرِفُ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى يَسَارِهِ إِلَى الْحُجُرَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے بعد اپنے حجرے کی طرف واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3872]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 852، م: 707، محمد بن إسحاق - وإن عنعن- صرح بالتحديث.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 852، م: 707، محمد بن إسحاق - وإن عنعن- صرح بالتحديث.
حدیث نمبر: 3873 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قُتِلَ قَتْلًا، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا، وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا"، قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ، وَأَبَا بَكْرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے نو مرتبہ اس بات پر قسم کھانا زیادہ پسند ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شہید ہوئے، بہ نسبت اس کے کہ میں ایک مرتبہ قسم کھاؤں کہ وہ شہید نہیں ہوئے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا نبی بھی بنایا ہے اور انہیں شہید بھی قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3873]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3874 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنَ الْمَسِيلِ، فَقُلْتُ: أَمِنْ هَاهُنَا تَرْمِيهَا؟ فَقَالَ: مِنْ هَاهُنَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ،" رَمَاهَا الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ 65".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کر رہے تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ یہاں سے رمی کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں سے اس ذات نے رمی کی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3874]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 1747، م: 1296.
الحكم: إسناده صحيح. خ: 1747، م: 1296.
حدیث نمبر: 3875 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، عُمَارَةَ ، وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: إِنِّي لَمُسْتَتِرٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، إِذْ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، ثَقَفِيٌّ وَخَتْنَاهُ قُرَشِيَّانِ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ، قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ، فَتَحَدَّثُوا بَيْنَهُمْ بِحَدِيثٍ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمْ تُرَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْمَعُ مَا قُلْنَا؟ قَالَ الْآخَرُ: أُرَاهُ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا، وَلَا يَسْمَعُ إِذَا خَفَضْنَا، قَالَ الْآخَرَ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ شَيْئًا مِنْهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُهُ كُلَّهُ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ حَتَّى الْخَاسِرِينَ سورة فصلت آية 22 - 23.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں غلاف کعبہ سے چمٹا ہوا تھا کہ تین آدمی آئے، ان میں سے ایک ثقفی تھا اور دو قریشی کے جو اس کے داماد تھے، ان کے پیٹ میں چربی زیادہ تھی لیکن دلوں میں سمجھ بوجھ بہت کم تھی، وہ چپکے چپکے باتیں کرنے لگے جنہیں میں نہ سن سکا، اتنی دیر میں ان میں سے ایک نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، کیا اللہ ہماری ان باتوں کو سن رہا ہے؟ دوسرا کہنے لگا: میرا خیال ہے کہ جب ہم اونچی آواز سے باتیں کرتے ہیں تو وہ انہیں سنتا ہے، اور جب ہم اپنی آوازیں بلند نہیں کرتے تو وہ انہیں نہیں سن پاتا، تیسرا کہنے لگا: اگر وہ کچھ سن سکتا ہے تو سب کچھ بھی سن سکتا ہے، میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کی تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ . . . . . وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ » [فصلت:22-23] اور تم جو چیزیں چھپاتے ہو کہ تمہارے کان، آنکھیں اور کھالیں تم پر گواہ نہ بن سکیں . . . . . یہ اپنے رب کے ساتھ تمہارا گھٹیا خیال ہے اور تم نقصان اٹھانے والے ہو گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3875]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4817، م: 2775، وفي هذا الإسناد وهب بن ربيعة مجهول.
الحكم: حديث صحيح، خ: 4817، م: 2775، وفي هذا الإسناد وهب بن ربيعة مجهول.
