بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
كِتَاب الْإِيمَانِ
ایمان کے احکام و مسائل
Sahih Muslim
Home کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل
# باب احادیث دیکھیں
1
باب: ایمان اور اسلام اور احسان کا بیان اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان کا بیان۔
باب بَيَانِ الْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ وَالْإِحْسَانِ وَوُجُوبِ الْإِيمَانِ بِإِثْبَاتِ قَدَرِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى وَبَيَانِ الدَّلِيلِ عَلَى التَّبَرِّي مِمَّنْ لَا يُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ وَإِغْلَاظِ الْقَوْلِ فِي حَقِّهِ.
93 – 96
2
باب: ایمان کی حقیقت اور اس کے خصال کا بیان۔
باب الإِيمَانُ مَا هُوَ وَبَيَانُ خِصَالِهِ:
97 – 98
3
باب: اسلام کی حقیقت اور اس کے خصال کا بیان۔
باب الإِسْلاَمُ مَا هُوَ وَبَيَانُ خِصَالِهِ:
10 – 99
4
باب: نمازوں کا بیان جو اسلام کا ایک رکن ہے۔
باب بَيَانِ الصَّلَوَاتِ الَّتِي هِيَ أَحَدُ أَرْكَانِ الإِسْلاَمِ:
100 – 101
5
باب: اسلام کے ارکان پوچھنے کا بیان۔
باب فِي بَيَانِ الإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَرَائِعِ الدِّينِ:
102 – 103
6
باب: بیان اس ایمان کا جس سے آدمی جنت میں جائے گا اور بیان اس بات کا کہ حکم بجا لانے والا جنت میں جائے گا۔
باب بَيَانِ الإِيمَانِ الَّذِي يُدْخَلُ بِهِ الْجَنَّةُ وَأَنَّ مَنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ:
104 – 110
7
باب: اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کا بیان۔
باب بَيَانِ أَرْكَانِ الْإِسْلَامِ وَدَعَائِمِهِ الْعِظَامِ
111 – 114
8
باب: اللہ و رسول اور دینی احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا دین کی باتوں کو پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو پہنچانا۔
باب الْأَمْرِ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَائِعِ الدِّينِ وَالدُّعَاءِ إِلَيْهِ وَالسُّؤَالِ عَنْهُ وَحِفْظِهِ وَتَبْلِيغِهِ مَنْ لَمْ يَبْلُغْهُ
115 – 120
9
باب: لوگوں کو شہادتین کی طرف بلانے اور اسلام کے ارکان کا بیان۔
باب الدُّعَاءِ إِلَى الشَّهَادَتَيْنِ وَشَرَائِعِ الإِسْلاَمِ:
121 – 123
10
باب: جب تک لوگ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» نہ کہیں ان سے لڑنے کا حکم۔
باب الْأَمْرِ بِقِتَالِ النَّاسِ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَيُؤْمِنُوا بِجَمِيعِ مَا جَاءَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَصَمَ نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهَا وَوُكِّلَتْ سَرِيرَتُهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَقِتَالِ مَنْ مَنَعَ الزَّكَاةَ أَوْ غَيْرَهَا مِنْ حُقُوقِ الْإِسْلَامِ وَاهْتِمَامِ الْإِمَامِ بِشَعَائِرِ الْإِسْلَامِ
124 – 131
11
باب: بیان اس بات کا کہ جو شخص مرتے وقت مسلمان ہو تو اس کا اسلام صحیح ہے جب تک حالت نزع نہ ہو یعنی جان کنی نہ شروع ہو اور مشرکین کے لیے دعا کرنا منع ہے اور جو شرک پر مرے گا وہ جہنمی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا۔
باب الدَّلِيلِ عَلَى صِحَّةِ إِسْلَامِ مَنْ حَضَرَهُ الْمَوْتُ مَا لَمْ يَشْرَعْ فِي النَّزْعِ وَهُوَ الْغَرْغَرَةُ وَنَسْخِ جَوَازِ الِاسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِينَ وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى الشِّرْكِ فَهُوَ فِي أَصْحَابِ الْجَحِيمِ وَلَا يُنْقِذُهُ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ مِنْ الْوَسَائِلِ
132 – 135
12
باب: موحد قطعی جنتی ہے۔
باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى التَّوْحِيدِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَطْعًا
136 – 150
13
باب: جو شخص اللہ تعالیٰ کو رب، اسلام کو دین، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مان کر راضی ہو وہ مومن ہے اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرے۔
باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَإِنْ ارْتَكَبَ الْمَعَاصِيَ الْكَبَائِرَ
34 – 151
14
باب: ایمان کی شاخوں کی تعداد، اور افضل اور ادنیٰ ایمان کا بیان، اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کا بیان۔
باب بَيَانِ عَدَدِ شُعَبِ الْإِيمَانِ وَأَفْضَلِهَا وَأَدْنَاهَا وَفَضِيلَةِ الْحَيَاءِ وَكَوْنِهِ مِنْ الْإِيمَانِ
152 – 158
15
باب: اسلام کے جامع اوصاف کا بیان۔
باب جَامِعِ أَوْصَافِ الإِسْلاَمِ:
38 – 159
16
باب: خصائل اسلام کا بیان اور اس بات کا بیان کہ اسلام میں کون سا کام افضل ہے۔
باب بَيَانِ تَفَاضُلِ الإِسْلاَمِ وَأَيِّ أُمُورِهِ أَفْضَلُ:
160 – 164
17
باب: ان خصلتوں کا بیان جن سے ایمان کی حلاوت حاصل ہوتی ہے۔
باب بَيَانِ خِصَالٍ مَنِ اتَّصَفَ بِهِنَّ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ:
165 – 167
18
باب: اہل خانہ، اولاد، والدین بلکہ تمام انسانوں سے بڑھ کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ضروری ہے۔ اور جس کا دل ایسی محبت سے خالی ہے وہ مومن نہیں۔
باب وُجُوبِ مَحَبَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنَ الأَهْلِ وَالْوَلَدِ وَالْوَالِدِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ وَإِطْلاَقِ عَدَمِ الإِيمَانِ عَلَى مَنْ لَمْ يُحِبَّهُ هَذِهِ الْمَحَبَّةَ:
168 – 169
19
باب: اس بات کا بیان کہ ایمان کی خصلت یہ ہے کہ جو اچھی چیز اپنے لیے پسند کرے اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرے۔
باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مِنْ خِصَالِ الإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ لأَخِيهِ الْمُسْلِمِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ:
170 – 171
20
باب: پڑوسی کو تکلیف پہنچانا حرام ہے۔
باب بَيَانِ تَحْرِيمِ إِيذَاءِ الْجَارِ:
46 – 172
21
باب: ہمسایہ اور مہمان کی خاطرداری کرنے کی ترغیب، اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے۔
باب الْحَثِّ عَلَى إِكْرَامِ الْجَارِ وَالضَّيْفِ وَلُزُومِ الصَّمْتِ إِلاَّ مِنَ الْخَيْرِ وَكَوْنِ ذَلِكَ كُلِّهِ مِنَ الإِيمَانِ:
173 – 176
22
باب: اس بات کا بیان کہ بری بات سے منع کرنا ایمان کی علامت ہے، اور یہ کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے، اور امر بالمعروف والنہی عن المنکر دونوں واجب ہیں۔
باب بَيَانِ كَوْنِ النَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ مِنَ الإِيمَانِ وَأَنَّ الإِيمَانَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ وَأَنَّ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاجِبَانِ:
177 – 180
23
باب: ایمان داروں کا ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت، اور یمن والوں کی ایمان میں ترجیح۔
باب تَفَاضُلِ أَهْلِ الإِيمَانِ فِيهِ وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ:
181 – 193
24
باب: جنت میں صرف مومن جائیں گے، اور مومنوں سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے، اور سلام کو عام کرنا محبت کا سبب ہے۔
باب بَيَانِ أَنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ وَأَنَّ مَحَبَّةَ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الإِيمَانِ وَأَنَّ إِفْشَاءَ السَّلاَمِ سَبَبٌ لِحُصُولِهَا:
194 – 195
25
باب: دین خیرخواہی کا نام ہے۔
باب بَيَانِ أَنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ:
196 – 201
26
باب: گناہوں سے ایمان کے گھٹ جانے اور بوقت گناہ گنہگار سے ایمان کے جدا ہو جانے یعنی گناہ کرتے وقت ایمان کا کامل نہ رہنے کا بیان۔
باب بَيَانِ نُقْصَانِ الإِيمَانِ بِالْمَعَاصِي وَنَفْيِهِ عَنِ الْمُتَلَبِّسِ بِالْمَعْصِيَةِ عَلَى إِرَادَةِ نَفْيِ كَمَالِهِ:
202 – 209
27
باب: منافق کی خصلتوں کا بیان۔
باب بَيَانِ خِصَالِ الْمُنَافِقِ:
210 – 214
28
باب: مسلمان بھائی کو کافر کہنے والے کے ایمان کے حال کا بیان۔
باب بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ قَالَ لأَخِيهِ الْمُسْلِمِ يَا كَافِرُ:
215 – 217
29
باب: علم کے باوجود اپنے باپ کے سوا اور کسی کا بیٹا کہلانے والے کے ایمان کا حال۔
باب بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ:
218 – 220
30
باب: اس حدیث کا بیان کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔
باب بَيَانِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ»:
221 – 222
31
باب: اس حدیث کا بیان کہ میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ ہو جانا۔
باب بَيَانِ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
223 – 226
32
باب: نسب میں طعن کرنے والے اور میت پر نوحہ کرنے والے پر کفر کا اطلاق۔
باب إِطْلاَقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى الطَّعْنِ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ:
67 – 227
33
باب: بھاگے ہوئے غلام کو کافر کہنے کا بیان۔
باب تَسْمِيَةِ الْعَبْدِ الآبِقِ كَافِرًا:
228 – 230
34
باب: اس شخص کے کفر کا بیان جو کہے کہ بارش ستاروں کی گردش ہوتی ہے۔
باب بَيَانِ كُفْرِ مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِالنَّوْءِ:
231 – 234
35
باب: انصار اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔
باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ حُبَّ الأَنْصَارِ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ مِنَ الإِيمَانِ وَعَلاَمَاتِهِ وَبُغْضَهُمْ مِنْ عَلاَمَاتِ النِّفَاقِ:
235 – 240
36
باب: عبادات کی کمی سے ایمان کا گھٹنا، اور کفر کا کفران نعمت پر اطلاق کا بیان۔
باب بَيَانِ نُقْصَانِ الإِيمَانِ بِنَقْصِ الطَّاعَاتِ وَبَيَانِ إِطْلاَقِ لَفْظِ الْكُفْرِ عَلَى غَيْرِ الْكُفْرِ بِاللَّهِ كَكُفْرِ النِّعْمَةِ وَالْحُقُوقِ:
241 – 243
37
باب: تارک الصلاۃ پر کفر کے اطلاق کا بیان۔
باب بَيَانِ إِطْلاَقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى مَنْ تَرَكَ الصَّلاَةَ:
244 – 247
38
باب: اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے۔
باب بَيَانِ كَوْنِ الإِيمَانِ بِاللَّهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الأَعْمَالِ:
248 – 256
39
باب: شرک سب سے بڑا گناہ ہے، اور اس کے بعد بڑے گناہوں کا بیان۔
باب كَوْنِ الشِّرْكِ أَقْبَحَ الذُّنُوبِ وَبَيَانِ أَعْظَمِهَا بَعْدَهُ:
257 – 258
40
باب: کبیرہ گناہوں اور اکبر الکبائر کا بیان۔
باب بَيَانِ الْكَبَائِرِ وَأَكْبَرِهَا:
259 – 264
41
باب: تکبر کے حرام ہونے کا بیان۔
باب تَحْرِيمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ:
265 – 267
42
باب: جو آدمی اللہ کے ساتھ شرک کیے بغیر مر گیا اس کے جنتی ہونے، اور جو شرک پر مرا اس کے جہنمی ہونے کا بیان۔
باب مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ مُشْرِكًا دَخَلَ النَّارَ:
268 – 273
43
باب: کافر کو لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
باب تَحْرِيمِ قَتْلِ الْكَافِرِ بَعْدَ أَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ:
274 – 279
44
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”جو آدمی ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
باب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا»:
280 – 282
45
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
باب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»:
283 – 284
46
باب: رخسار پر مارنا، گریبان چاک کرنا، اور جاہلیت کی چیخ و پکار کرنا حرام ہے۔
باب تَحْرِيمِ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ وَالدُّعَاءِ بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ:
285 – 289
47
باب: چغل خوری کی شدید اور سخت حرمت کا بیان۔
باب بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ النَّمِيمَةِ:
290 – 292
48
باب: ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے، احسان جتلانے، اور جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے کے سخت حرمت کا بیان، اور ان تین قسم کے لوگوں کا بیان جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔
باب بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ إِسْبَالِ الإِزَارِ وَالْمَنِّ بِالْعَطِيَّةِ وَتَنْفِيقِ السِّلْعَةِ بِالْحَلِفِ وَبَيَانِ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ:
293 – 299
49
باب: خودکشی کرنے کی سخت حرمت کا بیان، اور جو شخص خودکشی کرے گا اس کو آگ کا عذاب دیا جائے گا، اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا۔
باب غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الإِنْسَانِ نَفْسَهُ وَإِنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ وَأَنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ:
300 – 308
50
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے کی حرمت اور یہ کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔
باب غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ وَأَنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ:
309 – 310
51
باب: خودکشی کرنے والے کے کافر نہ ہونے کی دلیل۔
باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ قَاتِلَ نَفْسِهِ لاَ يَكْفُرُ:
116 – 311
52
باب: قرب قیامت میں ہوا کا ان لوگوں کو اٹھا لینا جن کے دلوں میں تھوڑا بھی ایمان ہو گا۔
باب فِي الرِّيحِ الَّتِي تَكُونُ قُرْبَ الْقِيَامَةِ تَقْبِضُ مَنْ فِي قَلْبِهِ شيء مِنَ الإِيمَانِ:
117 – 312
53
باب: فتنہ فساد پھیلنے سے پہلے نیک اعمال کی ترغیب۔
باب الْحَثِّ عَلَى الْمُبَادَرَةِ بِالأَعْمَالِ قَبْلَ تَظَاهُرِ الْفِتَنِ:
118 – 313
54
باب: مومن کا اپنے اعمال ضائع ہونے سے ڈرنا۔
باب مَخَافَةِ الْمُؤْمِنِ أَنْ يَحْبَطَ عَمَلُهُ:
314 – 317
55
باب: کیا اعمال جاہلیت پر مؤاخذہ ہو گا؟
باب هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ:
318 – 320
56
باب: اسلام، ہجرت، اور حج پہلے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔
باب كَوْنِ الإِسْلاَمِ يَهْدِمُ مَا قَبْلَهُ وَكَذَا الْهِجْرَةُ وَالْحَجُّ:
321 – 322
57
باب: اسلام لانے کے بعد کافر کے سابقہ اعمال کا حکم۔
باب بَيَانِ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ:
323 – 326
58
باب: ایمان کی سچائی اور خلوص کا بیان۔
باب صِدْقِ الإِيمَانِ وَإِخْلاَصِهِ:
327 – 328
59
باب: اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کا بیان کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔
باب بَيَانِ تَجَاوُزِ اللَّهِ تَعَالَى عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَالْخَوَاطِرِ بِالْقَلْبِ إِذَا لَمْ تَسْتَقِّرَ وَبَيَانِ أَنَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى لَمْ يُكَلِّفْ إِلَّا مَا يُطَاقُ وَبَيَانِ حُكْمِ الْهَمِّ بِالْحَسَنَةِ وَبِالسَّيِّئَةِ
329 – 330
60
باب: اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں۔
باب تَجَاوُزِ اللَّهِ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَالْخَوَاطِرِ بِالْقَلْبِ إِذَا لَمْ تَسْتَقِرَّ
331 – 333
61
باب: بندے کے نیکی کے ارادے کو لکھنے کا، اور بدی کے ارادے کو نہ لکھنے کا بیان۔
باب إِذَا هَمَّ الْعَبْدُ بِحَسَنَةٍ كُتِبَتْ وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ:
334 – 339
62
باب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
باب بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا:
340 – 352
63
باب: جھوٹی قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارنے پر جہنم کی وعید۔
باب وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ:
353 – 359
64
باب: غیر کا مال ناحق چھیننے والے کا خون رائیگان ہے اور اگر وہ اس لڑائی کے دوران قتل ہو جائے تو جہنمی ہے اور جو مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔
باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ قَصَدَ أَخْذَ مَالِ غَيْرِهِ بِغَيْرِ حَقٍّ كَانَ الْقَاصِدُ مُهْدَرَ الدَّمِ فِي حَقِّهِ وَإِنْ قُتِلَ كَانَ فِي النَّارِ وَأَنَّ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ:
360 – 362
65
باب: رعایا کے ساتھ خیانت کرنے والے حاکم کے لیے جہنم کی وعید۔
باب اسْتِحْقَاقِ الْوَالِي الْغَاشِّ لِرَعِيَّتِهِ النَّارَ:
363 – 366
66
باب: بعض دلوں سے امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا، اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان۔
باب رَفْعِ الأَمَانَةِ وَالإِيمَانِ مِنْ بَعْضِ الْقُلُوبِ وَعَرْضِ الْفِتَنِ عَلَى الْقُلُوبِ:
367 – 371
67
باب: اسلام ابتداء میں اجنبی تھا اور انتہاء میں بھی اجنبی ہو جائے گا اور دو مسجدوں میں سمٹ جائے گا۔
باب بَيَانِ أَنَّ الإِسْلاَمَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا وَأَنَّهُ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ:
372 – 374
68
باب: آخر زمانے میں ایمان کا رخصت ہو جانا۔
باب ذَهَابِ الإِيمَانِ آخِرَ الزَّمَانِ:
375 – 376
69
باب: خوف زدہ کے لیے ایمان کو پوشیدہ رکھنے کا جواز۔
باب جَوَازِ الاِسْتِسْرَارِ لِلْخَائِفِ:
149 – 377
70
باب: کمزور ایمان والے کی تالیف قلبی کرنا، اور بغیر دلیل کے کسی کو قطعی مومن کہنے کی ممانعت۔
باب تَأَلُّفِ قَلْبِ مَنْ يَخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ لِضَعْفِهِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْقَطْعِ بِالإِيمَانِ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ قَاطِعٍ.
378 – 381
71
باب: دلائل کے اظہار سے دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
باب زِيَادَةِ طُمَأْنِينَةِ الْقَلْبِ بِتَظَاهُرِ الأَدِلَّةِ:
382 – 384
72
باب: ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے عموم پر ایمان لانے کے وجوب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتوں کے منسوخ ہونے کا بیان۔
باب وُجُوبِ الإِيمَانِ بِرِسَالَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمِيعِ النَّاسِ وَنَسْخِ الْمِلَلِ بِمِلَّتِهِ:
385 – 388
73
باب: عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور ان کے شریعت محمدی کے موافق چلنے اور اللہ تعالیٰ کا اس امت کو عزت اور شرف عطا فرمانا اور اس بات کی دلیل کہ اسلام سابقہ ادیان کا ناسخ ہے اور قیامت تک ایک جماعت اسلام کی حفاظت میں کھڑی رہے گی۔
باب نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا بِشَرِيعَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
389 – 395
74
باب: اس زمانے کا بیان جب ایمان مقبول نہ ہو گا۔
باب بَيَانِ الزَّمَنِ الَّذِي لاَ يُقْبَلُ فِيهِ الإِيمَانُ:
396 – 402
75
باب: اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی (یعنی اللہ کا پیام) اترنا کیونکر شروع ہوا۔
باب بَدْءِ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
403 – 410
76
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
باب الإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَوَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ:
411 – 424
77
باب: مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کا بیان۔
باب فِي ذِكْرِ الْمَسِيحِ ابْنِ مَرْيَمَ وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ:
425 – 430
78
باب: سدرۃ المنتہیٰ کا بیان۔
باب فِي ذِكْرِ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى:
173 – 431
79
باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
باب مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الإِسْرَاءِ:
432 – 442
80
باب: اس بات کا بیان کہ یہ فرمانا وہ تو نور ہے میں اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں اور یہ فرمان کہ میں نے نور دیکھا۔
باب فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ». وَفِي قَوْلِهِ: «رَأَيْتُ نُورًا»:
443 – 444
81
