أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ ، ابْنُ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أُمِرَ بِالْمَصَاحِفِ أَنْ تُغَيَّرَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ :" مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَغُلَّ مُصْحَفَهُ فَلْيَغُلَّهُ، فَإِنَّ مَنْ غَلَّ شَيْئًا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" قَرَأْتُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً"، أَفَأَتْرُكُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خمیر بن مالک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سرکاری حکم جاری ہوا کہ مصاحف قرآنی کو بدل دیا جائے (سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مصاحف کے علاوہ کسی اور ترتیب کو باقی نہ رکھا جائے)، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا: تم میں سے جو شخص اپنا نسخہ چھپا سکتا ہو، چھپا لے، کیونکہ جو شخص جو چیز چھپائے گا، قیامت کے دن اس کے ساتھ ہی آئے گا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک سے ستر سورتیں پڑھی ہیں، کیا میں ان چیزوں کو چھوڑ دوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک سے حاصل کی ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3929]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5000، م: 2462، وهذا إسناد ضعيف، خمير بن مالك انفرد بالرواية عنه أبو إسحاق السبيعي، ولم يوثقه غير ابن حبان.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5000، م: 2462، وهذا إسناد ضعيف، خمير بن مالك انفرد بالرواية عنه أبو إسحاق السبيعي، ولم يوثقه غير ابن حبان.