عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ، الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : كُنْتُ مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ: فَوَلَّى عَنْهُ النَّاسُ، وَثَبَتَ مَعَهُ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ، فَنَكَصْنَا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قَدَمًا، وَلَمْ نُوَلِّهِمْ الدُّبُرَ، وَهُمْ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةَ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ يَمْضِي قُدُمًا، فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ، فَمَالَ عَنِ السَّرْجِ، فَقُلْتُ لَهُ: ارْتَفِعْ رَفَعَكَ اللَّهُ، فَقَالَ:" نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ"، فَضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ، فَامْتَلَأَتْ أَعْيُنُهُمْ تُرَابًا، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ؟" قُلْتُ: هُمْ أُولَاءِ، قَالَ:" اهْتِفْ بِهِمْ"، فَهَتَفْتُ بِهِمْ، فَجَاءُوا وَسُيُوفُهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهَا الشُّهُبُ، وَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا، لوگ ابتدائی طور پر پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار میں سے صرف اسی آدمی ثابت قدم رہے، ہم لوگ تقریبا اسی قدم پیچھے آ گئے، ہم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی، یہ وہی لوگ تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے سکینہ نازل فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت اپنے خچر پر سوار تھے اور آگے بڑھ رہے تھے، خچر کی رفتار تیز ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمین کی طرف جھک گئے، میں نے عرض کیا: سر اٹھائیے، اللہ آپ کو رفعتیں عطا فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ”مجھے ایک مٹھی مٹی اٹھا کر دو“، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ مٹی ان کے چہروں پر دے ماری اور مشرکین کی آنکھوں میں مٹی بھر گئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجرین و انصار کہاں ہیں؟“ میں نے عرض کیا: وہ یہ رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں آواز دو“، میں نے آواز لگائی تو وہ ہاتھوں میں ستاروں کی طرح چمکتی تلواریں لئے حاضر ہو گئے اور مشرکین پشت پھیر کر بھاگ گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4336]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبدالرحمن يترجح عدم سماعه هذا الخبر من أبيه.
الحكم: إسناده ضعيف، عبدالرحمن يترجح عدم سماعه هذا الخبر من أبيه.