مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ الْأَسْوَدَ، وَعَلْقَمَةَ كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فِي الدَّارِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى هَؤُلَاءِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَصَلَّى بِهِمْ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، وَقَامَ وَسَطَهُمْ، وَقَالَ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا، فَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ، فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَضَعْ أَحَدُكُمْ يَدَيْهِ بَيْنَ فَخِذَيْهِ إِذَا رَكَعَ، فَلْيَحْنَأْ. فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں اسود اور علقمہ تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی اور خود ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: جب تم تین آدمی ہوا کرو تو اسی طرح کیا کرو، اور جب تم تین سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک آدمی کو امامت کرنی چاہئے، اور رکوع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے درمیان رکھ کر جھکنا چاہئے، کیونکہ وہ منطر میرے سامنے اب تک موجود ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیاں منتشر دیکھ رہا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4272]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 534.
الحكم: إسناده صحيح، م: 534.