يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّهْشَلِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّهْشَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: لاَ، قَالُوا: فَإِنَّكَ صَلَّيْتَ خَمْسًا؟ قَالَ:" فَسَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ، وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر یا عصر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا نماز کی رکعتوں میں اضافہ ہو گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، لوگوں نے کہا کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کر لئے اور فرمایا کہ ”میں بھی انسان ہوں، جیسے تم بات یاد رکھتے ہو میں بھی یاد رکھتا ہوں، اور جیسے تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3983]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 572.
الحكم: إسناده صحيح، م: 572.