أَبُو قَطَنٍ ، الْمَسْعُودِيُّ ، الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَانْطَلَقَ إِنْسَانٌ إِلَى غَيْضَةٍ، فَأَخْرَجَ مِنْهَا بَيْضَ حُمَرَةٍ، فَجَاءَتْ اَلْحُمَرَةُ تَرِفُّ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُءُوسِ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ فَجَعَ هَذِهِ؟" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا أَصَبْتُ لَهَا بَيْضًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْدُدْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، اس دوران ایک شخص ایک جھاڑی کی طرف چلا گیا، وہاں اسے ”لال“ (ایک پرندہ کا گھونسلہ نظر آیا)، اس نے اس کے انڈے نکال لئے، اتنی دیر میں وہ چڑیا آئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سروں پر منڈلانے اور چلانے لگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کس نے اسے تنگ کیا ہے؟“ وہ شخص کہنے لگا کہ میں اس کے انڈے لے آیا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں واپس کر دو۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3835]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإرساله، عبدالرحمن تابعي.
الحكم: إسناده ضعيف لإرساله، عبدالرحمن تابعي.