بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3930
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3930
حدیث نمبر: 3930 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَسْوَدُ ، خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، صِلَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ . ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: جَاءَ الْعَاقِبُ، وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ، قَالَ: وَأَرَادَا أَنْ يُلَاعِنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: لاَ تُلَاعِنْهُ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَعَنَّا، قَالَ خَلَفٌ: فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا أَبَدًا، قَالَ: فَأَتَيَاهُ، فَقَالَا: لَا نُلَاعِنُكَ، وَلَكِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَ، فَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لأَبْعَثَنَّ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ، حَقَّ أَمِينٍ"، قَالَ: فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: فَقَالَ:" قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ"، قَالَ: فَلَمَّا قَفَّا، قَالَ:" هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ عاقب اور سید نامی دو آدمی آئے، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے ارادے سے آئے تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ ان سے مباہلہ (اور ملاعنہ) مت کرو، کیونکہ اگر یہ واقعی نبی ہوئے اور انہوں نے ہمارے ساتھ ملاعنہ کر کے ہم پر لعنت بھیج دی تو ہم اور ہماری نسل کبھی کامیاب نہ ہو سکے گی، چنانچہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ سے مباہلہ نہیں کرتے، ہم آپ کو وہ دینے کے لئے تیار ہیں جس کا آپ مطالبہ کرتے ہیں، بس آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہو گا، یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوعبیدہ بن الجراح! کھڑے ہو جاؤ، جب وہ دونوں واپس جانے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کے امین ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3930]
حکم دارالسلام
إسناده من طريق أسود صحيح.
الحكم: إسناده من طريق أسود صحيح.
← پچھلی حدیث (3929) باب پر واپس اگلی حدیث (3931) →