باب: اس قول کے بارے میں کہ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور یہ قول کہ اس کا حجاب نور ہے اگر وہ اس کو کھول دے تو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کے چہرے کی شعاعیں اس کی مخلوق کو جلا ڈالیں۔
باب فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: «إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنَامُ». وَفِي قَوْلِهِ: «حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لأَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ»:
445 – 447
82
باب: اللہ تعالیٰ کا دیدار مؤمنوں کو آخرت میں ہو گا۔
باب إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الآخِرَةِ رَبَّهُمْ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى:
448 – 450
83
باب: اللہ کے دیدار کی کیفیت کا بیان۔
باب مَعْرِفَةِ طَرِيقِ الرُّؤْيَةِ:
451 – 456
84
باب: شفاعت کا ثبوت اور موحدوں کا جہنم سے نکالا جانا۔
باب إِثْبَاتِ الشَّفَاعَةِ وَإِخْرَاجِ الْمُوَحِّدِينَ مِنَ النَّارِ:
457 – 460
85
باب: جہنم سے جو آخری شخص نکلے گا۔
باب آخِرِ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا:
461 – 463
86
باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
باب أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا:
464 – 482
87
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہلا شخص ہوں گا جنت کے متعلق سفارش کرنے والا اور باقی نبیوں سے میرے تابع دار زیادہ ہوں گے“۔
باب فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَا أَكْثَرُ الأَنْبِيَاءِ تَبَعًا»:
483 – 486
88
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے لیے شفاعت کی دعا کا مؤخر کرنا۔
باب اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لأُمَّتِهِ:
487 – 498
89
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا اپنی امت کے لئے اور رونا ان کے حال پر شفقت سے۔
باب دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُمَّتِهِ وَبُكَائِهِ شَفَقَةً عَلَيْهِمْ:
202 – 499
90
باب: جو شخص کفر پر مرے وہ جہنم میں جائے گا اور اس کی شفاعت نہ ہو گی اور بزرگوں کی بزرگی اس کے کچھ کام نہ آئے گی۔
باب بَيَانِ أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى الْكُفْرِ فَهُوَ فِي النَّارِ وَلاَ تَنَالُهُ شَفَاعَةٌ وَلاَ تَنْفَعُهُ قَرَابَةُ الْمُقَرَّبِينَ:
203 – 500
91
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے نبی! اپنے قرابت داروں کو ڈراؤ۔
باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ}:
501 – 509
92
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف ہونے کا بیان۔
باب شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ:
510 – 513
93
باب: آگ کا عذاب جس کو سب سے کم ہو گا۔
باب أَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا:
514 – 517
94
باب: کفر کی حالت میں مرنے والے شخص کو اس کا کوئی عمل کام نہ آئے گا۔
باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى الْكُفْرِ لاَ يَنْفَعُهُ عَمَلٌ:
214 – 518
95
باب: مومن سے دوستی رکھنے اور غیر مومن سے دوستی قطع کرنے اور ان سے جدا رہنے کا بیان۔
باب مُوَالاَةِ الْمُؤْمِنِينَ وَمُقَاطَعَةِ غَيْرِهِمْ وَالْبَرَاءَةِ مِنْهُمْ:
215 – 519
96
باب: مسلمانوں کے ایک گروہ کا بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے کا بیان۔
باب الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلاَ عَذَابٍ:
520 – 528
97
باب: جنت کے آدھے لوگ اس امت کے ہوں گے۔
باب كَوْنِ هَذِهِ الأُمَّةِ نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ:
529 – 531
98
باب: اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو کہیں گے کہ ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخی نکال لو۔ (ایک جنتی باقی دوزخی)
باب قَوْلِهِ: «يَقُولُ اللَّهُ لآدَمَ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ»:
532 – 533