عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، أَبِي وَائِلٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: تَكَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَلِمَةً فِيهَا مَوْجِدَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ تُقِرَّنِي نَفْسِي أَنْ أَخْبَرْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَوَدِدْتُ أَنِّي افْتَدَيْتُ مِنْهَا بِكُلِّ أَهْلٍ وَمَالٍ، فَقَالَ:" قَدْ آذَوْا مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) ثُمَّ أَخْبَرَ" أَنَّ نَبِيًّا كَذَّبَهُ قَوْمُهُ، وَشَجُّوهُ حِينَ جَاءَهُمْ بِأَمْرِ اللَّهِ، فَقَالَ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری آدمی نے ایسی بات کہی جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غصہ کا اظہار ہوتا تھا، میرا دل نہیں مانا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اطلاع دوں، کاش! میں اس بات کے بدلے اپنے اہل خانہ اور تمام مال و دولت کو فدیے کے طور پر پیش کر سکتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔“ پھر فرمایا کہ ”ایک نبی کو ان کی قوم نے جھٹلایا اور انہیں زخمی کیا کیونکہ وہ اللہ کے احکامات لے کر آئے تھے، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ ”پروردگار! میری قوم کو معاف فرما دے، یہ مجھے جانتے نہیں ہیں۔“ (واقعہ طائف کی طرف اشارہ ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4331]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.