مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْبَصْرِيُّ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو قَزَعَةَ ، أَبَا نَضْرَةَ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ، وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّأَخْبَرَهُ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ، مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الأَشْرِبَةِ؟ فَقَالَ: " لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ "، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ، أَوَ تَدْرِي مَا النَّقِيرُ؟ قَالَ: " نَعَمْ، الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَى ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بکار بصری، عاصم بن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوقرعہ، ابونضرہ، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر قربان، کون سے برتن میں پینا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لکڑی کے برتن میں نہ پیا کرو۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! لکڑی کا کھٹلا کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لکڑی کو اندر سے کھود کر برتن بنانے کو کھٹلا کہتے ہیں اور لکڑی کے تونبے میں بھی نہ پیا کرو اور سبز کھڑی میں بھی نہ پیا کرو، مگر چمڑے کے برتن میں پی لیا کرو جس کا منہ ڈوری سے باندھ دیا جاتا ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 120]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة