يُونُسُ ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمْشِي، إِذْ مَرَّ بِصِبْيَانٍ يَلْعَبُونَ، فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرِبَتْ يَدَاكَ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" فَقَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: دَعْنِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ يَكُ الَّذِي تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کچھ بچوں پر گزر ہوا جو کھیل رہے تھے، ان میں ابن صیاد بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں؟“ اس نے پلٹ کر پوچھا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن ماروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہے تو تم اسے قتل کرنے پر قادر نہ ہو سکو گے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4371]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2924.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2924.