عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْحِ جَبَلٍ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، وَهُمْ نِيَامٌ، قَالَ: إِذْ مَرَّتْ بِهِ حَيَّةٌ، فَاسْتَيْقَظْنَا، وَهُوَ يَقُولُ:" مَنَعَهَا مِنْكُمْ الَّذِي مَنَعَكُمْ مِنْهَا". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) " وَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا، فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا، فَأَخَذْتُهَا وَهِيَ رَطْبَةٌ بِفِيهِ، أَوْ فُوهُ رَطْبٌ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی پہاڑ کے غار میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ سو رہے تھے کہ اچانک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب سے ایک سانپ گزرا، ہم بیدار ہو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس ذات نے تمہیں اس سے محفوظ رکھا، اسی نے اسے تم سے محفوظ رکھا۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہوئی، جسے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ مبارک سے نکلتے ہی یاد کر لیا، ابھی وہ سورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک پر تازہ ہی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4335]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهمام العوذي - و إن سمع من عطاء بن السائب بعد اختلاطه - متابع.
الحكم: صحيح لغيره، وهمام العوذي - و إن سمع من عطاء بن السائب بعد اختلاطه - متابع.