سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، سُلَيْمَانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا"، حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سُوءٍ، قُلْنَا وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟! قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَقْعُدَ، وَأَدَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ سُلَيْمَانُ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ... مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنا طویل قیام کیا کہ میں اپنے دل میں برا ارادہ کرنے لگا۔ ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: آپ نے کیا ارادہ کیا تھا؟ فرمایا کہ میں بیٹھ جاؤں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑا چھوڑ دوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3937]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1135.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1135.