بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، ذَرٍّ ، وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، مِنْ تَيْمِ الرِّبَابِ، مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلنِّسَاءِ" تَصَدَّقْنَ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ" فَقَالَتْ امْرَأَةٌ، لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ فِيمَ؟ وَبِمَ؟ وَلِمَ؟... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو، کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو۔“ ایک عورت - جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی - کھڑی ہو کر کہنے لگی: یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4152]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره.
الحكم: صحيح لغيره.