عَتَّابٌ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ. ح وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ وَمَعَهُ عَظْمٌ حَائِلٌ وَبَعْرَةٌ وَفَحْمَةٌ، فَقَالَ:" لَا تَسْتَنْجِيَنَّ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا إِذَا خَرَجْتَ إِلَى الْخَلَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لیلۃ الجن کے موقع پر جب ان کے پاس واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہڈی، کالی مٹی، مینگنی اور کوئلہ بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بیت الخلا جاؤ تو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ استنجا نہ کیا کرو۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4375]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 45.
الحكم: صحيح، م: 45.