عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، خُصَيْفٍ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَّ صَفَّا خَلْفَهُ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ، قَالَ: وَهُمْ فِي صَلَاةٍ كُلُّهُمْ، قَالَ: وَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا، فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ، قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ، وَجَاءَ هَؤُلَاءِ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ صَلَّى بِهِمْ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ، فَقَضَوْا مَكَانَهُمْ، ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَضَوْا رَكْعَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو صفوں میں کھڑے ہو گئے، ایک صف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے، اور دوسری صف دشمن کے سامنے، مجموعی طور پر وہ سب نماز ہی میں تھے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر کہی اور ان کے ساتھ سب لوگوں نے تکبیر کہی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پیچھے صف میں کھڑے ہوئے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ کھڑے ہو کر چلے گئے اور ان لوگوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہو گئے، اور دوسری صف والے آگئے اور پہلی صف والوں کی جگہ کھڑے ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور خود سلام پھیر دیا، پھر ان لوگوں نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر کر پہلی صف والوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہو گئے، اور پہلی صف والوں نے اپنی جگہ واپس آ کر ایک رکعت پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3882]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله.