بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 4339
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 4339
حدیث نمبر: 4339 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ بِالْمَوْسِمِ، فَرَاثَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي، قَالَ: فَرَأَيْتُهُمْ، فَأَعْجَبَتْنِي كَثْرَتُهُمْ، وَهَيْئَاتُهُمْ، قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ ؛ قَالَ حَسَنٌ: فَقَالَ: أَرَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ لَكَ مَعَ هَؤُلَاءِ ؛ قَالَ عَفَّانُ، وَحَسَنٌ: فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَهُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ"، فَقَامَ عُكَّاشَةُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَدَعَا لَهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مختلف امتیں دکھائی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کے آنے میں تاخیر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر مجھے میری امت دکھائی گئی، جس کی کثرت پر مجھے بہت تعجب ہوا کہ انہوں نے ہر ٹیلے اور پہاڑ کو بھر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان کے ساتھ ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے دعا کر دی، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4339]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم.
← پچھلی حدیث (4338) باب پر واپس اگلی حدیث (4340) →