بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جہنم سے جو آخری شخص نکلے گا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: جہنم سے جو آخری شخص نکلے گا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 186 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا، أَوْ إِنَّ لَكَ عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي، أَوْ أَتَضْحَكُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: فَكَانَ يُقَالُ: ذَاكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
منصور نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں اسے جانتا ہوں جو دوزخ والوں میں سب سے آخر میں اس سے نکلے گا اور جنت والوں میں سے سب سے آخر میں جنت میں جائے گا۔ وہ ایسا آدمی ہے جو ہاتھوں اور پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ جنت میں آئے گا تو اسے یہ خیال دلایا جائے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس آ کر عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے تو وہ بھری ہوئی ملی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جا۔ آپ نے فرمایا: وہ (دوبارہ) جائے گا تو اسے یہی لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس آ کر (پھر) کہے گا: اے میرے رب! میں نے تو اسے بھری ہوئی پایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جا۔ تیرے لیے (وہاں) پوری دنیا کے برابر اور اس سے دس گنا زیادہ جگہ ہے (یا تیرے لیے دنیا سے دس گنا زیادہ جگہ ہے) آپ نے فرمایا: وہ شخص کہے گا: کیا تو میرے ساتھ مزاح کرتا ہے (یا میری ہنسی اڑاتا ہے) حالانکہ تو ہی بادشاہ ہے؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: چنانچہ یہ کہا جاتا تھا کہ یہ شخص سب سے کم مرتبہ جنتی ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 461]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 461 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا، أَوْ إِنَّ لَكَ عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي، أَوْ أَتَضْحَكُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: فَكَانَ يُقَالُ: ذَاكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
منصور نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں اسے جانتا ہوں جو دوزخ والوں میں سب سے آخر میں اس سے نکلے گا اور جنت والوں میں سے سب سے آخر میں جنت میں جائے گا۔ وہ ایسا آدمی ہے جو ہاتھوں اور پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ جنت میں آئے گا تو اسے یہ خیال دلایا جائے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس آ کر عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے تو وہ بھری ہوئی ملی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جا۔ آپ نے فرمایا: وہ (دوبارہ) جائے گا تو اسے یہی لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس آ کر (پھر) کہے گا: اے میرے رب! میں نے تو اسے بھری ہوئی پایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جا۔ تیرے لیے (وہاں) پوری دنیا کے برابر اور اس سے دس گنا زیادہ جگہ ہے (یا تیرے لیے دنیا سے دس گنا زیادہ جگہ ہے) آپ نے فرمایا: وہ شخص کہے گا: کیا تو میرے ساتھ مزاح کرتا ہے (یا میری ہنسی اڑاتا ہے) حالانکہ تو ہی بادشاہ ہے؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: چنانچہ یہ کہا جاتا تھا کہ یہ شخص سب سے کم مرتبہ جنتی ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 461]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 186 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ آخَرُ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَذْهَبُ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ، فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى، فَيُقَالُ لَهُ: لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ "، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(منصور کے بجائے) اعمش نے ابراہیم سے، سابقہ سند کے ساتھ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں یقیناً دوزخ والوں میں سے سب سے آخر میں نکلنے والے کو جانتا ہوں۔ وہ پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا اس میں سے نکلے گا۔ اس سے کہا جائے گا: چل جنت میں داخل ہو جا۔ آپ نے فرمایا: وہ جائے گا اور جنت میں داخل ہو جائے گا تو وہ دیکھے گا کہ سب منزلیں لوگ سنبھال چکے ہیں۔ اس سے کہا جائے گا: کیا تجھے وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو تھا؟ وہ کہے گا: ہاں! تو اس سے کہا جائے گا: تمنا کر، وہ تمنا کرے گا تو اسے کہا جائے گا: تم نے جو تمنا کی وہ تمہاری ہے اور پوری دنیا سے دس گنا مزید بھی (تمہارا ہے۔) وہ کہے گا: تو بادشاہ ہو کر میرے ساتھ مزاح کرتا ہے؟ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 462]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 462 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ آخَرُ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَذْهَبُ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ، فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى، فَيُقَالُ لَهُ: لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ "، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(منصور کے بجائے) اعمش نے ابراہیم سے، سابقہ سند کے ساتھ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں یقیناً دوزخ والوں میں سے سب سے آخر میں نکلنے والے کو جانتا ہوں۔ وہ پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا اس میں سے نکلے گا۔ اس سے کہا جائے گا: چل جنت میں داخل ہو جا۔ آپ نے فرمایا: وہ جائے گا اور جنت میں داخل ہو جائے گا تو وہ دیکھے گا کہ سب منزلیں لوگ سنبھال چکے ہیں۔ اس سے کہا جائے گا: کیا تجھے وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو تھا؟ وہ کہے گا: ہاں! تو اس سے کہا جائے گا: تمنا کر، وہ تمنا کرے گا تو اسے کہا جائے گا: تم نے جو تمنا کی وہ تمہاری ہے اور پوری دنیا سے دس گنا مزید بھی (تمہارا ہے۔) وہ کہے گا: تو بادشاہ ہو کر میرے ساتھ مزاح کرتا ہے؟ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 462]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 187 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ، فَهْوَ يَمْشِي مَرَّةً، وَيَكْبُو مَرَّةً، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً، فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ، لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَعَلِّي إِنَّ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَى، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْه، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَيَيْنِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا؟ فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ، أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا؟ قَالَ: يَا رَبِّ، أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟"، فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ؟ فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ؟ قَالَ: هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مِنْ ضِحْكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، حِينَ قَالَ: أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟، فَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ، وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
انس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے آخر میں وہ آدمی داخل ہو گا جو کبھی چلے گا، کبھی چہرے کے بل گرے گا اور کبھی آگ سے جھلسا دے گی۔ جب وہ آگ سے نکل آئے گا تو پلٹ کر اس کو دیکھے گا اور کہے گا: بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دے دی۔ اللہ نے مجھے ایسی چیز عطا فرما دی جو اس نے اگلوں پچھلوں میں سے کسی کو عطا نہیں فرمائی۔ اسے بلندی پر ایک درخت کے قریب کر دیا جائے گا تاکہ میں اس کے سائے میں دھوپ سے نجات حاصل کروں اور اس کے پانی سے پیاس بجھاؤں۔ اس پر اللہ عزوجل فرمائے گا: اے ابن آدم! ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں یہ درخت دے دوں تو تم مجھ سے اس کے سوا کچھ اور مانگو۔ وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اور اللہ کے ساتھ عہد کرے گا کہ وہ اس سے اور کچھ نہ مانگے گا۔ اس کا پروردگار اس کے عذر قبول کر لے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر وہ صبر کر ہی نہیں سکتا۔ تو اللہ تعالیٰ اسے اس (درخت) کے قریب کر دے گا اور وہ اس کے سائے میں دھوپ سے محفوظ ہو جائے گا اور اس کا پانی پیے گا، پھر اسے اوپر ایک اور درخت دکھایا جائے گا جو پہلے درخت سے زیادہ خوبصورت ہو گا تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے پانی سے سیراب ہوں اور اس کے سائے میں آرام کروں، میں تجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تم نے مجھ سے وعدہ نہ کیا تھا کہ تم مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے؟ اور فرمائے گا: مجھے لگتا ہے اگر میں تمہیں اس کے قریب کر دوں تو تم مجھ سے کچھ اور بھی مانگو گے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرے گا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگے گا، اس کا رب تعالیٰ اس کا عذر قبول کر لے گا، کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس کے سامنے اس سے صبر نہیں ہو سکتا۔ اس پر اللہ اسے اس درخت کے قریب کر دے گا۔ وہ اس کے سائے کے نیچے آ جائے گا اور اس کے پانی سے پیاس بجھائے گا۔ اور پھر ایک درخت جنت کے دروازے کے پاس دکھایا جائے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہو گا تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے سے فائدہ اٹھاؤں اور اس کے پانی سے پیاس بجھاؤں، میں تم سے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تم نے میرے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ اور کچھ نہیں مانگو گے؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں میرے رب! (وعدہ کیا تھا) بس یہی، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ اس کا رب اس کا عذر قبول کر لے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر وہ صبر کر ہی نہیں سکتا۔ تو وہ اس شخص کو اس (درخت) کے قریب کر دے گا تو وہ اہل جنت کی آوازیں سنے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس میں داخل کر دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! وہ کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے؟ کیا تم اس سے راضی ہو جاؤ گے کہ میں تمہیں ساری دنیا اور اس کے برابر اور دے دوں؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو میری ہنسی اڑاتا ہے جبکہ تو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور کہا: کیا تم مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے کہ میں کیوں ہنسا؟ سامعین نے پوچھا: آپ کیوں ہنسے؟ کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنسے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا تھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: رب العالمین کے ہنس پڑنے پر، جب اس نے کہا کہ تو سارے جہانوں کا رب ہے، میری ہنسی اڑاتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: میں تیری ہنسی نہیں اڑاتا بلکہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 463]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 463 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ، فَهْوَ يَمْشِي مَرَّةً، وَيَكْبُو مَرَّةً، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً، فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ، لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَعَلِّي إِنَّ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَى، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْه، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَيَيْنِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا؟ فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ، أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا؟ قَالَ: يَا رَبِّ، أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟"، فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ؟ فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ؟ قَالَ: هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مِنْ ضِحْكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، حِينَ قَالَ: أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟، فَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ، وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
انس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے آخر میں وہ آدمی داخل ہو گا جو کبھی چلے گا، کبھی چہرے کے بل گرے گا اور کبھی آگ سے جھلسا دے گی۔ جب وہ آگ سے نکل آئے گا تو پلٹ کر اس کو دیکھے گا اور کہے گا: بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دے دی۔ اللہ نے مجھے ایسی چیز عطا فرما دی جو اس نے اگلوں پچھلوں میں سے کسی کو عطا نہیں فرمائی۔ اسے بلندی پر ایک درخت کے قریب کر دیا جائے گا تاکہ میں اس کے سائے میں دھوپ سے نجات حاصل کروں اور اس کے پانی سے پیاس بجھاؤں۔ اس پر اللہ عزوجل فرمائے گا: اے ابن آدم! ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں یہ درخت دے دوں تو تم مجھ سے اس کے سوا کچھ اور مانگو۔ وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اور اللہ کے ساتھ عہد کرے گا کہ وہ اس سے اور کچھ نہ مانگے گا۔ اس کا پروردگار اس کے عذر قبول کر لے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر وہ صبر کر ہی نہیں سکتا۔ تو اللہ تعالیٰ اسے اس (درخت) کے قریب کر دے گا اور وہ اس کے سائے میں دھوپ سے محفوظ ہو جائے گا اور اس کا پانی پیے گا، پھر اسے اوپر ایک اور درخت دکھایا جائے گا جو پہلے درخت سے زیادہ خوبصورت ہو گا تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے پانی سے سیراب ہوں اور اس کے سائے میں آرام کروں، میں تجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تم نے مجھ سے وعدہ نہ کیا تھا کہ تم مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے؟ اور فرمائے گا: مجھے لگتا ہے اگر میں تمہیں اس کے قریب کر دوں تو تم مجھ سے کچھ اور بھی مانگو گے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرے گا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگے گا، اس کا رب تعالیٰ اس کا عذر قبول کر لے گا، کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس کے سامنے اس سے صبر نہیں ہو سکتا۔ اس پر اللہ اسے اس درخت کے قریب کر دے گا۔ وہ اس کے سائے کے نیچے آ جائے گا اور اس کے پانی سے پیاس بجھائے گا۔ اور پھر ایک درخت جنت کے دروازے کے پاس دکھایا جائے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہو گا تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے سے فائدہ اٹھاؤں اور اس کے پانی سے پیاس بجھاؤں، میں تم سے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تم نے میرے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ اور کچھ نہیں مانگو گے؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں میرے رب! (وعدہ کیا تھا) بس یہی، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ اس کا رب اس کا عذر قبول کر لے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر وہ صبر کر ہی نہیں سکتا۔ تو وہ اس شخص کو اس (درخت) کے قریب کر دے گا تو وہ اہل جنت کی آوازیں سنے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس میں داخل کر دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! وہ کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے؟ کیا تم اس سے راضی ہو جاؤ گے کہ میں تمہیں ساری دنیا اور اس کے برابر اور دے دوں؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو میری ہنسی اڑاتا ہے جبکہ تو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور کہا: کیا تم مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے کہ میں کیوں ہنسا؟ سامعین نے پوچھا: آپ کیوں ہنسے؟ کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنسے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا تھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: رب العالمین کے ہنس پڑنے پر، جب اس نے کہا کہ تو سارے جہانوں کا رب ہے، میری ہنسی اڑاتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: میں تیری ہنسی نہیں اڑاتا بلکہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 463]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة