ابْنُ إِدْرِيسَ ، الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّه
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّه ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا، ثُمَّ انْفَتَلَ، فَجَعَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ يُوَشْوِشُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالُوا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّيْتَ خَمْسًا. فَانْفَتَلَ، فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پانچ رکعتیں پڑھا دیں اور فراغت کے بعد رخ پھیر لیا، لوگوں کو تشویش ہونے لگی چنانچہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا کر منہ پھیر دیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر دیا اور فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہی ہوں اور جیسے تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4282]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 572.
الحكم: إسناده صحيح، م: 572.