حدیث نمبر: 3876 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ الْحَضْرَمِيِّ ، رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ كَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ زَارَهُ فِي أَهْلِهِ، فَلَمْ يَجِدْهُ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ عَلَى أَهْلِهِ، وَسَلَّمَ، فَاسْتَسْقَى، قَالَ: فَبَعَثَتْ الْجَارِيَةَ تَجِيئُهُ بِشَرَابٍ مِنَ الْجِيرَانِ، فَأَبْطَأَتْ، فَلَعَنَتْهَا، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ ، فَجَاءَ أَبُو عُمَيْرٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَيْسَ مِثْلُكَ يُغَارُ عَلَيْهِ، هَلَّا سَلَّمْتَ عَلَى أَهْلِ أَخِيكَ، وَجَلَسْتَ وَأَصَبْتَ مِنَ الشَّرَابِ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، فَأَرْسَلَتْ الْخَادِمَ، فَأَبْطَأَتْ، إِمَّا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ، وَإِمَّا رَغِبُوا فِيمَا عِنْدَهُمْ، فَأَبْطَأَتْ الْخَادِمُ، فَلَعَنَتْهَا، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّعْنَةَ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ إِلَيْهِ، فَإِنْ أَصَابَتْ عَلَيْهِ سَبِيلًا، أَوْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا، وَإِلَّا قَالَتْ: يَا رَبِّ، وُجِّهْتُ إِلَى فُلَانٍ، فَلَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ سَبِيلًا، وَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا، فَيُقَالُ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ"، فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ الْخَادِمُ مَعْذُورَةً، فَتَرْجِعَ اللَّعْنَةُ، فَأَكُونَ سَبَبَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعمیر کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک دوست تھا، ایک مرتبہ وہ اس سے ملنے کے لئے اس کے گھر گئے، لیکن وہاں اس سے ملاقات نہ ہو سکی، انہوں نے اس کے اہل خانہ سے اجازت لی اور سلام کیا اور ان سے پینے کے لئے پانی منگوایا، گھر والوں نے ہمسایوں سے پانی لینے کے لئے باندی کو بھیجا، اس نے آنے میں تاخیر کر دی تو اس عورت نے اس پر لعنت بھیجی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسی وقت اس گھر سے نکل آئے، اتنی دیر میں ابوعمیر آ گئے اور کہنے لگے: اے ابوعبدالرحمن! آپ جیسے شخص کے گھر میں آنے پر غیرت مندی نہیں دکھائی جا سکتی (کیونکہ آپ کی طرف سے ہمیں مکمل اطمینان ہے) آپ اپنے بھائی کے گھر میں داخل ہو کر بیٹھے کیوں نہیں، اور پانی وغیرہ بھی نہیں پیا؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے ایسا ہی کیا تھا، اہل خانہ نے ایک نوکرانی کو پانی لانے کے لئے بھیجا، اسے آنے میں دیر ہو گئی، یا تو اس وجہ سے کہ اسے جن لوگوں کے پاس بھیجا گیا تھا ان کے پاس بھی پانی نہیں ہو گا، یا تھوڑا ہونے کی وجہ سے وہ خود اس کے ضرورت مند ہوں گے، ادھر اہل خانہ نے اس پر لعنت بھیجی اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص پر لعنت بھیجی گئی ہو، لعنت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اگر وہاں تک پہنچنے کا راستہ مل جائے تو وہ اس پر واقع ہو جاتی ہے ورنہ بارگاہ الٰہی میں عرض کرتی ہے کہ پروردگار! مجھے فلاں شخص کی طرف متوجہ کیا گیا لیکن میں نے اس تک پہنچنے کا راستہ نہ پایا، اب کیا کروں؟ اس سے کہا جاتا ہے کہ جہاں سے آئی ہے وہیں واپس چلی جا۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں خادمہ کو کوئی عذر پیش آگیا ہو اور وہ لعنت واپس پلٹ کر یہیں آ جائے اور میں اس کا سبب بن جاؤں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3876]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين.
الحكم: إسناده محتمل للتحسين.
حدیث نمبر: 3877 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَجَوَامِعَهُ أَوْ جَوَامِعَ الْخَيْرِ وَفَوَاتِحَهُ وَإِنَّا كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي صَلَاتِنَا، حَتَّى عُلِّمْنَا، فَقَالَ: قُولُوا:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا، وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خیر و بھلائی سے متعلق افتتاحی اور جامع چیزیں سکھائی گئی تھیں، مثلا ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ہمیں نماز میں کیا پڑھنا چاہئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ یوں کہا کرو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3877]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 402.
الحكم: إسناده صحيح، م: 402.
حدیث نمبر: 3878 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا أَحَدًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3878]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2383 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2383 .
