مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِالْهَاجِرَةِ،" فَلَمَّا مَالَتْ الشَّمْسُ، أَقَامَ الصَّلَاةَ، وَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ صَاحِبِي، فَجَعَلَنَا عَنْ نَاحِيَتَيْهِ، وَقَامَ بَيْنَنَا"، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَصْنَعُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، ثُمَّ صَلَّى بِنَا. فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ أَئِمَّةٌ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا، فَلَا تَنْتَظِرُوهُمْ بِهَا، وَاجْعَلُوا الصَّلَاةَ مَعَهُمْ سُبْحَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوپہر کے وقت میں علقمہ کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوئی تو ہم دونوں ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک ہاتھ سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ سے میرے ساتھی کو اور ہمیں آگے کھینچ لیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص ایک کونے پر ہو گیا اور وہ خود ہمارے درمیان کھڑے ہو گئے، پھر انہوں نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے، پھر ہمیں نماز پڑھا کر فرمایا: عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کر دیا کریں گے، تم ان کا انتظار مت کرنا اور ان کے ساتھ نوافل کی نیت سے شریک ہو جایا کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4347]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 534، وهذا إسناد حسن، ابن إسحاق صرح بالتحديث فى الرواية الآتية برقم: 4386.
الحكم: صحيح لغيره، م: 534، وهذا إسناد حسن، ابن إسحاق صرح بالتحديث فى الرواية الآتية برقم: 4386.