حدیث نمبر: 3879 مسند احمد
حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْحَسَنُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3879]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 3880 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ہر دوست کی دوستی سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3880]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2383.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 3881 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْوَرِ ، عَبْدُ اللَّهِ ، لِإِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْوَرِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ وَكَاتِبُهُ وَشَاهِدَاهُ، إِذَا عَلِمُوا بِهِ، وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ، وَلاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ هِجْرَتِهِ: مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : آكِلُ الرِّبَا، وَمُوكِلُهُ سَوَاءٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا، اسے تحریر کرنے والا اور اس کے گواہ جب کہ وہ جانتے بھی ہوں، اور حسن کے لئے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتیں، زکوٰۃ چھپانے والے اور ہجرت کے بعد مرتد ہوجانے والے دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی قیامت کے دن تک کے لئے ملعون قرار دیئے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابراہیم سے ذکر کی تو انہوں نے علقمہ کے حوالے سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا دونوں برابر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3881]
حکم دارالسلام
حديث حسن، الحارث بن عبدالله، وإن كان ضعيفا قد توبع، وأصله فى م: 1597.
الحكم: حديث حسن، الحارث بن عبدالله، وإن كان ضعيفا قد توبع، وأصله فى م: 1597.
حدیث نمبر: 3882 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، خُصَيْفٍ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَّ صَفَّا خَلْفَهُ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ، قَالَ: وَهُمْ فِي صَلَاةٍ كُلُّهُمْ، قَالَ: وَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا، فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ، قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ، وَجَاءَ هَؤُلَاءِ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ صَلَّى بِهِمْ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ، فَقَضَوْا مَكَانَهُمْ، ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَضَوْا رَكْعَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو صفوں میں کھڑے ہو گئے، ایک صف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے، اور دوسری صف دشمن کے سامنے، مجموعی طور پر وہ سب نماز ہی میں تھے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر کہی اور ان کے ساتھ سب لوگوں نے تکبیر کہی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پیچھے صف میں کھڑے ہوئے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ کھڑے ہو کر چلے گئے اور ان لوگوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہو گئے، اور دوسری صف والے آگئے اور پہلی صف والوں کی جگہ کھڑے ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور خود سلام پھیر دیا، پھر ان لوگوں نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر کر پہلی صف والوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہو گئے، اور پہلی صف والوں نے اپنی جگہ واپس آ کر ایک رکعت پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3882]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله.
حدیث نمبر: 3883 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، جَابِرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ، أَوْ الْعَصْرَ خَمْسًا، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ زَادَ، أَوْ نَقَصَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر یا عصر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، پھر معلوم ہونے پر سہو کے دو سجدے کر لئے اور فرمایا کہ یہ دو سجدے اس شخص کے لئے ہیں جسے نماز میں کسی کمی بیشی کا اندیشہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3883]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي.
حدیث نمبر: 3884 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، حَتَّى رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، وَقَالَ:" إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدا میں ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوران نماز سلام کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جواب دے دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی کے یہاں سے واپس آئے اور انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا اور فرمایا: دراصل نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3884]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1199، م: 538، وهذا إسناد ظاهرة الانقطاع، إبراهيم النخعي لم يسمع من ابن مسعود.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1199، م: 538، وهذا إسناد ظاهرة الانقطاع، إبراهيم النخعي لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3885 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، مُطَرِّفٌ ، أَبِي الْجَهْمِ ، أَبِي الرَّضْرَاضِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ أَبِي الرَّضْرَاضِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَيَرُدُّ عَلَيَّ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ، سَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي، فَلَمَّا فَرَغَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي إِذَا كُنْتُ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ رَدَدْتَ عَلَيَّ؟ قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوران نماز سلام کرتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جواب دے دیتے تھے، لیکن ایک دن میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، مجھے اس کا بڑا رنج ہوا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پہلے تو میں دوران نماز آپ کو سلام کرتا تھا تو آپ سلام کا جواب دے دیتے تھے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے معاملات میں جس طرح چاہتا ہے، نیا حکم بھیج دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3885]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات. وانظر ما قبله.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات. وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 3886 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُؤَاخَذُ أَحَدُنَا بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ:" مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ، أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! (اگر میں اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لوں تو) کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر میرا مؤاخذہ ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3886]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6921، م: 120.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6921، م: 120.
حدیث نمبر: 3887 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، جَابِرٍ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: مَا نَسِيتُ فِيمَا نَسِيتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ أَيْضًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جو باتیں بھول گیا، سو بھول گیا، لیکن یہ بات نہیں بھولا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اختتام نماز پر دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے «السلام عليكم ورحمة الله» کہتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3887]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.